| 84199 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
فرقان اور اشفاق کے درمیان باہمی رضامندی سے فرقان کےکپڑے کے کاروبارمیں اشفاق نے انویسٹمنٹ کی اور اس کے لیے ایک فکس نفع طے کیا، یہ سلسلہ کئی سالوں تک چلتا رہا۔ فریقین نے کاروبار میں نقصان کی کوئی صورت طے نہیں کی، صرف منافع فکس کیاتھا۔ اب دونوں اس شراکت سے نکلنا چاہتے ہیں، اشفاق جو کہ انویسٹر ہے،کے بقول انویسٹمنٹ کی یہ رقم اس کی ذاتی نہیں تھی، کسی دوسرے سے لے کر کی تھی اور فرقان (جو کاروبار کے اصل مالک ہیں) جس نے رقم لی تھی، کے بقول میں نے منافع کی مد میں لاکھوں روپے کئی سال سے دے رہا ہوں اور کاروباری لحاظ سے میں بالکل تباہ ہوگیا ہوں اس لیے میں انویسٹمنٹ کی اصل رقم نہیں دے سکتا، بلکہ جو رقم میں نے منافع کی صورت میں دی ہے، مجھے اس کا ازالہ کیا جائے۔
تنقیح: سائل اشفاق اور فرقان دونوں سے فون پر بات ہوئی ہے، اشفاق کے مطابق انہوں نے یہ رقم فرقان کے کاروبار میں صرف منافع کی غرض سے لگائی تھی، شرکت وغیرہ کی کوئی نیت نہیں تھی اور نہ ہی قرض دینے کی۔ مزید یہ کہ یہ ۲۰۱۴ سے ۲۰۱۹ تک صرف رمضان کے مہینے میں فرقان کے کاروبار میں رقم لگاتا تھا اور اسی ایک ماہ کے بعد اپنا طے شدہ نفع بمع اصل رقم واپس لیتا تھا، پھر سال ۲۰۱۹ میں الگ سا دس لاکھ (۱۰۰۰۰۰۰) روپے لگا کر باقاعدہ ریگولر انویسٹر بنا تھا ، جس پر مجھےماہانہ پینتیس ہزار ۳۵۰۰۰ نفع ملتا تھا اور رمضان کے مہینے میں میرا نفع دگناہوتا تھا ، یعنی ستر ہزار (۷۰۰۰۰)،پھر دسمبر ۲۰۲۳ میں مزید ایک لاکھ روپے لگایا تھا،اور پچھلے رمضان المبارک میں دو لاکھ اور لگادیے تھے، جس میں سے ایک لاکھ روپے فرقان نے واپس کیا تھا،اس طرح سے اب کل بارہ لاکھ (۱۲۰۰۰۰۰) لاکھ کا سرمایہ اشفاق نے فرقان کے کاروبار میں لگایا ہے، اور فرقان اسے واپس کرنے سے انکار کررہا ہے۔
جبکہ فرقان(کاروبار چلانے والا) کا کہنا ہے اشفاق نے ۲۰۱۴ میں پانچ یا چھ لاکھ کی انویسٹمنٹ کی تھی، جو اس وقت میرے کاروبار کا صرف دس فیصد بنتا تھا، مطلب ۱۰ اور ۹۰ کا تناسب بن رہا تھا، پھر ۲۰۱۵ میں مزید رقم لگا کر پورے دس لاکھ(۱۰۰۰۰۰۰) کا فگر پورا کیا تھا، اور یہ زیادہ سے زیادہ پندرہ سے بیس فیصد تک میرے کاروبار کا فیصد بنتا تھا، نیز اشفاق نے سال ۲۰۱۹ میں جو دس لاکھ روپے کی انویسٹمنٹ کا دعوی کیا ہے ، یہ بات صریح طور پر غلط ہے، بلکہ ۲۰۱۹ میں وہ سابقہ انویسٹمنٹ کی ایگریمنٹ پکی کرنے آیا تھا اور مجھ سے اسٹام پیپر پر دستخط کراکے چلا گیا تھا۔ ۲۰۱۴ میں اشفاق کوماہانہ ۴۵ ہزار نفع دیتا تھا پھر ۲۰۱۷ میں کاروبار میں نقصان کی وجہ سے ۳۵ ہزار نفع دینے لگاتھا، اور سال ۲۰۱۸ میں میں نے مزید دو لاکھ اشفاق سے لیے تھے، جس پر میں اسے ۱۲ ہزار نفع دیتا تھا، پھر ۲۰۲۰ میں تین لاکھ اور لیے تھے، جس پر میں اسے پندرہ ہزار نفع دیتا تھا ، تو اس طرح کل ملا کر ماہانہ ۵۷ ہزار نفع اشفاق کو ملتا تھا، اور اب تک میں اسے ۷۰ لاکھ منافع کی مد میں دے چکا ہوں۔ سال ۲۰۲۳ میں پانچ لاکھ(۵۰۰۰۰۰) اشفاق کو واپس کیے تھے ، جب میری کمیٹی نکل آئی تھی۔ فرقان کے بقول ان کے پاس ایک ایک چیز کا حساب لکھا ہواموجود ہے، بطور ثبوت وہ کوئی بھی حساب پیش کرسکتا ہے۔
ضروری وضاحت: فریقین سے تفصیلی بات ہوئی ہے، جن کے بیانات میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی چلتے ہوئے کاروبار میں نفع کی غرض سے رقم لگانا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ رقم لگانے والا کاروبار میں نفع کے ساتھ ساتھ نقصان میں بھی اپنے سرمایہ کے بقدر شریک رہے، نیز نفع ونقصان میں شراکت داری بھی تناسب کے ساتھ طے کی گئی ہو،مثلا اگر رقم لگانے والے کی رقم چلتے ہوئے کاروبار کا چالیس فیصد بن رہی ہو، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ شخص اس کاروبار کا چالیس فیصد شریک ہوگیا، یوں دونوں کے درمیان چالیس اور ساٹھ کا تناسب ہوا، پھر کاروبار کو جیسے جیسے نفع ہوتا رہے ، تو طے شدہ تناسب سے نفع آپس میں تقسیم کیا جائے، مثلا اگر کاروبار کو ماہانہ ایک لاکھ روپے نفع ہوتا ہے، تو اس میں سے کاروبار کے کل اخراجات منہا کرکے بقیہ صافی نفع آپس میں تقسیم کریں اور تقسیم کے وقت دیکھا جائے کہ کس شریک کو کتنا نفع دینا طے ہوا ہے ، اسی حساب سے نفع کی تقسیم ہو۔
اسی طرح اگر کاروبار میں کسی وقت نقصان ہوجائے، تو اس صورت میں ہر شریک اپنے لگائے گئے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا، یعنی جتنے فیصد دونوں شرکاء نے سرمایہ لگایا ہے، اتنے ہی فیصد ہر ایک شریک نقصان میں حصہ لے گا، اس سے کم و بیش حصہ طے نہیں کیا جاسکتا۔
اس اصولی حکم کے بعد صورت مسئولہ میں فریقین میں سے اشفاق کے لیے اس طرح ایک متعین رقم بطور نفع مقرر کرنا اوراس کے لیے نقصان کی بھرپائی طے نہ کرنا ، شرعا جائز نہ تھا،ایسی صورت میں صرف نفع کی شرط کے ساتھ شرکت کرنے سے شرط فاسد ہوجائے گی، البتہ شرکت کا معاملہ اپنی جگہ درست رہے گا، لہذا اس کی جائز صورت یہ بنتی تھی کہ فریقین آپس میں یہ طے کرلیتے کہ کہ کاروبار میں جو بھی نفع ہوگا، اس میں سے اتنے فیصد اشفاق کا ہوگا ، اسی طرح جتنا نقصان ہوگا، اشفاق اپنے سرمایہ کے بقدر اتنا نقصان برداشت کرلے گا، لہذا مذکورہ کاروبار میں جس وقت اشفاق نے جتنا سرمایہ لگایا تھا، وہ اس وقت کاروبار کا جتنا فیصد بنتا تھا، اتنے حصے میں اشفاق اس کاروبار کا شریک تھا، اور اس حد تک وہ کاروبار سے نفع لینے کا مستحق تھا، اسی طرح اگر کاروبار میں کوئی نقصان ہوتا، تو اسے اپنےسرمایہ کے تناسب سے برداشت کرنا لازم تھا، لیکن چونکہ فریقین نے اس وقت کوئی ایسا عقد(ایگریمنٹ) نہیں کیا تھا، بلکہ اشفاق کے لیے صرف ماہانہ فکس نفع کی شرط لگائی گئی تھی، جو اسے بہرصورت (چاہے کاروبار کو نفع ہو یا نہ ہو) ملتا تھا، لہذا شریعت کی رو سے ایسی شرط معتبر نہیں ۔
اب چونکہ اشفاق اس کاروبار سے نکلنا چاہتا ہے، تو اس کا شرعی حل یہ ہے کہ اشفاق نے اس کاروبار میں جتنا سرمایہ لگایا تھا، مثلا اگر اس کا سرمایہ کاروبار کا دس فیصد بنتا تھا، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ماہانہ مجموعی صافی نفع میں سے دس فیصد لینے کا حق دار تھا۔، لہذا کاروبار میں نفع ہونے کے بعد اس کے تمام اخراجات مثلا دکان کا کرایہ، بجلی کا بل، مال منگوانے پر کیا گیا خرچہ اجمالی نفع (gross profit) سے منہا کرکے جو صافی نفع بچتا تھا، اس میں سے دس فیصد اشفاق کا بنتا تھا۔ اشفاق ماہانہ نفع خواہ پینتیس ہزار(۳۵۰۰۰) لیتا تھا یا اس سے زیادہ ، اس بات سے قطع نظر بلکہ اب یہ دیکھا جائےگا کہ اس کا لیا گیا نفع اس کے سرمایہ کے تناسب کا کتنا فیصد بنتا تھا ، اگر وہ اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ بنتا تھا، تو زیادہ نفع لینا اس کے لیے جائز نہ تھا، اس لیے کہ وہ شریک غیر عامل (sleeping partner) تھااور ایسے شریک کے لیے اپنے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نفع لینا جائز نہیں، لہذا ایسی صورت میں اضافی نفع اس سے واپس لیا جائےگا اور اگر اس کو ملنے والا نفع اس کے سرمایہ کے تناسب سے کم تھا، تو وہ سرمایہ کے بقدر نفع لینے کا حق دار سمجھا جائے گا۔
نفع کی اس اصولی تقسیم کے بعد اب یہ دیکھا جائے کہ اشفاق انویسٹمنٹ کی ابتدا سے لے کر اب تک نفع کی مد میں کل کتنا نفع لے چکا ہے، اگر وہ سرمایہ کے تناسب سے زیادہ لیتا رہا ہے، تو جتنا زیادہ نفع لیا ہے، اسے اس کی اصل رقم میں سے محسوب(شمار ) سمجھا جائے گا، یعنی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنی اتنی رقم واپس لے چکا ہےاور بقیہ رقم کی واپسی دوسرے شریک (فرقان) پر لازم ہےاور اگر اسےنفع سرمایہ کے تناسب سے کم ملا ہے، تو اپنے سرمایہ کے بقدر نفع لینے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
اگر فریقین کے لیے ماہانہ نفع کی تقسیم کا حساب لگانا مشکل ہو ،تو سہ ماہی یا ششماہی یا سالانہ بنیاد پر حساب کتاب کرکے معاملہ کو ختم کردیں ۔
اگر فریقین اس حساب کتاب اور تقسیم پر راضی نہ ہوں، تو دونوں بیچ کی کوئی راہ نکالیں اور اس پر صلح کرکے معاملہ کو حل کرلیں۔
حوالہ جات
مصنف عبد الرزاق الصنعاني (8/ 248):
15089 - عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، وَعَنْ هَاشِمٍ أَبِي كُلَيْبٍ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ الْأَسَدِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ قَالُوا: «الرِّبْحُ عَلَى مَا اصْطَلَحُوا عَلَيْهِ، وَالْوَضِيعَةُ عَلَى الْمَالِ، هَذَا فِي الشَّرِيكَيْنِ فَإِنَّ هَذَا بِمِائَةٍ، وَهَذَا بِمِائَتَيْنِ»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 62)
إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال، وإن كان المالان متساويين فشرطا لأحدهما فضلا على ربح ينظر إن شرطا العمل عليهما جميعا جاز، والربح بينهما على الشرط في قول أصحابنا الثلاثة.
الفتاوى الهندية (2/ 302):
وأن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة، كذا في البدائع.
صفی اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
01/محرم الحرام/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


