| 84183 | جائز و ناجائزامور کا بیان | ہدیہ اور مہمان نوازی کے مسائل |
سوال
ایک بندے کے رشتہ دار یا تعلق والے غیر مسلم ممالک میں سے کسی ملک میں رہائش پذیر ہوں،جہاں وہ ملازمت یا کاروبار کرتے ہوں اور وہاں سے وہ بندے کو بطور ہدیہ کچھ رقم بھیجتے ہوں تو ان غیر مسلم ممالک میں رہائش پذیر رشتہ داروں یا تعلق والوں سے ہدیہ کی رقم لینا شرعا درست ہے یا نہیں؟ جبکہ غیر مسلم ممالک کی معیشت کا سارا انحصار سود پر ہے اور ان لوگوں کی کمائی اسی سود سے حاصل ہوتی ہے۔
سود سے کمائی حاصل کرنے والے مسلم ممالک کے رشتہ داروں کے ساتھ سماجی تعلق رکھنا،یعنی ان کے ہاں آنا،جانا،کھانا،پینا یا کوئی ہدیہ وغیرہ لینا ازروئے شریعت درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی بھی ریاست کی آمدن کے مختلف اور متنوع ذرائع ہوتے ہیں،مثلا:مختلف نوعیت کےٹیکسز،حکومت کے ماتحت منافع بخش اداروں(ریل ویز،ہوائی جہاز وغیرہ)کی آمدن،ملکی اور بین الاقوامی قرضوں کی مد میں ملنے والی رقوم،کرنسی چھاپنے کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم،نجکاری کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم،دیگر ممالک کی امداد کے نتیجے میں ملنے والی رقوم وغیرہ،اس لئے کسی ملک کے معاشی نظام کے سود پر مبنی ہونے کے باوجود اس کی اکثر آمدن کو سود قرار نہیں دیا جاسکتا۔
نیز یہ بھی اصول ہے کہ کفار آپس میں اگر صریح غصب اور چوری کے علاوہ ناجائز طریقوں سے بھی ایک دوسرے سے مال کمائیں تو ایک مسلمان کے لئے جو ان کے ہاں کوئی جائز خدمت انجام دے رہا ہو،ان سے اپنے کام کا معاوضہ لینا جائز ہوتا ہے۔
لہذا ایسے ممالک میں رہائش پذیر افراد کی آمدن حرام نہیں ہوگی اور ان کی جانب سے بھیجی گئی رقم کو بطور ہدیہ قبول کرنے،ان کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے ہاں کھانے،پینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہوگا،بشرطیکہ ان افراد کی ذاتی ملازمت اور کاروبار حلال ہو۔
حوالہ جات
"المحيط البرهاني في الفقه النعماني "(5/ 367):
"واختلفت الصحابة ومن بعدهم في جواز قبول الهدية من أمراء الجور، فكان ابن عباس وابن عمر رضي الله عنهم يقبلان هدية المختار، وعن إبراهيم النخعي: أنه كان يجوز ذلك، وأبو ذر وأبو درداء كانا لا يجوزان ذلك، وعن علي رضي الله عنه: أن السلطان يصيب من الحلال والحرام، فإذا أعطاك شيئاً فخذه، فإن ما يعطيك حلال لك، وحاصل المذهب فيه أنه إن كان أكثر ماله من الرشوة والحرام لم يحل قبول الجائزة منه ما لم يعلم أن ذلك له من وجه حلال، وإن كان صاحب تجارة وزرع وأكثر ماله من ذلك، فلا بأس بقبول الجائزة ما لم يعلم أن ذلك له من وجه حرام، وفي قبول رسولﷲ عليه السلام الهدية من بعض المشركين دليل على ما قلنا.
وفي «عيون المسائل» : رجل أهدى إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
30/ذی الحجہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


