| 84141 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
آپ کے سوال کا حاصل درج ذیل ہے:
میرا اپنی بیوی کے ساتھ کچھ گھریلوں مسائل چل رہے تھے ، پھر بات خاندان والوں تک پہنچی،جس کی وجہ سے کچھ مسائل پیدا ہو گئے، اور میرے والدین نے مجھے کہا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو ، ورنہ دنیا اور آخرت میں ہم آپ کو نہیں بخشیں گے ، اور دنیا میں بھی لا تعلقی کا اظہار کریں گے ، پھر اگلے دن جب میں آفس چلا گیا، والد صاحب نے مجھے کہا کہ آفس کا کام جلدی سے ختم کر، ہم نے وکیل کے پاس جانا ہے ، آفس میں پہنچ کر میں نے بہانہ بنانا شروع کر دیا کہ آج بہت کام ہے، کل چلے جائیں گے ، کیونکہ میں وکیل کے پاس جانا نہیں چاہتا تھا، لیکن میرے والد صاحب آفس آئے اور مجھے زبر دستی ساتھ لے گئے ، تو وہاں پر وکیل نے اپنے کسی آدمی کو طلاق کے اسٹام پیپر کے لیے بھیجا، اور اسٹام پیپر والے نے کہا کہ ابھی قانون یہ کہتا ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی طلاق ہو سکتی ہے، تو یہ سن کر میں دل میں خوش ہوا کہ ابھی چلو صرف ایک طلاق ہوگی باقی بعد میں دیکھا جائے گا، اس وقت میرے دل میں ایک طلاق کی نیت تھی ، جب اسٹام پیپر پر سائن کر رہا تھا ، لیکن بعد میں وکیل نے میرے والد کی موجودگی میں مجھ سے طلاق ثلاثہ نامی ایک کاغذ پر سائن لیا جس کا مجھے علم نہیں تھا کہ اس میں موجود تین طلاقیں ہیں ، اور اس کے کہنے پر سائن کیا ، اور انگوٹھا بھی لگایا ، بعد میں جب اس پر میں نے سائن کرلیا تو اپنے بھائی سے پوچھا کہ ایک طلاق ہوئی ہے یاتین ؟ تو اس نے مجھے بتایا کےکہ تین طلاقیں ہوچکی ہیں، اس چیز کا مجھے ٹھیک سے علم نہیں تھا ، میں ایک سمجھ رہا تھا ، لیکن وکیل نے ہی طلاق ثلاثہ پر سائن کرالیا۔واضح رہے کہ میں نے طلاق نامہ پر سائن والد صاحب کے اصرار کے وجہ سے کیا ،براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ ایک طلاق واقع ہوگئی ہے یاتین ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر واقعتا آپ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں ،یعنی یہ معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے ،مگر طلاق ثلاثہ کا معنی معلوم نہیں تھا ، اور آپ اس کو ایک طلاق ہی سمجھ رہے تھے ،تو ایسے میں دستخط کرنے سے آپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ طلاق کے بعد عدت (جو حمل نہ ہونے کی صورت میں تین ماہواریاں ہے اور حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش تک ہے ) کے دوران رجوع کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں ، اورعدت گزرنے کے بعد اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کے ساتھ نکاح کرنا ہو گا، اور دونوں صورتوں میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔ واضح رہے کہ اگر آپ کو معلوم تھا کہ اس طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں ، اس کے باوجود دستخط کردیا تو ایسی صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ، آپ کی بیوی آپ پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے ، ایسے میں رجوع کرنے یا بحالت موجودہ دوبارہ نکاح کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔
حوالہ جات
كذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لايقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه. (رد المحتار:1/247(
و إذا طلق الرجل امرأته تطلييقةً رجعية أو رجعيتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية·(الفتاوى الهندية :470/1)
وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع). الدرالمختار:3 /409)
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
26 ٖذوالحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


