| 83828 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میری بہن اور بہنوئی کے درمیان متعدد بار باہمی چپقلش اور ناچاقی کے باعث مختلف اوقات میں دو دفعہ طلاق ہو چکی تھی اور پھر رجوع بھی کر چکے تھے۔کچھ دن پہلے پھر شدید چپقلش ہوئی تو بہنوئی نے ایک عرضی نویس کو کہا کہ اب طلاق کا آخری چانس ہے اور میں کسی صورت طلاق نہیں دینا چاہتا۔لیکن ایک علامتی نوٹس بھیج کر ڈرانا چاہتا ہوں تاکہ آئندہ جھگڑا نہ ہو اور شاید بیوی ڈر جائے۔وہ عرضی نویس کو اپنے دو دوستوں کی موجودگی میں یہ کہتا رہا کہ میں طلاق ہرگز نہیں دینا چاہتا۔بس ڈرانے کے لیے تم طلاق کے نوٹس کی طرز پر مروجہ الفاظ لکھو۔لیکن اگر اس طرح بھی طلاق واقع ہونے کے چانس ہیں تو میں اس علامتی نوٹس کا ارادہ بھی ترک کرتا ہوں۔عرضی نویس نے کہا بے فکر ہو جاؤ اس طرح طلاق نہیں ہوگی۔جب نوٹس لکھا جا چکا تو عرضی نویس نے کہا کہ اب اس پر دستخط کردو۔۔۔پھر بہنوئی نے دستخط کرنے سے احتراز برتا کہ دستخط کرنے سے کہیں طلاق نہ ہو جائےکیونکہ میری نیت ہرگز طلاق دینے کی نہیں۔عرضی نویس نے پھر مطمئن کیا کہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔دستخط کرنے سے یہ نوٹس مکمل ہو جائے گا۔ورنہ اس کی حیثیت کچھ نہیں ہوگی اور بیوی کو نوٹس کے ذریعے ڈرانے کی افادیت ہی باقی نہیں رہے گی۔تب اس نے نوٹس پر دستخط بھی ثبت کر دیے۔صورت مسولہ میں فتوی دے کر رہنمائی کیجیے کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟؟
بہنوئی اور اس کے دو دوست اور عرضی نویس اس بات پر حلف دینے کو تیار ہیں کہ یہ بار بار ہمارے سامنے کہتا رہا کہ میری طلاق کی نیت نہیں۔میں طلاق ہرگز نہیں دینا چاہتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت حال سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق نامہ فرضی تھا، طلاق کی نیت بھی نہیں تھی اور اس پر دو گواہ بھی موجود ہیں، لہذا یہ طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ البتہ طلاق کا معاملہ انتہائی نازک ہوتا ہے، اس لئے آئندہ کے لئے اس طرح کی حرکت سے اجتناب کریں ورنہ حرام میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 293):
قال: أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك؛ وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة شرح وهبانية.
(صحيح البخاري، 1/20):
حدثنا أبو نعيم، حدثنا زكرياء، عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى، يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا إن حمى الله في أرضه محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة: إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب "
اسامہ مدنی
دارالافتا ء جامعہ الرشید،کراچی
10/ ذیقعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسامہ بن محمد مدنی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


