03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ کاوصیت اورقرض کادعوی کرنا
84191دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

عبداللہ (فرضی نام)وفات پا چکا ہے،اُن کے ورثہ میں ایک بھائی اور بیوی ہیں،عبداللہ مرحوم کے ترکہ میں زمین بشمول گھر، حجرہ اور ایک زمیندار کے لئےگھر جو زمین کوسنبھال رہا ہے، مجموعی طور پر یہ پندرہ جرب زمین بنتی ہیں۔مرحوم نے پندرہ جرب زمین میں سے دو کنال اپنی حیات میں بھائی سے مشورہ کے بعد مدرسے کو وقف کیا تھا اوراس معاملہ کے دستاویز ،گواہ اور تحریر موجود ہیں۔اس کے علاوہ کوئی وصیت یا کسی وصیت کے گواہان یا کوئی تحریر موجود نہیں ہے جس کو بطورِ وصیت قبول کیا جا سکے۔

عبداللہ مرحوم کے دو بنک اکاؤنٹ تھے۔ بوقت وفات ایک میں 19 لاکھ جبکہ دوسرے میں 51 لاکھ روپے پڑے تھے،51 لاکھ روپے والے اکاؤنٹ کو کرونا وبا کے دوران احتیاطاً جوائنٹ (بیوی کے ساتھ مشترکہ) بنایا گیا تھا،گاڑی، بندوق ،زمین وغیرہ کی فروخت بعد اب ایک اکاؤنٹ میں 70 لاکھ جبکہ دوسرے اکاؤنٹ میں 22 لاکھ روپے موجود ہیں،اب زوجہ عبداللہ (فرضی نام) کا دعویٰ ہے کہ مرحوم نے زبانی وصیت کی تھی کہ جتنی بھی نقد رقم ہے وہ سب آپ کی ہے اور اس پر میں قسم اٹھانے کو تیار ہوں، اس میں سے کسی کو کوئی حصہ نہیں دوں گی اس کے علاوہ زمین اور حجرہ میں سے 1/4 لینے پر تو آمادہ ہے لیکن دعویٰ ہے کہ گھر بناتے وقت شوہر نے میرا سات تولہ سونا بیچ دیا تھا اس لئے مکان میں بھی کسی کو کوئی حصہ نہیں دوں گی اور اگر لینا ہے تو پھر پہلے مجھے سونے کی رقم ادا کی جائے ،اس کے بعد گھر کا 1/4 حصہ دیا جائے اور جو زمیندار کو رہنے کیلئے گھر دیا گیا ہے شوہر نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد یہ گھر زمیندار کو دیا جائے۔ ان دعوؤں کا کوئی ٹھوس ثبوت کوئی گواہ یا تحریر موجود نہیں ہے۔

علماء دین ومفتیان سے راہنمائی اور فتویٰ درکار ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی طورپروارث کے لئے وصیت جائزنہیں،اگرکسی نے کردی تواس کانفاذدوسرے ورثہ کی رضامندی پرموقوف ہوتاہے،اگرورثہ اس پرراضی ہوں تووصیت معتبرہوتی ہے،بصورت دیگر معتبرنہیں ہوتی،صورت مسؤلہ میں اگرشوہرنے بیوی کے لئے نقدی وغیرہ کی وصیت کی بھی ہے تواس وصیت کادرست ہونابھائی کی رضامندی پرموقوف ہے،اگربھائی اس پرراضی ہے توبیوی شوہرکی وصیت کے مطابق ساری نقدی لے سکتی ہے،اگربھائی راضی نہیں ہے توقانون وراثت کےمطابق اس نقدی میں بھائی کابھی حصہ ہے،باقی مرحوم نے زمیندارکے لئے وصیت کی ہےاگریہ وصیت گواہوں کے ذریعہ یادوسرے ورثہ کے اقرار کے ذریعہ ثابت ہوجائے تواس میں دیکھیں گے اگراس گھرکی مالیت کل ترکہ کے تہائی یااس سے کم ہے توزمیندارکےلئے پورے گھرکی وصیت نافذہوگی،اوراگراس  کی مالیت کل ترکہ کے تہائی سے زیادہ ہے توتہائی کی بقدرنافذہوگی،باقی کانفاذ ورثہ کی رضامندی پرموقوف ہوگا،اگروصیت ہی ثابت نہ ہوتویہ گھربھی ترکہ میں شامل ہوگا۔

بیوی اگردعوی کرتی ہے کہ مکان کی تعمیر شوہرنے اس سے زیورقرض لیکربنایاہے،بھائی اس دعوی کونہ مانے توایسی صورت میں بیوہ  کواپنے دعوی پردوگواہ پیش کرناضروری ہے،اگروہ اپنے دعوی پرگواہ پیش کردیتی ہے تواتنازیوریااس کی قیمت کے برابرنقدی مرحوم کے ترکہ سے لینے کی حق دار ہے اوراگراس خاتون کے پاس اپنے دعوی پرگواہ نہ ہوں اوربھائی اس کے دعوی کوتسلیم بھی نہیں کرتاتواس صورت میں بھائی سے قسم لی جائے گی کہ اس کواس قرض کاعلم نہیں اورنہ ہی مرحوم نے اس کوبتایاہے،اگربھائی قسم اٹھانے سےانکارکردے توعورت کادعوی ثابت ہوجائے گا اورعورت کومرحوم کے ترکہ میں سے قرض کی بقدررقم اداکی جائے گی ،پھرترکہ تقسیم ہوگااوراگربھائی قسم اٹھالے توعورت کادعوی ختم ہوجائے گا اورعورت کواس رقم یازیورلینے کاحق نہیں ہوگا،ساراترکہ قانون وراثت کے مطابق دوتقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

فی الفتاوى الهندية (ج 48 / ص 19):

ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة ، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك ، كذا في فتاوى قاضي خان .

فی الفتاوى الهندية (ج 25 / ص 22):

 وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا - رحمهم الله تعالى - بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه . إن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه۔

وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج 14 / ص 158):

وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله عليه الصلاة والسلام "البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه" جعل عليه الصلاة والسلام البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين.

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۱ /محرم الحرام ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب