| 84174 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک طالبِ علم نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ "اگر میری فراغت سے پہلے میری دوسری منگنی یا شادی نہیں کرائی (دونوں میں سے کوئی بھی ہو) تو پہلی بیوی مجھ پر طلاق ہے"
مذکورطالب علم کا فراغت کے بعد تخصص کا ارادہ بھی تھا، مگر جس وقت وہ طلاق کے مذکورہ الفاظ زبان سے نکال رہاتھا اس وقت سوائے فراغت کے اورکچھ اس کے ذہن میں نہیں تھا۔اس مسئلے کا کیاحکم ہے،برائے کرم بیان فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فراغت سے معہود اورمعروف معنی دورہ حدیث سے فراغت ہے، نہ کہ تخصص سے فراغت ،نیز مذکورقول کرتے وقت طالب علم مذکورکے ذہن میںتخصص سے فراغت نہیں تھی، لہذا مسئولہ صورت میں فراغت سے مراد دورہ حدیث سے فراغت ہوگی جومعروف ہے اوراس طالب علم کے گھر والوں نے اگر اس کے دورہ حدیث سے فراغت سے پہلے اس کی دوسری منگی یا شادی نہیں کرائی تو اس کی پہلی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائےگی اوروہ عدت کے اندررجوع اورعدت کے بعد گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرسکے گا اورآئندہ کے لیے اس کو صرف دوطلاقوں کا اختیاررہے گا۔
حوالہ جات
وفی الفتاوى الهندية (1 / 420):
"إذا أضاف الطلاق .... إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقًا".الفصل الثالث في تعليق الطلاق، ج:1، ص:420، ط:مكتبه رشيديه.
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 83):
إذا قال لامرأته: إن لم أتزوج عليك فأنت طالق، ولم يتزوج حتى مات أنه يقع الطلاق على امرأته مقتصرا على الحال؛ لأن هناك علق الطلاق صريحا بعدم التزوج، والعدم يستوعب العمر (وفی مسئلتناقد عین لہ الوقت فیقع الطلاق بمضیہ).......، والمعلق بشرط ينزل عند تحقق الشرط بتمامه فوقع مقتصرا على حال وجود الشرط.
وفی فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 158):
(وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض) لقوله تعالى {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك؛ ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها.
وفی المبسوط للسرخسي (7/ 82):
وبدون نيته إنما لم ندخله للعرف فإن المملوك اسم للعبد الكامل عرفا، وقد سقط اعتبار هذا العرف حين نوى بخلافه.
وفیہ أیضاً (8/ 178):
ولو حلف لا يأكل شواء، ولا نية له، فهو على اللحم خاصة ما لم ينو غيره؛ لأن الناس يطلقون هذه اللفظة على اللحم عادة دون الفجل والجزر المشوي، ألا ترى أن الشواء اسم لمن يبيع اللحم المشوي، فمطلق لفظه ينصرف إليه للعرف، إلا أن ينوي كل ما يشوى من بيض أو غيره، فتعمل نيته.
قال ابن عابدين في رسالته في العرف:
والعرف في الشرع له اعتبارلذا عليه الحكم قد يُدار
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
1/1/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


