03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اپنا نکاح خود پڑھانے کا حکم
84137نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

کیا عالم دین کااپنا نکاح خود پڑھا نا جائز ہے یا نہیں ْ؟اور اسی طرح ایک شخص غیر عالم دین ہو ، لیکن نکاح کا خطبہ اور اس کا پورا طریقہ معلوم ہو ، تو ایسی صورت میں اس کا خوداپنا نکا ح پڑھا نا کیسا ہے ؟اور کیا نکاح خطبہ کے بغیر ہوجا تا ہے ؟رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عالم دین یا غیرعالم دین اپنا نکاح خود پڑھا سکتے ہیں ،اور  اس کی صورت یہ  ہے کہ نکاح پڑھا نے ولا مجلسِ نکاح میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں خطبہ میں پڑھی جانے والی آیات اور ایک دو احادیث بطورِ خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد جس خاتون سے نکاح کر رہاہے اس کے وکیل سے کہے  کہ میں نے اتنے مہر کے بدلے  آپ کی موکلہ فلانہ بنت فلاں سے نکاح کیا  (یا اسی خاتون سے کہے  کہ میں نے اتنے مہر کے بدلے  آپ سے نکاح کیا)اور وہ جواب میں کہے کہ میں نے قبول کیا تو نکاح ہوجائے گا۔ نیز نکاح کے وقت خطبہ پڑھنا مسنون ہے ، لہذا بوقت نکاح خطبہ پڑھا جائے  ، تاہم  نکاح خطبہ کے بغیربھی منعقد ہوجاتاہے  ۔

حوالہ جات

وينعقد  ملتبسا بإيجاب من أحدهما  وقبول  من الآخر ( وضعا للمضي  ...  كزوجت  نفسي ٓأو بنتي أو موكلتي منك و  يقول الآ خر  تزوجت.(الدرالمختار:3/9)

قال:النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي...ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين. (الهداية:2/326)

و يندب إعلانه و تقديم خطبة و كونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد.(الدرالمختارمع ردالمحتار:3/8)

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

26 ٖذوالحجہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب