| 84171 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
ہم انتظامیہ نے مسجد کے ماحول کو بدمزگی سے بچانے کے لیے ایک فارم تیار کیا ہے،اس میں ذکر کی گئی شرائط کے ہم اور امام مسجد دونوں پابند ہوں گے، آیا یہ شرائط شرعا جائز ہیں یا نہیں؟ کیا ان شرائط کی پابندی اور انتظامیہ اور امام مسجد پر معاہدہ کے تحت لازم ہو گی؟معاہدہ کی شرائط درج ذیل ہیں:
- امام مسجد چھٹی پر جانے سے پہلے انتظامیہ کو اطلاع کریں گے۔
- امام مسجد کی غیر موجودگی میں امامت کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہو گی۔
- آئندہ رمضان امام مسجد تراویح نہیں پڑھائیں گے، بلکہ جس کا قرآن ٹھیک ہو گا انتظامیہ کے مشورے سے وہی تراویح پڑھائے گا۔
- دونوں قاری صاحبان اوپر والے ہال میں بچوں کو قرآن کی تعلیم دیا کریں گے۔
- ہر سال امام مسجد، قاری صاحب اور مؤذن سمیت تمام احباب کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا جائے گا۔
- آمدن اور اخراجات کا حساب کتاب انتظامیہ کے پاس ہو گا۔
- مسجد کے تعمیراتی اورترقیاتی کام انتظامیہ کی اجازت سے مشروط ہوں گے۔
نوٹ: درج بالا تمام شرائط انتظامیہ کے مشورے طے کی گئی ہیں، موجودہ امام صاحب پر ان شرائط کو ماننا لازمی ہو گا، اگر ان کو یہ شرائط منظور نہیں تو ان کی جگہ دوسرا امام مسجد رکھا جائے گا جو ان شرائط کو تسلیم کرے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی شرائط فی نفسہ جائز ہیں، البتہ شرط نمبر تین واضح نہیں ہے، کیونکہ اگر قرآن ٹھیک نہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ امام صاحب کا تلفظ غلط ہے، جس کی وجہ سے قرآن کی تلاوت کے دوران لحنِ جلی (بڑی غلطی) واقع ہوتی ہو تو اس صورت میں ایسے شخص کو فرض نمازوں کےلیےمستقل امام بنانا درست نہیں، بلکہ ان کی جگہ درست تلفظ والے شخص کو امام بنانا چاہیے، اور اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تلفظ درست ہونے کے باوجود ان کو اچھے انداز سے قراٴت نہیں کرنا آتی یا ان کی آواز خوبصورت نہیں تو یہ عذر شرعاً معتبر نہیں، اس عذر کی وجہ سے امام صاحب کو تراویح میں قرآن سنانے سے روکنا درست نہیں، کیونکہ جب اس کو انتظامیہ نے اتفاقِ رائے سے امام مقرر کر دیا تو بقیہ نمازوں کے ساتھ تراویح کی نماز پڑھانا بھی اس کے منصبِ امامت میں داخل ہے، خصوصا جبکہ تراویح میں قرآن سنانا قرآنِ کریم کو یاد رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے، لہذا ان کی اجازت کے بغیر کسی اور شخص کو تراویح کا امام بنانے میں ان کی حق تلفی ہے، البتہ اگر امام صاحب اپنی خوشی سے اچھی قراٴت کرنے والے قاری صاحب کو تراویح پڑھانے کا اختیار دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
اس کے علاوہ دیگر امور میں بھی امام صاحب کے ساتھ زیادہ پابندی اور بے جا سختی والا رویہ نہیں اپنانا چاہیے، بلکہ نمازیوں کو اس کے ساتھ احترام اور اکرام کے ساتھ پیش آنا چاہیے، خصوصاً اگر کسی معتبر شرعی عذر کی وجہ سے امام صاحب کبھی نماز میں لیٹ ہوجائیں تو ان پر غصے کے اظہار کی بجائے تحمل سے کام لینا چاہیے، نیز امام صاحب کی بھی ذمہ داری ہے کہ بلاعذر شرعی نماز کے مقررہ وقت سے تاخیر نہ کریں اور انتظامیہ کی طرف سے طے کی گئی شرائط کی پابندی کریں۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (1/ 465،رقم الحديث: 673) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
وحدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، وأبو سعيد الأشج، كلاهما عن أبي خالد، قال أبو بكر: حدثنا أبو خالد الأحمر، عن الأعمش، عن إسماعيل بن رجاء، عن أوس بن ضمعج، عن أبي مسعود الأنصاري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله، فإن كانوا في القراءة سواء، فأعلمهم بالسنة، فإن كانوا في السنة سواء، فأقدمهم هجرة، فإن كانوا في الهجرة سواء، فأقدمهم سلما، ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه، ولا يقعد في بيته على تكرمته إلا بإذنه»
شرح النووي على مسلم (5/ 173) ار إحياء التراث العربي – بيروت:
قوله صلى الله عليه وسلم ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه معناه ما ذكره أصحابنا وغيرهم أن صاحب البيت والمجلس وإمام المسجد أحق من غيره وإن كان ذلك الغير أفقه وأقرأ وأورع وأفضل منه.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3/ 863) دار الفكر، بيروت:
( «ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه» ) أي: في مظهر سلطنته ومحل ولايته، أو فيما يملكه، أو في محل يكون في حكمه، ويعضد هذا التأويل الرواية الأخرى في أهله، ورواية أبي داود في بيته ولا سلطانه، ولذا كان ابن عمر يصلي خلف الحجاج، وصح عن ابن عمر أن إمام المسجد مقدم على غير السلطان، وتحريره أن الجماعة شرعت لاجتماع المؤمنين على الطاعة وتآلفهم وتوادهم، فإذا أم الرجل الرجل في سلطانه أفضى ذلك إلى توهين أمر السلطنة، وخلع ربقة الطاعة، وكذلك إذا أمه في قومه وأهله أدى ذلك إلى التباغض والتقاطع، وظهور الخلاف الذي شرع لدفعه الاجتماع، فلا يتقدم رجل على ذي السلطنة، لا سيما في الأعياد والجمعات، ولا على إمام الحي ورب البيت إلا بالإذن.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 559) دار الفكر-بيروت:
(و) اعلم أن (صاحب البيت) ومثله إمام المسجد الراتب (أولى بالإمامة من غيره) مطلقا (إلا أن يكون معه سلطان أو قاض فيقدم عليه) لعموم ولايتهما، وصرح الحدادي بتقديم الوالي على الراتب.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
یکم محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


