| 84165 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کوہستان کے علاقے میں داسو ڈیم کے نام سے ایک ڈیم بن رہا ہے ۔جو زمین اور مکانات اس کی زد میں آ رہے ہیں، حکومت لوگوں کو ان زمین اور مکانات کا معاوضہ فراہم کرتی ہے ۔چونکہ آباد زمین اور مکان کا معاوضہ عام زمین سے بڑھ کر ہوتا ہے، اس لیے کچھ لوگوں نے ایسا بھی کیا کہ اپنی غیر آباد زمین پر کسی دوسرے شخص سے سرمایہ لا کر اپنی زمین پر مکانات تعمیر کرائے اور معاہدہ یہ ہوا کہ جو رقم زمین کے عوض ملے گی تو وہ مالک زمین کی ہی ہوگی اور جو رقم مکان کے عوض ملے گی اس میں سے سرمایہ کار اپنا اصل سرمایہ لے گا ،پھر بقیہ نفع مالک زمین اور سرمایہ کار میں برابر تقسیم ہوگا ۔اس قسم کے کئی معاہدے ہو چکے ہیں اور وہ لوگ اپنی اصل رقم اور نفع وصول کر چکے ہیں ۔زمینوں اور مکانوں کے معاوضہ کا اعلان کافی سال قبل ہوا تھا اور اسی وقت ری سیٹلمنٹ پیکج کا اعلان بھی ہوا تھا اور یہ اعلان معاوضہ کے ملنے سے کافی سال قبل ہوا تھا۔ معاوضہ ملنے کے ایک یا دو سال بعد حکومت کی طرف سے چولہہ پیکج کے نام سے متاثرین کے لیے ایک ریلیف پیکج ملا اور یہ پیکج زمین اور مکان کا معاوضہ نہیں ،بلکہ حکومت کی طرف سے ری سیٹلمنٹ کے طور پر زمین دینی تھی لیکن مناسب زمین نہ ملی، اس لیے حکومت نے متاثرہ لوگوں کو ریسٹلمنٹ کے بدلے Self-management resettlement (S.M.R) چولہہ پیکج کے نام پر 35لاکھ روپے دینے کا معاہدہ کیا اور رقم ادا کر دی۔ یہ رقم اور پیکج صرف متاثرین کو ملی ہے اور یہ رقم سابقہ معاہدہ معاوضہ زمین اور مکان کے رقم ملنے کے بعد الگ سے نئے معاہدے کے تحت ملی ہے۔
اب ہوا یہ کہ مسمی گلزادہ نے اپنی زمین پر گھر تعمیر کرانے کے لئے مسمی ولایت نور سے چند شرائط کے ساتھ معاہدہ کیا جو در ج ذیل ہیں:
1-زمین گلزادہ کی ہوگی اور زمین کی رقم یعنی معاوضہ صرف انہی کو ملےگی۔
2-سرمایہ ولایت نور کی طرف سے ہوگا۔
3-مکان کا جس قدر معاوضہ ہوگا، اس میں سے پہلے ولایت نور اپنا سرمایہ وصول کرے گا اور بقیہ رقم بطور منافع گل زادہ اور ولایت نور کے درمیان برابر تقسیم ہوگی.
4-اگر ڈیم کینسل ہوا اور گھر واپڈا والوں نے نہ لیا تو گلزادہ ولایت نور کو اس کا لگایا ہوا سرمایہ واپس کرنے کا پابند ہوگا۔اس معاہدہ کے بعد حکومت کی طرف سے معاوضہ بھی ملا اور اس کو گلزادہ اور ولایت نور نے آپس میں تقسیم بھی کیا۔ اس کے تقریبا دو تین سال بعد حکومت کی طرف سے متاثرین کے لیے چولہہ پیکج ملا۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ ریسیٹلمنٹ پیکج کا اعلان زمینوں اور مکانوں کے معاوضہ دینے سے پہلے ہی ہو چکا تھا ،لیکن گلزار ہ اور ولایت نور کے معاہدے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوا تھا ،دوسری بات بھی واضح رہے کہ مذکورہ زمین خسرہ نمبر پر جوچولہہ پیکج ملا ہے ،وہ گلزادہ کے بجائے اس کے بھائی کے نام پر ہے اور اسی نے ہی رقم حکومت سے وصول کی ہے ۔اب فریقین کے درمیان تنازعہ ہوا ، ولایت نور کا گل زادہ پر دعوی ہے کہ چونکہ جس گھر میں میں نے سرمایہ کاری کی تھی، اسی پرآپ کو رقم ملی ہے، اس لیے چولہہ پیکج میں ،میں بھی آپ کے ساتھ برابر شریک ہوں ،کیونکہ اگر میں سرمایہ کاری نہ کرتا تو آپ کو چولہہ پیکج کی رقم بھی نہ ملتی ،گل زادہ کہتا ہےکہ چولہہ پیکج کی رقم نہ زمین کا معاوضہ ہے، نہ مکان کا ،بلکہ یہ ایک پیکج کے لیے ریلیف ہے اورریسٹلمنٹ کے بدلے نیا پیکج جس کو(S.M.R) چولہہ پیکج کہتے ہیں، ملا ہے اور ہمارا جو معاہدہ ہوا تھا، اسی کے مطابق ہم نے اصل اور نفع تقسیم کر کے ہماری شرکت دو تین سال پہلے ختم ہو گئی ہے، لہذا میرے ذمہ آپ کا کچھ بھی نہ رہا ۔
مذکورہ وضاحت کے بعد اب پوچھنا یہ ہے۔
1-معاہدہ کی شق نمبر چار کی رو سے یہ شرکت درست ہے ؟ اگر نہیں ہے تو اب اس کا کیا حکم ہوگا؟
2- کیا اس چولہہ پیکج کی رقم میں (جو کہ ری سیٹلمنٹ کے بدلے میں متاثرہ شخص کو ملی ہے حالانکہ ریسیٹلمنٹ کا اعلان معاہدے کے وقت ہوا تھا اور معاہدے میں ریسٹلمنٹ کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے )ولایت نور کا شرعاکوئی حصہ بنے گا یا نہیں؟ نیز یہ پیکج کی رقم گلزار ہ کے بھائی کو ملی ہے اور دعوی گلزارہ پر کر رہا ہے۔
تنقیح : سائل نے بتا یا کہ سرمایہ والے نے صرف سرمایہ فراہم کیا ہے ، تعمیرات مالک زمین نے خود کی ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صور ت مسئولہ میں ولایت نور کے فراہم کردہ سرمایہ کی حیثیت مال مضاربت کی ہے ، اگر متعلقہ مجاز اتھارٹی (جس کو ان امور کا پورا اختیا ر تھا) کے اصول کےمطابق اس کے علم و اجاز ت سے حکومت کی طرف سے ان صورتوں میں رقم دی گئی ہے تو گھر سے بے دخلی کی مد میں گھر کےمعاوضہ کےطورپر ملنے والی رقم کو آپس میں طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کرنا اور ان کو اپنے پاس رکھنا جائز ہے ۔البتہ چولہا پیکج میں ملنے والی ساری رقم گلزادہ کی ہوگی، کیونکہ یہ رقم اگرچہ گھر کی وجہ سے دی گئی ہے،لیکن یہ گھر کا معاوضہ نہیں ،بلکہ دوسری جگہ آباد کرنے کےلیےدی گئی ہے ۔
لیکن اگر متعلقہ مجاز اتھارٹی کے علاوہ کسی اور کی اجازت سے یا غلط بیانی یا عملی تزویر کاری سے ان صورتوں میں رقم حاصل کی گئی ہے تو گل زادہ کےلیے زمین کی قیمت ا ور ولایت نور کےلیے اپنے لگائے گئے سرمایہ کے بقدر رقم وصول کرنا جائز ہے، ا س کے علاوہ گھر سے بے دخلی کی مد میں ملنے والی اضافی رقم اور چولہا پیکج میں ملنے والی ساری رقم حکومت کو لوٹانا لازم ہے۔
حوالہ جات
المعاییر الشرعیۃ ( المعیار رقم : 17 ):
يجوزتصكيك (توريق) الموجودات من الأعيان والمنافع والخدمات، وذلك بتقسيمها إلى حصص متساوية وإصدارصكوك بقيمتها، في الذمم فلا يجوزتصكيكها (توريقها) لغرض تداولها.
صكوك المضاربة:
المصـدرلتلك الصكوك هو المضـارب، والمكتتبون فيها هم أرباب المصـدر لتلك الصكوك هو المضـارب، والمكتتبون فيها هم أرباب المـال، وحصيلـةالاكتتاب هـي رأس المـال، وحصيلـة مال المضاربـة، ويملك حملة الصكـوك موجـودات المضاربـة والحصـةالمتفـق عليهامـن الربح لأرباب المال، ويتحملون الخسارة إن وقعت َ۔
https://www.sbp.org.pk/IHFD/PDF/Islamic-Infrastructure-Project-Financing.pdf
2) AN OVERVIEW OF INFRASTRUCTURE PROJECT FINANCING
As per International Project Finance Association (IFPA), Infrastructure Project Financing is defined as “the financing of long-term infrastructure, industrial projects and public services based upon a nonrecourse or limited recourse financial structure where project debt and equity used to finance the project are paid back from the cash-flow generated by the project.”
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
02 /محرم /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


