03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
HBLکی اسلامک ونڈو کا ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے کا حکم
84013سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

کچھ سال پہلے حبیب بینک لیمیٹیڈ نے جوکہ ایک سودی بینک ہے اسلامک بینکنگ کی ونڈو شروع کی ہے ،جس میں کنوینشنل بینک کی طرح اکاؤنٹ کھولتے وقت اچھا اکاؤنٹ بیلنس رکھنے پر ڈیبٹ کارڈ دیا جاتا ہے،جس سے پوری دنیا کے ائیرپورٹ لاؤنج پر مفت ایکسیس اور ڈسکاؤنٹ وغیرہ ملتے ہیں،  بینک والے کا کہنا ہےکہ ہماری اسلامک ونڈو کا والٹ سودی کمرشل آپریشنز سے مختلف ہے  ،چونکہ اچھا بیلنس رکھنے پہ فیس بھی ویو (waive)ہوجاتی ہے، کیا یہ کارڈ لینا جائز ہے اور اس پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ اورائیرپورٹ کے لاؤنج کا ایکسیس جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہماری  معلومات کے مطابق حبیب بینک لمیٹڈ کی اسلامک بینکنگ ونڈو کی سرپرستی مستند علماء  پر مشتمل شریعہ بورڈ کر رہا ہے ،  چنانچہ اس میں ہونے والے تمام معاملات شرعی  اصولوں کے مطابق ان مفتیان کرام  کی نگرانی میں ہوتے ہیں ، لہذا ان کے ڈیبٹ کارڈ سے حاصل ہونے والے ڈسکاؤنٹ اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔

حوالہ جات

المبسوط لشمس الدين السرسخي (5/ 215):

وفى الشريعةالربا هو الفضل الخالى عن العوض المشروط في البيع لما بينا أنالبيع الحلال مقابلة مال متقوم بمال متقوم فالفضل الخالى عن العوضذا دخل في البيع كان ضد ما يقتضيه البيع ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166):

[مطلب كل قرض جر نفعا حرام]

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به۔

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

27/ ذیقعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب