03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فاریکس ٹریدنگ کا حکم اور اشکالات کے جوابات
84493خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

فاریکس ٹریڈنگ کے بارے میں بندہ کے درجہ سوالات ہیں ،برائے کرم مجھے ان کے جوابات مرحمت فرمائیں ۔

  1. فوریکس ٹریڈنگ کا کاروبار حلال ہے یا حرام ؟
  2. فوریکس ٹریڈنگ دوسرے ملکوں میں حلال ہے جس میں سعودی عرب، قطر،   اور ملیشیا    شامل ہیں ۔سعودی عرب میں کسی سے یہ  سوال کیاگیا  کہ یہ ہینڈ بائ ہینڈ ہے یا نہیں، تو جواب آیا نہیں یہ آن لائن ڈیجیٹل ہے ۔جب فوریکس ٹریڈنگ دوسرے ممالک میں حلال ہے تو پاکستان میں کیوں حرام ہے؟
  3. میں  جس پلیٹ فارم میں کام کرتا ہوں اس کا نام اکنیس ہے، اس میں مختلف قسم کی ٹریڈنگ ہوتی ہے ، جس میں گولڈ ،سلور، بٹ کوائن، یوایس آئل اور  کرنسی شامل ہے، ڈالر کے مقابلے میں ٹریڈ ہوتی ہے۔یہ سب ٹریدنگ  آن لائن ہوتی ہے ۔  ایکنیس کے اکاونٹ میں ڈالرڈیپازٹ کر کے ٹرید کی جاتی ہے۔  اس میں قبضہ صرف ڈالر پر ہوتا ہے، کیونکہ ڈالر کو ہم پاکستانی کرنسی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایکنیس جس پہ میں کام کرتا ہوں وہ لیورج دیتی ہے اور لیورج 1/100 یا1/1000 یا انلمٹڈ ہوتی ہے ،جس میں ہم باسانی ٹریڈ کر سکتے ہیں ۔فوریکس ٹریڈنگ میں ایکنیس لیورج کے بدلے میں سود نہیں لیتا ،بلکہ وہ ہم سے کمیشن لیتا ہے، وہ بھی خرید و فروخت کے درمیان فرق کے حساب سے  جسے اسپریڈ بولتے ہیں ، اس ماڈل کے مطابق کمپنی کا حکم کیا ہوگا ؟
  4.  اس طرح پاکستان میں ایک کمپنی ہے جس کا نام پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج ہے، یہ گورنمنٹ ریگولیٹ ایکسچینج ہے، اس میں بھی آن لائن ٹریڈنگ ہوتی ہے۔ میزان بینک کے شریعہ بورڈ نے اسےحلال کہا ہے۔
  5. اسٹیٹ ایجنسی خرید و فروخت پر دونوں سے کمیشن لیتی ہے، وہاں کمیشن جائز ہے جبکہ یہان خرید و فروخت پر کمیشن جائز نہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
  6.  فاریکس ٹریڈنگ اگر ناجائز ہے تواس  میں کیا تبدیلیاں کی جائیں اور کیا شامل نہ ہو تو یہ حلال ہو جائے گا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. فاریکس ٹریڈنگ کا عمومی حکم یہ ہے کہ  فاریکس ٹریڈنگ کے مروجہ ماڈل  میں نہ تو حقیقی لین دین ہوتی ہے اور نہ ہی قبضہ ، لہذا فاریکس ٹریڈنگ کی کسی ویب سائیٹ یا ایپ پر کام کرنا جائز نہیں ہے ،البتہ اگر کسی آن لائن فاریکس ایکسچینج کے طریقہ کار کی نگرانی مستند علماء کرام  کر رہے ہوں اور انہوں نے تحریراً اس بات کی گواہی دی ہو کہ اس کا طریقہ کار شرعاً درست ہے تو اس پر کام کرنا جائز ہوگا۔

.2عرب علماء نے مخصوص شرائط کے ساتھ فاریکس ٹریڈنگ کو جائز کہا ہے۔ وہ شرائط درجہ ذیل ہیں۔

1۔راس المال کے بقدر تجارت ہو ،لیورج کے ذریعے تجارت نہ ہو۔

2۔بائع اور مشتری کے  درمیان خریدی اور بیچی جانے والی چیز پرحقیقی یا عرفی  قبضہ ہو۔

3۔کلائنٹ کرنسی یا دیگر اشیاء پر مالکانہ تصرف کرسکے  ۔

4۔ اگر سونے چاندی کی خرید و فروخت ہو تو ایک جنس یعنی سونے کے بدلے سونے ،اور چاندی کے بدلے چاندی کی خرید و فرخت کی  صورت میں  وزن اور قیمت میں برابری ضروری ہے ،  اگر الگ جنس ہوں  یعنی سونے کے بدلے چاندی ہو تو برابری کی شرط  نہیں البتہ فوری قبضہ ضروری ہے۔

ان شرائط کے بناء پر بعض کمپنیوں نے اجازت لی ،جن میں کچھ مشترکہ باتیں یہ ہیں ۔

1۔ان کمپنیوں میں لیورج (الرافعۃ المالیہ) کی بنیاد پر ٹریڈ نہیں ہوگی۔

2 ۔ وہ کرنسیوں میں ٹریڈ  کریں گے اور کرنسی ا کاونٹ میں آجائے گی۔

3 ۔ کلائنٹ جس وقت چاہے وہ اکاونٹ سے وہ کرنسی نکال سکے گا ۔

4 ۔شریعہ کی ٹیم اس نظام کو دیکھے گی اور وقتا فوقتا وہ  نظام کا جائزہ بھی لے گی۔

        ان شرائط کی بنیاد پرعرب اور دیگر علماء نے  بعض کمپنیوں میں ٹریڈ کی اجازت دی  ہے ۔عمومی طور پر جواز کا فتوی بندہ کو نہیں مل سکا۔

        جدید مسائل چونکہ اجتہادی مسائل  ہوتے ہیں ،شرعی اصولوں کے مطابق اس میں مختلف آراء ہو سکتی ہیں، اسی طرح  مختلف ممالک میں کسی کاروبار کے ماڈل دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں ،اس سے بھی حکم میں فرق پڑ سکتا ہے، یہ ماڈل کا فرق اگرچہ بنیادی ہوتا ہے لیکن بعض اوقات عام عوام کے لیے اسے سمجھنا مشکل ہوتا ہے،البتہ   شرعی اصولوں کے ماہرین اس کو سمجھ سکتے ہیں ، ۔اسلیے آپ کو جس دارالافتاء پر اعتماد ہو اس کے فتوی پر بھروسہ رکھیں ۔

.3ایکنیس ایپ کا جو ماڈل آپ نے بیان کیا ہے،جس میں لیورج کے زریعے ٹریڈنگ کی جاتی ہے ،یہ بلکل ناجائز ہے ، عرب وعجم میں سے کسی کا بھی فتوی اس کے جواز پر نہیں ۔عرب علماء کے ہاں بھی لیورج (الرافعۃ المالیہ) کے زریعے تجارت کرنا جائز نہیں ہے ۔

ناجائز ہو نے کی تفصیل یہ ہے کہ ہر وہ قرض جو مشروط نفع کو لازم ہو وہ نفع سودہوتا ہے،چاہے اسےسود کا نام دیا جائے یا  کمیشن کا ۔لیورج میں کلائنٹ کی کچھ اپنی انویسٹمنٹ ہوتی ہے ، کچھ رقم اسے بروکر       دیتا ہے۔مثلا ۱:۱۰۰ لیورج میں سو ڈالر کلائنٹ کے ہوں گے تو اس کے سو گنا بروکر اسے خریدنے کی قوت دےگا  ۔ لہذا کلائنٹ   دس  ہزار تک کی خریداری کر سکتا ہے۔اب بروکر اس قرض دینے پر مخصوص کمیشن چارج کرے گا ،جو خرید((ask price  اور فروخت قیمت(bid price) کے درمیان فرق کے حساب سے طے ہوتا ہے،جسے (spread)کہتے ہیں ،اس کمیشن کے علاوہ نفع یا نقصان سارا کلائنٹ کا ہی ہوتا ہے۔ اس تمام طریقہ کار میں  جو بروکر کی طرف سے کلائنٹ کو  ٹریڈنگ کے لیے لیورج کے نام پے رقم ملتی ہے، وہ قرض ہے، اور اس پر جو نفع کمایا جاتا ہے، چاہے اسےکمیشن کہا جائے  یا (spread)،وہ صرف قرض دینے کے عوض   بروکر کو دیا جانے والا سود ہے۔مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے مجمع الفقہ الاسلامی  کے اجتماع میں طویل غور و فکر کے عرب و عجم کے علماء نے متفقہ طور پر اسے ناجائز قرار دیا ۔

.4مرکنٹائل  ایکسچینج  کا حکم نیچے دیے گئے لنک پر ملاحظہ فرمائیں۔

https://almuftionline.com/2023/08/08/10867                

.5اسٹیٹ ایجنسی والے جو کمیشن لیتے ہیں اس میں قرض کا عمل دخل نہیں ہوتا ،بلکہ وہ کمیشن ہی ہوتا ہے ،جبکہ فاریکس ٹریدنگ میں جو لیورج  کے بدلے سپریڈ لیا جاتا ہے   ،وہ کمیشن نہیں ہوتا بلکہ کمشن کےنام پر سود ہوتا ہے جس کی  تفصیل بیان ہو چکی ہے۔

.6فاریکس ٹریڈنگ کے صحیح ہونے کی چند شرائط درجہ ذیل ہیں

کرنسی اور سونے کی خرید و فروخت کے لیے تین شرائط کا پایا جانا ضروری ہے :

1 ۔اس کا لین دین حقیقی ہو، فقط اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کی جاتی ہو۔

2 ۔اسے بیچنے والا اس کا حقیقتاً مالک بھی ہو اور بیچنے والے نے اس پر قبضہ بھی کیا ہو۔

3  ۔لین دین کی مجلس میں ہی کسی ایک کرنسی پر حقیقتاً یا حکماً  قبضہ کر لیا جائے۔

اسی طرح تیل کی خرید و فروخت کے لیے بھی دو شرائط کا پایا جانا لازمی ہے:

1۔اس کا لین دین حقیقی ہو، فقط اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کیا جاتا ہو۔

2۔     اسے بیچنے والا اس کا حقیقتاً مالک بھی ہو اور بیچنے والے نے اس پر قبضہ بھی کیا ہو۔

یہ چند موٹی موٹی شرائط ہیں ، اس کے علاوہ لیورج کا نہ ہونا اور فاریکس ماڈل کا دیگر بیع کی شرائط کو پوری کرنا بھی جواز کے لیے ضروری ہے ، جس کا فیصلہ عام شخص نہیں کرسکتا، لہذا اگر کسی آن لائن فاریکس ایکسچینج کے طریقہ کار کی نگرانی مستند علماء کرام  کر رہے ہوں اور انہوں نے تحریراً اس بات کی گواہی دی ہو کہ اس کا طریقہ کار شرعاً درست ہے تو اس پر کام کرنا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

سنن أبي داود(3/ 283 ت محيي الدين عبد الحميد):

حدثنا زهير بن حرب، حدثنا إسماعيل، عن أيوب، حدثني عمرو بن شعيب، حدثني أبي، عن أبيه، حتى ذكر عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ‌ولا ‌ربح ‌ما ‌لم ‌تضمن، ولا بيع ما ليس عندك.

صحيح مسلم (5/ 44):

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، وعمرو الناقد، وإسحاق بن إبراهيم ، (واللفظ لابن أبي شيبة)، قال إسحاق: أخبرنا، وقال الآخران: حدثنا وكيع ، حدثنا سفيان ، عن خالد الحذاء ، عن أبي قلابة ، عن أبي الأشعث ، عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌الذهب ‌بالذهب، ‌والفضة ‌بالفضة، والبر بالبر، والشعير بالشعير، والتمر بالتمر، والملح بالملح، مثلا بمثل، سواء بسواء، يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف، فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد .

موقع الإسلام سؤال وجواب (5/ 5570 بترقيم الشاملة آليا):

حكم الاتجار في العملات :

الاتجار بالعملات يجوز بشرط أن يحصل التقابض في مجلس العقد، فيجوز بيع اليورو بالدولار بشرط أن يقع الاستلام والتسليم في مجلس العقد، وأما إذا اتفقت العملة كأن يبيع دولاراً بدولارين فهذا لا يجوز لأنه من ربا الفضل، فلابد من التساوي والتقابض في مجلس العقد إذا اتحدت العملة، ودليل ذلك ما رواه عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ) رواه مسلم

فتوى المجمع الفقهي الإسلامي برابطة العالم الإسلامي(ربيع الأول 1427هـ)

ويرى المجلس أن هذه المعاملة لا تجوز شرعاً للأسباب الآتية:

أولاً: ما اشتملت عليه من الربا الصريح، المتمثل في الزيادة على مبلغ القرض، المسماة (رسوم التبييت)، فهي من الربا المحرم، قال تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ} سورة البقرة الآيتان 278 - 279.

ثانياً: أن اشتراط الوسيط على العميل أن تكون تجارته عن طريقه، يؤدي إلى الجمع بين سلف ومعاوضة (السمسرة)، وهو في معنى الجمع بين سلف وبيع المنهي عنه شرعاً في قول الرسول?: (لا يحل سلف وبيع … ) الحديث رواه أبو داود (3/ 384) والترمذي (3/ 526) وقال: حديث حسن صحيح. وهو بهذا يكون قد انتفع من قرضه، وقد اتفق الفقهاء على أن كل قرض جر نفعاً فهو من الربا المحرم.

ثالثاً: أن المتاجرة التي تتم في هذه المعاملة في الأسواق العالمية غالباً ما تشتمل على كثير من العقود المحرمة شرعاً، ومن ذلك:

1. المتاجرة في السندات، وهي من الربا المحرم، وقد نص على هذا قرار مجمع الفقه الإسلامي بجدة رقم (60) في دورته السادسة.

2. المتاجرة في أسهم الشركات دون تمييز، وقد نص القرار الرابع للمجمع الفقهي الإسلامي برابطة العالم الإسلامي في دورته الرابعة عشرة سنة 1415هـ على حرمة المتاجرة في أسهم الشركات التي غرضها الأساسي محرم، أو بعض معاملاتها ربا.

3. بيع وشراء العملات يتم غالباً دون قبض شرعي يجُيز التصرف.

4. التجارة في عقود الخيارات وعقود المستقبليات، وقد نص قرار مجمع الفقه الإسلامي بجدة رقم (63) في دورته السادسة، أن عقود الخيارات غير جائزة شرعاً، لأن المعقود عليه ليس مالاً ولا منفعة ولا حقاً مالياً يجوز الاعتياض عنه … ومثلها عقود المستقبليات والعقد على المؤشر.

5. أن الوسيط في بعض الحالات يبيع ما لا يملك، وبيع ما لا يملك ممنوع شرعاً. رابعاً: لما تشتمل عليه هذه المعاملة من أضرار اقتصادية على الأطراف المتعاملة، وخصوصاً العميل (المستثمر) وعلى اقتصاد المجتمع بصفة عامة. لأنها تقوم على التوسع في الديون، وعلى المجازفة، وما تشتمل عليه غالباً من خداع وتضليل وشائعات، واحتكار ونجش وتقلبات قوية وسريعة للأسعار، بهدف الثراء السريع والحصول على مدخرات الآخرين بطرق غير مشروعة، مما يجعلها من قبيل أكل المال بالباطل، إضافة إلى تحول الأموال في المجتمع من الأنشطة الاقتصادية الحقيقية المثمرة إلى هذه المجازفات غير المثمرة اقتصادياً، وقد تؤدي إلى هزات اقتصادية عنيفة تلحق بالمجتمع خسائر وأضراراً فادحة. ويوصي المجمع المؤسسات المالية باتباع طرق التمويل المشروعة التي لا تتضمن الربا أو شبهته، ولا تحدث آثاراً اقتصادية ضارة بعملائها أو بالاقتصاد العام كالمشاركات الشرعية ونحوها، والله ولي التوفيق۔

محمد سعد ذاكر

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

30/محرم الحرام /1446

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب