| 84158 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسائل کے بارےمیں کہ
میرے شوہرنے تین سال پہلے 2021ء میں تین طلاقیں ایک ساتھ دی تھی جس میں اس کے الفاظ یہ تھے کہ "میں نے تمہیں طلاق دے دی ،دے دی ،دے دی"پھر اس کے بعد میں نے ایک قاری صاحب سے پوچھا کہ کیا میری طلاقیں ہوگئی ہیں؟ تو انہوں نے تصدیق کردی کہ میری طلاقیں ہوگئی ہیں، پھر عدت مکمل کرنے کے بعد میرے دیورسے میرا نکاح کروایا گیا جس میں ہم نے کوئی جسمانی تعلق نہیں رکھا اوردیورسے طلاق لینے کے بعد عدت مکمل کی پھر اس کے بعد میں نے اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کرلیا تو کیا اس طرح میرا حلالہ اورشوہر سے رشتہ جائزہے؟رہنمائی فرمائیں اوراگر جائزنہیں تو اس کا کیا جرمانہ ہوگا ؟اس کی بھی رہنمائی فرمائیں اورفتوی دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تین طلاق کی صورت میں عورت سابق شوہر کے لئے حلالہ شرعی سے پہلے حلال نہیں ہوتی، اور حلالہ شرعی میں دوسرے شوہر کا محض نکاح کرنا کافی نہیں؛ بلکہ اس کا عورت کے ساتھ صحبت کرنا یعنی: دخول کرنا بھی ضروری ہے، پس اگر شوہر ثانی نے صحبت سے پہلے طلاق دیدی یا اس کا انتقال ہوگیا تو عورت پہلے شوہر کے لئے حلال وجائز نہ ہوگی، اور اگر اس نے پہلے شوہر سے نکاح کرلیا تو وہ ہرگز درست نہ ہوگا؛ بلکہ باطل وغیر معتبر ہوگا؛ کیوں کہ حلالہ نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ شرط لگاکر حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا اور کرانا لعنت اور گناہ کا کام ہے اگرچہ عورت اس طرح کے حلالہ سے بھی اپنے سابق شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے بشرطیکہ شوہر ثانی صحبت کرنے کے بعد طلاق دیدے یا بقضائے الٰہی اس کا انتقال ہوجائے اور عدت گذرجائے، لہذا مسئولہ صورت میں محض دیورسےنکاح کرکے جماع کے بغیر طلاق لینے سےمذکورہ عورت پہلے شوہر کےلیے حلال نہیں ہوئی، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں اورصدقِ دل سے توبہ اوراستغفارکریں اورشرعی حلالہ سے پہلے ایک دوسرے سے الگ رہیں۔
حوالہ جات
وفی القرآن الكريم:
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة : 230]
وفی أحكام القرآن للجصاص( ج: 5 ص: 415):
قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".
وفی صحيح البخاري-نسخة طوق النجاة (ص: 89):
عن عائشة أن رجلا طلق امرأته (امرأة) ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي ? أتحل للأول قال لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول.
وفی رد المحتار:
ثم اعلم أن اشتراط الدخول ثابت بالإجماع فلا یکفي مجرد العقد الخ (رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الرجعة ۵: ۴۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)
وفی الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.
وفی سنن الترمذي - (3 / 428):
عن عبد الله بن مسعود قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم المحل والمحلل له.
وفی الدر المختار (3/ 414):
(وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن
أحللك(وإن حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال، خلافا لما زعمه البزازي.
وفی الفتاوى الهندية - (1 / 474):
رجل تزوج امرأة ومن نيته التحليل ولم يشترطا ذلك تحل للأول بهذا ولا يكره وليست النية بشيء ولو شرطا يكره وتحل عند أبي حنيفة وزفر - رحمهما الله تعالى - كذا في الخلاصة وهو الصحيح هكذا في المضمرات.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
06/01/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


