03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی تولیت کا مستحق کون ہے؟
84155وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ہماری   مسجد کی زمین پانچ آدمیوں نے وقف کی تھی اور اب ان میں سے کوئی  بھی زندہ نہیں ، البتہ ان کے ورثاء موجود ہیں۔  ان میں سے ایک واقف کی اولاد  کہتی ہے کہ ہمارے والد نے زمین وقف کی تھی ،لیکن اب ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں ،کیونکہ اب  یہ ہماری ملکیت ہی نہیں۔ باقی کے ورثاء میں سے ایک شخص (زید) مسجد کے امام، بجلی، تعمیر وغیرہ کا انتظام کر رہا تھا،لیکن چند سال پہلے دوسرے ورثاء نے مسجد میں کچھ کام کرنا چاہا اور یہ وارث(زید) جو پہلے سے نگران تھا ، اس نے مخالفت کی۔  دیگر ورثاء جو تعمیری کام کرنا چاہتے تھے انہوں نے  وہ کام پورا کیا ،البتہ جو پہلے سے نگران تھا(زید) اس نےناراض ہو کر چابیاں اور فنڈ ان کے حوالہ کیااور خود اس مسجد میں آنا بھی چھوڑ دیا۔ پھر ان باقی ورثاء میں سے ایک شخص(خالد) نے چارج سنبھال لیا ،لیکن آخر میں تنگ آکر اس نے بھی کچھ ذمہ داریوں سے اپنے  آپ کو فارغ کر دیا ،اگر چہ کچھ ذمہ داریاں اب بھی اس(خالد) کے پاس ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے :

 ١۔عام حالات میں مسجد کی تولیت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہوتا ہے ؟

 ٢۔اگر ورثاء سب سے زیادہ حقدار ہوں تو موجودہ صورت میں جبکہ ورثاء مختلف اور زیادہ ہیں، کون حقدار ہوگا؟ 

 ٣۔اگر بالفرض کوئی  بھی وارث تولیت اور نگرانی لینا نہیں چاہتا تو پھر کون اہل ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوالا ت کےجوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں :

۱:         مسجد کا متولی مقرر  کرنے  کا حق واقف کو  پھر اس کے وصی کو ( جس کو میت نے    فوت ہونے کے بعد اپنے معاملات کو انجام تک پہنچانے کی ذمہ دار ی سونپی ہو) پھر   مسجد کمیٹی کو حاصل ہے ۔  لہذا اگر واقف نے کسی ایسے شخص کو متولی مقرر کیا ہو جو دیانت دار ہو اور موقوفہ چیز کو چلانے کےلیے درکار انتظامی  صلاحیتوں کا بھی  حامل ہو تو  بلاعذر شرعی  واقف کےعلاوہ کسی کو اس کے معزول کرنےکا حق نہیں   ، لیکن اگر واقف   نے  کسی کو وصی اور  متولی   نہیں بنایاہے تو مسجد کمیٹی  کو  متولی  کی تقرری کا حق حاصل ہوگا ،ایسی  صورت میں مسجد کمیٹی کےممبران کوچاہیے کہ   واقف کی اولاد میں سے   جس میں  دیانت اور اہلیت سب سےزیادہ ہو، اس کو تولیت سپرد کرے  ۔ اگر ان میں  کوئی ایسا شخص نہ ہو یا وہ قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو یا   اہل محلہ میں  سےکوئی ان سے   زیادہ دیانتدار اور اہل شخص موجود ہو   تو تولیت  اس کو  سپر د کرے  ۔اگر اہل محلہ میں بھی  کوئی  اہل اور دیانتدار شخص موجود نہ ہو تو باہر کے کسی اہل اور دیانتدار شخص کو تولیت  سپرد کرسکتےہیں۔  واضح رہے کہ اگر   مسجد کمیٹی کے ممبران کے درمیان  متولی کی تقرری پر اختلاف ہو جائے تو کثرت رائے کی بنیاد پر متولی  کا انتخاب  ہوگا ۔

۲:       اگر واقفین نے  کسی کو تولیت سپرد نہیں  کی تھی اور  مسجد کمیٹی  نے  زید کو متولی بنایا تھا تو  اس کو بلاعذر شرعی    معزول کرنا جائز نہیں اور وہی سب سے زیادہ حقدار ہے ، البتہ اگر وہ خود معزول ہونا چاہے  تو اس کو یہ حق  حاصل ہے ۔ پھر  اگر  مسجد کمیٹی کے ممبران  کسی دوسرے اہل اور دیانتدار شخص کو تولیت دینے پر متفق ہوں تو وہی متولی ہوگا، ورنہ   کثرت رائے کی بنیاد پر   متولی کا انتخا ب ہوگا۔

۳:       اگرواقف کےتمام ورثاء تولیت سے انکاری ہو ں تو  مسجد کمیٹی کےممبران اتفاق رائے یا کثرت رائے کی بناء پر    اہل محلہ میں سے  کسی اہل اور دیانتدار شخص  کو  تولیت سپرد کرسکتےہیں  ۔اگراہل  محلہ میں    کوئی   ایسا شخص نہ ہو یا وہ  لینے کے لیے تیار نہ ہو تو باہر کے کسی   اہل اور دیانتدار شخص کو  تولیت سونپ سکتےہیں ۔

 واضح رہے کہ اگر ورثا ء ، اہل محلہ اور اجنبی  میں سے کوئی بھی تنخواہ کے  بغیر ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہ ہو  تو  مسجد کمیٹی کے ممبران متولی  کےلیے تنخواہ مقر رکر سکتےہیں، لیکن اگر ان میں  کوئی بلاتنخواہ  کی ذمہ داری لینے کےلیےتیار ہو  تو مسجد کمیٹی  کو اختیار ہےکہ  تنخواہ طلب کرنےوالے اور مفت میں کام  کرنے والے میں سے جس کو مسجد کے مصالح کےلیے  زیادہ مناسب سمجھے، اس کو متولی بنائے ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 421)

(ولاية نصب القيم إلى الواقف ثم لوصيه) ...(ثم) إذا مات المشروط له بعد موت الواقف ولم يوص لأحد فولاية النصب (للقاضي) إذ لا ولاية لمستحق إلا بتولية كما مر (وما دام أحد يصلح للتولية من أقارب الواقف لا يجعل المتولي من الأجانب) لأنه أشفق ... ولو لم يجعل ناظرا فنصب القاضي لم يملك الواقف إخراجه، ولو عزل الناظر نفسه إن علم الواقف أو القاضي صح وإلا لا.

مطلب الأفضل في زماننا نصب المتولي بلا إعلام القاضي وكذا وصي اليتيم

ثم ذكر عن التتارخانية ما حاصله أن أهل المسجد لو اتفقوا على نصب رجل متوليا لمصالح المسجد فعند المتقدمين يصح ولكن الأفضل كونه بإذن القاضي، ثم اتفق المتأخرون أن الأفضل أن لا يعلموا القاضي في زماننا لما عرف من طمع القضاة في أموال الأوقاف، وكذلك إذا كان الوقف على أرباب معلومين يحصى عددهم إذا نصبوا متوليا وهم من أهل الصلاح. اهـ.

 (قوله وما دام أحد إلخ) المسألة في كافي الحاكم ونصها: ولا يجعل القيم فيه من الأجانب ما وجد في ولد الواقف وأهل بيته من يصلح لذلك، فإن لم يجد فيهم من يصلح لذلك، فجعله إلى أجنبي ثم صار فيهم من يصلح له صرفه إليه اهـ ومفاده: تقديم أولاد الواقف وإن لم يكن الوقف عليهم بأن كان على مسجد أو غيره، ويدل له التعليل الآتي وفي الهندية عن التهذيب: والأفضل أن ينصب من أولاد الموقوف عليه، وأقاربه ما دام يوجد أحد منهم يصلح لذلك اهـ والظاهر: أن مراده بالموقوف عليه من كان من أولاد الواقف، فلا ينافي ما قبله، ثم تعبيره بالأفضل يفيد أنه لو نصب أجنبيا مع وجود من يصلح من أولاد الواقف يصح فافهم: ولا ينافي ذلك ما في جامع الفصولين من أنه لو شرط الواقف كون المتولي من أولاده وأولادهم ليس للقاضي أن يولي غيرهم بلا خيانة، ولو فعل لا يصير متوليا. اهـ. لأنه فيما إذا شرطه الواقف وكلامنا عند عدم الشرط ووقع قريبا من أواخر كتاب الوقف من الخيرية ما يفيد أنه فهم عدم الصحة مطلقا كما هو المتبادر من لفظ لا يجعل فتأمل. وأفتى أيضا بأن من كان من أهل الوقف لا يشترط كونه مستحقا بالفعل بل يكفي كونه مستحقا بعد زوال المانع وهو ظاهر، ثم لا يخفى أن تقديم من ذكر مشروط بقيام الأهلية فيه حتى لو كان خائنا يولى أجنبي حيث لم يوجد فيهم أهل لأنه إذا كان الواقف نفسه يعزل بالخيانة فغيره بالأولى. مطلب إذا قبل الأجنبي النظر مجانا فللقاضي نصيبه

[تنبيه]قدمنا عن البيري عن حاوي الحصيري عن وقف الأنصاري أنه إذا لم يكن من يتولى الوقف من جيران الواقف وقرابته إلا برزق ويقبل واحد من غيرهم بلا رزق فللقاضي أن ينظر الأصلح لأهل الوقف.

    نعمت اللہ 

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

30     /ذو الحجہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب