| 84139 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
میں نے اپنی بیوی کو غصے میں آکر بول دیا کہ میں تم کو آزاد کرتا ہوں ، اب اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے ، نکاح ٹوٹ چکاہے ، لہذا اب وہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ، البتہ عدت کے دوران اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنے کی اجازت ہے۔اور اگر آپ نے اس کے علاوہ کوئی طلاق نہیں دی ہے تو دوبارہ نکاح کے بعد آئندہ کے لیے آپ کو دو طلاقوں کا حق ہوگا۔
حوالہ جات
(الفتاوى الهندية 1/ 374):
ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية.
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
24 ٖذی الحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


