| 84159 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص کے گھر میں شادی تھی ،دولہے کے بھائی نے گھر میں کہا کہ "شادی کے موقع پر گھر میں ناچ گانا نہیں ہوناچاہیے، اگرآج گھر میں ناچ گانا ہوا تو میں کلما کی طلاق دیتاہوں"جبکہ طلاق دینے والی کی صرف منگی ہوئی ہے،حسبِ رواج ہمارے ہاں منگنی کے موقع پر نکاح نہیں ہوتا، بلکہ شادی کے موقع پر نکاح ہوتاہے،مذکورہ مسئلے کا شرعی حکم درکارہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
’’اگرآج گھرمیں ناچ گانا ہوا تو میں کلما کی طلاق دیتاہوں‘‘یہ الفاظ لغو ہیں کیونکہ ’’کلّما کی طلاق ‘‘ کی قسم اس وقت معتبر ہوتی ہے جب فی الحال نکاح موجود ہو یا نکاح کی طرف قسم کے الفاظ میں نسبت موجود ہو ، جبکہ مذکورہ صورت میں نکاح بھی موجود نہیں ہے اورمذکورشخص نے نکاح کی طرف نسبت بھی نہیں کی ،لہذا مذکورہ جملہ عبث اور بے کار ہے، اگرچہ عوام الناس بعض دفعہ اس کو کلما کی قسم سمجھ لیتے ہیں،لیکن شرعاً اس کا اعتبارنہیں، اس لیےمسئولہ صورت میں نکاح کرنے سے شخص مذکورکی بیوی پرمذکورہ الفاظ کہنے سے کوئی واقع طلاق نہ ہوگی،البتہ ناچ گانے سے ویسے بھی پرہیزلازم ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار - (۳ / ۲۴۷):
قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام اهـ فتأمل.
وفیہ ٲیضاً (3/ 642):
الحاصل كما في البحر أنه إذا علق بالملك أو بسببه كالشراء لا يشترط تحقق الملك وقت التعليق، وإن علق بغيرهما كدخول الدار اشترط وجود الملك وقت التعليق ووقت نزول الجزاء ولا يشترط وجود الملك فيما بينهما.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
06/1/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


