| 84033 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام وعلیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ہم Make Life کے نام سے ایک بزنس کمپنی چلا رہے ہیں ۔ جو کہ مختلف بزنسز جیسے کی رئیل اسٹیٹ، فارم لینڈ، ڈیری فارم، ٹریول اینڈ ٹورم، ہوٹلنگ، جنرل ٹریڈنگ 2020 سے کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی نے اپنے نام پر بیوٹی پراڈکٹس بھی لانچ کی ہیں۔ الحمد اللہ ،کمپنی کوئی بھی ایسا بزنس یا پراڈکٹس پر کام نہیں کر رہی، جس کی شرعی اور پاکستان قوانین میں ممانعت ہو ۔ ہم نے 2020 سے اپنے بزنس کا آغاز کیا تھا اور جنوری 2024 سے کمپنی اپنے کاروبار کو بڑھانے کیلئے انویسٹمنٹ لے رہی ہے اور اس پر پرافٹ دیتی ہے، جس کی شرح پرافٹ ماہانہ اخراجات کومنہا کرنے کے بعد 50/50 فیصد کے تناسب سے ہے، جو کہ 8 سے 12 فیصد بنتی ہے۔ یہ پرافٹ ماہانہ اخراجات کو منہاکرنے کے بعد کمپنی اور انویسٹرز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کمپنی باقاعدہ طور پرحکومت کے اداروں (FBR, SECP) سے رجسٹرڈ ہے۔ کمپنی اپنے کاروباری اصولوں کو قانونی اور شرعی اعتبار کے مطابق ترمیم کرتی رہتی ہے تاکہ انویسٹرز اور کمپنی کی سرمایہ کاری محفوظ رہے، کمپنی اور انویسٹرز کا رشتہ مزید مضبوط ہو اور ان کو بہتر سے بہتر فوائد حاصل ہوں ۔ اس کے ساتھ سرمایا کار نفع اور نقصان میں شرعی اصولوں کے مطابق برابر کا شریک ہے۔ معاہدے کی وہ شرائط جو واضح ہیں:
1. کمپنی ہر ماہ اپنے انویسٹرز کو 8 سے 12 فیصد منافع دینے کی پابند ہے ،جو ہر ماہ کی 5 سے 10 تاریخ تک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔
2. اگر نقصان ہوتا ہے، تو پھر پہلے نقصان کی بھر پائی ہوگی ،اس کے بعد بقایا رقم انویسٹمنٹ کے تناسب سے واپس کر دی جائےگی۔
3. کمپنی اپنی پراڈکٹس کی مارکیٹنگ اور پروموشن کیلئے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کا استعمال کرتی ہے۔ جس پر سرمایا کار کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
4. جب معاہدہ ختم ہوگا تو کمپنی معاہدے کے مطابق انویسٹرز کو اس کی اصل رقم واپس کرنے کی ذمہ دارہوگی۔
مندرجہ بالا شرائط اور قواعد کی صورت میں کیا کمپنی کا کام شریعت سے منافی تو نہیں ؟
تنقیح:کمپنی کے کاروبار کے حوالے سے سائل سے تفصیلی بات ہوئی ہے،فی الوقت کمپنی کے پاس عوام سے فنڈ اکٹھا کرنے اور انویسٹمنٹ لینے کا لائسنس ودیگر قانونی اجازت نامہ نہیں ہے،نیز سائل نے کمپنی کے کاروباری ڈاکومنٹس مثلا کمپنی کی سیلز کہاں اور کس طرح ہورہی ہیں؟ اور انویسٹمنٹ کہاں اور کس طرح لگائی جارہی ہے، پیش نہیں کیے ہیں ، محض زبانی ان باتوں کی وضاحت کی ہے،البتہ کمپنی کے پاس صرف SECP اور FBR کا رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ ہے، اس کے علاوہ کوئی قانونی کاغذات نہیں ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی کمپنی میں انویسٹمنٹ سے پہلے چند باتوں کا جائزہ لینا ضروری ہے:
1. کمپنی متعلقہ حکومتی ادارےمثلا SECP سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہو۔
2. نیزاسےعوام سےفنڈزاکٹھا کرنےاوراس پر نفع تقسیم کرنے کی قانونی اجازت (لائسنس) حاصل ہو۔
ان دو باتوں کی وضاحت یہ ہے کہ SECP سے رجسٹرڈ ہر ادارے اور کمپنی کو عوام سے فنڈز اکٹھے کرنے اور اس پر نفع دینے کی اجازت نہیں ہوتی ہے ،بلکہ صرف مخصوص طرح کی کمپنیوں کو مخصوص شرائط کے ساتھ ایسا کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔مثلاً ہماری معلومات کے مطابق آ ج کل ان اداروں کو ایس ای سی پی کی طرف سے عوام سے فنڈز اکٹھا کرنےاوراس پرنفع دینے کی اجازت ہوتی ہے:مخصوص مضاربہ کمپنیاں، مخصوص نان بینکنگ فائنانشل کمپنیاں،میوچل فنڈ، پینشن فنڈ،تکافل کمپنیاں،پاکستان سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیاں،اسی طرح وہ کمپنی اسی طریقے سے فنڈز اکٹھے کرے جس طریقے سے فنڈز اکٹھے کرنے کی اسے اجازت ہو۔
3. کمپنی متعلقہ میدان کے ماہر اور تجربہ کار مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں کام کر رہی ہو اور یہ مفتیان کرام کمپنی کی کاروباری سرگرمیوں اور آمدن وغیرہ کے نظام کی باقاعدہ مسلسل نگرانی اور اس نظام کے درست ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کریں۔
ان شرائط کا بیک وقت پایا جانا ضروری ہے۔ ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے، تو ایسی کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنے اور اس کے کاروبار کے جائزہونے کا فتوی جاری نہیں کیا جاسکتا، اس لیے اگر کوئی کمپنی بالترتیب ان تین شرائط پر پوری اترنے کی دعوے دار ہو،تواس کے لائسنس، رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، شریعہ سرٹیفکیٹ اور نگرانی کرنے والے مفتیان کرام کے نام بھیج کر کسی مستند دارالافتاء سے اپنے کاروبار سے متعلق سوال پوچھ لینا چاہیے۔(ماخوذ از تبویب:77213)
اس اصولی حکم کے بعد ہم مذکورہ کمپنی (میک لائف) کے ساتھ مالی معاملات ، شرکت ،سرمایہ کاری اور اس کے کاروبار کے جائز و ناجائز ہونے کے بارے میں کوئی حتمی فتوی نہیں دے سکتے اور جو انویسٹر (سرمایہ کار) اس کمپنی کے ساتھ معاملات کرنا چاہتا ہے، وہ خود شرعی اور قانونی تحقیق کرکے اس میں شریک ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرلے۔
حوالہ جات
۔۔..
صفی اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
01/ذو الحجۃ /1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


