03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مکان خرید کر مدرسہ کے لیے وقف کرنا
84113وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

میرے بھائی (مولانا امین اللہ اشرف) نے 2015ء میں ایک کچا پکا مکان(پلاٹ نمبر I9٫،بلاک آئی ) بلاول شاہ نورانی گوٹھ میں41 لاکھ کا خریدا، اس میں گراونڈ فلور اور فرسٹ فلور دونوں پر فیملیاں رہائش پذیر تھیں، کوئی مدرسہ نہیں تھا۔ یہ مکان اس شخص کا ذاتی تھا،اسی کے نام پر تھااور اسی نے ہمیں فروخت کیا، جس کی دستاویز کی نقل منسلک ہے۔ میرے بھائی نے یہ مکان خرید کر مدرسے کے لیے وقف کردیا اور گورنمنٹ اور وفاق المدارس العربیۃ سےاس کی رجسٹریشن بھی کرالی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ مکان خرید کر اس کو مدرسے کے لئے وقف کرنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکورہ شخص سے اس کا ملکیتی مکان خرید کر مدرسہ کے لیے وقف کرنا درست تھا، شرعا اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (2/ 350):

 كتاب الوقف…..أما تعريفه……. عندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد، فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث، كذا في الهداية. وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما، كذا في شرح أبي المكارم للنقاية.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        24 /ذو الحجۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب