03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لیونگ سٹون ریسرچ(Livingston Research)سےکمائی کا حکم
84028جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میں ا نٹرنیٹ پر ایک ویب سائٹ Livingstone Research پرپارٹ ٹائم کام کرتا ہوں ،یہ ویب سا ئٹ UK based ہے جوکہ academic writing services مہیا کرتی ہے اورہمارے اور کلائنٹ کے بیچ کا کام کرتی ہے ، ہم ڈاریکٹلی(براہ راست) کلائنٹ کے ساتھ کسی ذریعے سے رابطہ نہیں کر سکتے، ہمارا کام یہ ہے کہ ویب سائٹ کی ٹائم لائن پہ آرڈرز شو ہوتے ہیں اور ان کی مکمل تفصیل بھی موجود ہوتی ہے،  آرڈرز مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں جو کہ مختلف مضامین مثلا سائنس، فائنانس، ریاضی، کیمسٹری، فزکس، انجینئرنگ، سوشیالوجی اور اس طرح کے تقریبا تمام مضامین کو  شامل ہوتے ہیں، ہر آرڈر مختلف طرح کا ہوتا ہےکبھی مضمون لکھ کے دینا ہوتا ہے،کبھی کوئی کووز (Quiz)کرنا ہوتا ہے،کبھی سوالات کے جوابات دینے ہوتے ہیں ،کبھی کسی سبجیکٹ کا پراجیکٹ کرنا ہوتا ہے، ان آرڈرز کی مخصوص ڈیڈ لائن( Deadline) ہوتی ہے اور آرڈر زکی قیمتیں بھی کمپنی کی طرف سے پہلے سے طے ہوتی ہیں ،ڈیڈ لائن کے اند اس آرڈر کو اچھےطریقہ  سےمکمل کرنے پہ کمپنی ہمیں ڈالرز میں سیلری دیتی ہے،اچھے آرڈر کے لیے اسکی مائیکرسافٹ ورڈ فائل میں مخصوص فارمیٹنگ مثلا MLA, APA میں لکھنا، 10 فیصد سے کم پلیجیریزم اور اچھا و معیاری کونٹینٹ لکھنا، اگر ہم ان تینوں شرائط میں سے کسی پہ پورا نہیں اترتے اور کلائنٹ مطمئن نہیں ہوتا تو ہمیں جرمانہ  بھی ہوتا ہے مزید یہ کہ  ایک ہی وقت میں اگر 4 وارننگ آ جائیں تو اکاؤنٹ بند کردیا جاتا ہےاور اگر اچھا کام کیا جائے تو  بونس  اورسٹارز ملتے ہیں اور ریٹنگ بہتر ہوتی ہے ۔ اس ساری تفصیل اور ویب سائٹ کے کام کرنے کے طریقہ کار بیان کرکے میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری یہ کمائی حلال ہے اور میرا یہ کام کرنا شرعا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہماری معلومات کی مطابق  اس  ویب سائٹ کاکام مختلف کلائنٹس سے رابطہ کرکے ان کے ہوم ورکس اور دیگر کالج ویونیورسٹی سے متعلقہ امور میں کچھ رقم کے عوض متعلقہ کام کرکے دینا ہے ،چونکہ  کالج و  یونیورسٹی  کا کسی طالب علم کو ہوم ورکس یا کوئی اورتعلیم سے متعلق کام  دینے  کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ  طالب علم کام خود کرےتاکہ اس کی  استعداد  بڑھ جائے،اس لئےاگر کوئی طالب علم کسی  ویب سائٹ سے اپنے ہوم ورکس وغیرہ لکھواتاہے ،تویہ دھوکہ اور غلط بیانی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے،اس طرح ویب سائٹ کے لئے  یہ کام (دوسروں کے ہوم ورکس  وغیرہ کرنا) بھی ناجائز کام  میں تعاون ہونے کی وجہ سے  حرام ہے،چونکہ آپ بھی اسی ویب سائٹ کے لئے کام کررہے ہو اس لئے اس کام سے حاصل شدہ کمائی ناجائز ہے ۔

حوالہ جات

القرآن الکریم (5/ 2):

 وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ.

فقہ البیوع(2/1023):

حكم الفنادق والمطاعم التي تباع فيها الخمور:

 أما الفنادق والمطاعم والخطوط الجوية التي تباع فيها الخموروالأشياء المحرمة، فالأحسن للمسلم المتدين أن يجتنب التعامل معها مهما وجد لذلك سبيلاً، وذلك لئلا يكون منه تشجيع لمن يتعاطون المحرمات، وليظهر نفرته من ذلك، ولكن أموالها تدخل في الصورة الثالثة من القسم الثالث، وهو المختلط من الحلال والحرام. وحكمها. كان كذلك أنه يسع التعامل معها في الأغذية المباحة بيعاً وشراء واتهاباً بقدر ما فيها من الحلال، وإن كان لا يُعرف قدر الحلال، فهو داخل في الصورة الرابعة من القسم الثالث، وحكمه أنه يسع التعامل معها إن لم يغلب على الظن أنه فوق قدر الحلال.

أما قبول الوظائف في مثل هذه الفنادق والمطاعم، فإن كانت الوظيفة متمحضة لخدمة مباحة، فهي جائزة، وتجري على راتبها حكم المال الحلال، وإن كانت متمحضة للحرام، مثل: بيع الخمر، فهي حرام، وراتبها حرام.

What we do

  • Livingston Research delivers study help and support to students around the world since 2009.
  • We aim to solve the main problem of current education system - lack of personal support for students.
  • We have created a platform which connects students to a network of thousands of verified tutors to get help with their homework and anything related to college.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

02/ ذی الحجہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب