| 84086 | قربانی کا بیان | قربانی کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے گھر کے عقب میں گذشتہ تین سالوں سے ایک نجی ویلفیئر تنظیم اجتماعی قربانی کا اہتمام کرتی ہےاور قربانی کے بعد خون اور آلائشوں کے سڑنے سے انتہائی شدید تعفن پورے علاقے میں پھیل جاتا ہے،علاقہ مکینوں کو شدید تکلیف ہوتی ہے اور یہ تعفن بیس سے پچیس دن تک رہتا ہے اور اس سے حشرات اور مچھر وغیرہ پیدا ہوتے ہیں ،یہ ایک الگ مسئلہ ہے، ہم نے پچھلے سال اور اس سال انہیں یہ کام کرنے سے منع کیا ،مگر وہ لوگ بضد ہیں کہ وہ قربانی اسی جگہ کریں گے،لہٰذا ہمارا سوال یہ ہےکہ کسی کو تکلیف دے کر قربانی کی جائے تو وہ قربانی جائز ہوتی ہے؟اور جو اس قربانی میں حصہ ڈالتے ہیں کیا ان کی قربانی مشکوک ہے؟باوجود اس کے کہ اگر حصہ داروں کو معلوم ہو کہ اس قربانی سے اہل محلہ کو تکلیف ہوتی ہےاور کیا ایسی اجتماعی قربانی میں حصہ لینا جائز ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اجتماعی قربانی فی نفسہ ایک جائز عمل ہےاور ایک اہم فریضے کی ادائیگی کے لیے اس کو اختیار کیا جاتا ہے،معاشرے کے بہت سے لوگ بسا اوقات انتظامی مجبوری کی وجہ سے یا مالی استطاعت کمزور ہونے کی وجہ سے انفرادی طور پر قربانی کرنے سے عاجز ہوتے ہیں،مثلاً گنجان آبادی والے علاقوں میں یا فلیٹس وغیرہ میں، رہائش پذیر لوگوں کے پاس بسا اوقات انفرادی قربانی کا اہتمام کرنے کے لیے مناسب جگہ کا انتظام نہیں ہوتا،اسی طرح بسااوقات گھر میں ایسے افراد میسر نہیں ہوتے جو جانور کی خریداری ،اس کی دیکھ بھال اور پھر قربانی وغیرہ کاانتظام کرسکیں ،اسی طرح انفرادی قربانی کے اہتمام میں بنسبت اجتماعی قربانی کے کافی زیادہ اخراجات ہوتے ہیں،لہٰذا شریعت مطہرہ نے معاشرے کے تمام افراد کی رعایت رکھتے ہوئے اجتماعی قربانی کے نظم کی ممانعت نہیں فرمائی تاکہ کوئی بھی شخص جو قربانی کرنا چاہتا ہو وہ بسہولت اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کرسکے،اگر خدا نخواستہ اجتماعی قربانی کی حوصلہ شکنی کی جائے یا معمولی عذر کی وجہ سے اس سلسلے کو بالکلیہ ترک کردیا جائے تو خدشہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی واجب قربانی سے بھی محروم ہوجائیں گے،لہٰذا انفردای قربانی کے ساتھ ساتھ اجتماعی قربانی کے مستند نظام کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور کسی معمولی عذر کی وجہ سے اجتماعی قربانی کے نظم کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیے۔رہی بات یہ کہ اگر اجتماعی قربانی کی وجہ سے اہل محلہ کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا ہوتو اس صورت میں کیا کیا جائے؟اس حوالے سے سب سے پہلی ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ لوگوں کی دیگر ضروریات کےمناسب انتظام کی طرح عید الاضحیٰ کے دنوں میں قربانی کا بھی ایسا مناسب انتظام کرے جس کے نتیجے میں کسی کو تکلیف پہنچائے بغیر،مسلمان سہولت کے ساتھ قربانی کا فریضہ سرانجام دے سکیں،البتہ اگر حکومت کسی وجہ سے اپنی ذمہ داری کما حقہ پوری نہیں کرتی تو اجتماعی طور پر مسلمان اپنے محلے یا علاقے وغیرہ کی سطح پر باہمی مشاورت سے ایسا کوئی نظم ترتیب دیں ،جس کے نتیجے میں انفرادی و اجتماعی قربانی کا مناسب اہتمام بھی ہو اور اہل علاقہ کو تکلیف بھی نہ ہو،قربانی سے پہلے جانور وغیرہ کی دیکھ بھال اور قربانی کے بعد خون،آلائشیں وغیرہ کو جلد از جلد مناسب جگہ تک پہنچانے کا نظم ایسا ہو کہ جس سے کسی کو تکلیف نہ ہو،لہٰذا مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ قربانی خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی اگر شریعت کی بیان کردہ شرائط کےمطابق کی جارہی ہے تو وہ جائز ہے ،البتہ جہاں تک بات ہے کسی کو تکلیف پہنچاکر قربانی کرنے کی تو اگر تکلیف پہنچانے سے بچنا ممکن تھا لیکن غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے قربانی کرنے والا شخص تکلیف پہنچانے سے باز نہیں رہا تو تکلیف پہنچانے کی وجہ سے وہ گناہگار ہوگا، البتہ قربانی جائز ہوگی،اسی طرح جو افراد ایسی قربانی میں حصہ لیتے ہیں جہاں کے منتظمین اپنی غفلت و کوتاہی کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں تو تکلیف پہنچانا تو جائز نہیں ہوگا اور تکلیف پہنچانے سےا جتناب بھی ضروری ہے لیکن اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والوں کی قربانی ادا ہوجائے گی۔
خلاصہ یہ ہوا کہ اجتماعی قربانی کے منتظمین اہل علاقہ کے تعاون سے ایسا نظم بنائیں جس میں قربانی کا اہتمام بھی مناسب انداز میں ہوسکے اوراہل علاقہ کو غیر ضروری تکلیف سے بھی بچایا جاسکے،اسی طرح اہل علاقہ کو بھی چاہیے کہ معمولی تکلیف سے درگزرکریں اور قربانی کرنے والوں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ وہ بھی کارِخیر میں تعاون کے ثواب میں شریک ہوسکیں۔
حوالہ جات
روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني ، المعروف بتفسير الألوسي (17/ 493)
وتعاونوا على البر والتقوى ( عطف على ولايجرمنكم من حيث المعنى كأنه قيل : لاتعتدوا على قاصدى المسجد الحرام لأجل أن صددتم عنه وتعاونوا على العفو والاغضاء...)
صحيح البخاري (1/ 13)
حدثنا آدم بن أبي أياس قال حدثنا شعبة عن عبد الله بن أبي السفر وإسماعيل عن الشعبي عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه ).
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 153)
لأن التحرز عن إيذاء المسلم واجب.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع للكاساني (2/ 433)
وايذاء المسلم حرام وترك الحرام أولى من الاتيان بالسنة.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۶.ذو الحجہ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


