03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حالت حیض میں وطن واپسی کی صورت میں طواف زیارت،طواف وداع اور طوافِ عمرہ کرنے کا حکم
84132حج کے احکام ومسائلحج کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر عورت حالت حیض میں ہواور طواف زیارت یا طواف وداع یا عمرے کا طواف نہ کیا ہو اور وطن واپسی کا وقت ہوجائےجبکہ پاکی کے انتظار میں مکہ مکرمہ میں مزید قیام کی کوئی صورت نہ بن رہی ہو توایسی عورت کے لیے طواف یا دم وغیرہ کے حوالے سے کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حائضہ عورت  حیض کے ایام میں مسجد نہیں جاسکتی ،لہٰذا طواف بھی نہیں کرسکتی،البتہ حج کے دیگر ارکان ادا کرسکتی ہے،لیکن اگروطن واپسی کا وقت ہوجائے اور مزید قیام کی کوئی صورت ممکن نہ ہوکہ پاک ہوکر طواف کرسکے تو ایسی صورت میں تفصیل یہ ہے کہ طواف زیارت ناپاکی کی حالت میں کرلے اور حدود حرم میں دم کے طور پر ایک بدنہ یعنی اونٹ یا گائے یا بھینس قربان کرے اور وطن لوٹ آئے،اسی طرح عمرے کی صورت میں حالت حیض ہی میں عمرہ کرلے اور ایک دم(بکرا،دنبہ،یاگائے وغیرہ بڑے جانور میں ساتواں حصہ)حدود حرم میں دے دے اور وطن لوٹ آئے،البتہ طواف وداع کی صورت میں حالت حیض میں طواف نہ کرے بلکہ بغیر طواف وداع  کیےوطن لوٹ آئے اور اس صورت میں کوئی دم ،صدقہ یا قضاء وغیرہ بھی لازم نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 550)

(أو طاف للقدوم) لوجوبه بالشروع (أو للصدر جنبا) أو حائضا (أو للفرض محدثاولو جنبا فبدنة إن) لم يعده والأصح وجوبها في الجنابة وندبها في الحدث، وأن المعتبر الأول والثاني جابر له، فلا تجب إعادة السعي جوهرةوفي الفتح: لو طاف للعمرة جنبا أو محدثا فعليه دم، وكذا لو ترك من طوافها شوطا لأنه لا مدخل للصدقةفي العمرة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 528)

(وحيضها لا يمنع) نسكا (إلا الطواف) ولا شيء عليها بتأخيره إذا لم تطهر إلا بعد أيام النحر، فلو طهرت فيها بقدر أكثر الطواف لزمها الدم بتأخيره لباب (وهو بعد حصول ركنيه يسقط طواف الصدر) ومثله النفاس.

(قوله يسقط طواف الصدر) أي يسقط وجوبه عنها كما قدمناه ولا دم عليها كما في اللباب.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 523)

(ثم) إذا أراد السفر (طاف للصد) أي الوداع (سبعة أشواط بلا رمل وسعي، وهو واجب إلا على أهل مكة) ومن في حكمهم فلا يجب بل يندب كمن مكث بعده.

 (قوله إلا على أهل مكة) أفاد وجوبه على كل حاج آفاقي مفرد أو متمتع أو قارن بشرط كونه مدركا مكلفا غير معذور فلا يجب على المكي، ولا على المعتمر مطلقا، وفائت الحج والمحصر والمجنون والصبي والحائض والنفساء كما في اللباب وغيره.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

 ۲۳.ذو الحجہ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب