| 84140 | امانت ودیعت اورعاریت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
ہم نے ایک سلسلہ شروع کیا ہوا ہے،کچھ دوست مل کر رقم اکٹھی کرتے ہیں ،چاہے سو سو روپے ہی کیوں نہ ہوں، پھر ہر مہینے جتنی رقم اکٹھی ہوتی ہے فلسطین والوں کی طرف بھیجتے ہیں ۔سب کی پیمنٹ میرے اکاؤنٹ میں آتی ہے۔پچھلے مہینے ہر ماہ کی طرح جتنی رقم اکٹھی ہوئی وہ جس ادارے کو بھیجتے ہیں ، وہاں بھیج دی اور جو رقم بھیجی اس کا سکرین شاٹ بھی بھیج دیا،لیکن اس کے بعد وہ رقم میرے اکاؤنٹ سے ختم نہیں ہوئی، ایک روپیہ بھی کم نہیں ہوا۔میں نے سمجھا کہ شائد ریفریش ہو گا تو ٹھیک ہو جائے گا۔اس کے بعد میں نے ایزی پیسہ اکاؤنٹ نہیں کھولا،آج جب اور رقم کہیں سے آئی تواسے دیکھنے کےلیے اکاؤنٹ کھولا تو وہ پرانی رقم بھی شمار کر کے ٹوٹل لکھا آ رہا تھا کہ آپ کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے ہیں۔دن کو ریفریش کیا پھر بھی ایسا ہی رہا اوراب تک ایسا ہی ہے۔اب اس رقم کا کیا حکم ہے؟ استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟اگر استعمال کر بھی لی تو دوسروں کی رقم کا وبال تو نہیں آئے گا؟انکی طرف والی رقم ادارے تک پہنچ بھی گئی ہے،اب یہ نہیں پتاکہ موجودہ رقم میرے اکاؤنٹ میں ابھی تک کیوں ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ معاملہ ایزی پیسہ کمپنی سے رابطہ کر کے باآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے ۔ہماری معلومات کے مطابق کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کمپنی کی طرف سےرقم منتقلی کی رسید جاری کر دی جاتی ہے،لیکن بعد میں رقم منتقل کرنے میں ایرر (Error)آجاتا ہے ،لہذا وہ رقم دوبارہ ٹرانسفر کرنے والے کو بھیج دی جاتی ہے، لہذا اگر یہ معاملہ ہوا ہے تو آپ کو دوبارہ وہ رقم مذکورہ ادارے کی طرف بھیجنا لازم ہے ۔
حوالہ جات
۔۔۔
اسامہ مدنی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
27/ ذی الحجہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسامہ بن محمد مدنی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


