| 84222 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
فقہاء کرام جو اصطلاح استعمال کرتے ہیں فرج خارج اور فرج داخل اس سے کیا مراد ہے؟ میں نے بہت پڑھا اور پوچھا لیکن مجھے بہت کنفیوزن رہتی ہے، کیونکہ کچھ فقہاء کرام فرج داخل سوراخ کے بعد والا حصہ جو اندر کی طرف جاتا ہے اسے کہتے ہیں اور فرج خارج سوراخ کے باہر والا حصہ جب سوراخ بند ہوتا ہے اس سے باہروالے حصہ کوکہتے ہیں۔
اور کچھ فقہاء کرام باہر والا حصہ جو نظر آ رہا ہوتا ہے جب اندرونی ہونٹ فطری طور پر بند ہوں تو جتنا حصہ نظر آ رہا ہوتاہے یا ظاہر ہوتاہے اسے فرج خارج اور اس سے بعد والا حصہ یعنی اگر اندرونی ہونٹوں کو کھولا جائے تو جو حصہ نظر آتا ہے یعنی سوراخ جب بند ہو اس کا باہر والا حصہ جہاں عموما تری موجود ہوتی ہے اس سے لے کر سورخ کے اندر تک کے حصے کو فرج داخل کہتے ہیں۔
براہ کرم تفصیل سے سمجھادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حضرت مفتی رشیداحمدلدھیانوی نوراللہ مرقدہ لکھتے ہیں:عورت کی شرمگاہ کے دوحصے ہیں: ایک بیرونی حصہ جومستطیل شکل کاہے،اس کے بعدکچھ گہرائی میں جاکرگول سوراخ ہے،اس گولائی سے اوپرکے حصہ کوفرج خارج اوراندرونی حصہ کوفرج داخل کہاجاتاہے،فرض غسل میں فرج خارج کادھونافرض ہے یعنی گول سوراخ تک پانی پہنچاناضروری ہے(احسن الفتاوی37/2:) اس معلوم ہوا گول سوراخ تک کاحصہ فرج ظاہری کہلاتاہے اورگول سوراخ کے بعدوالاحصہ فرج داخل کہلاتاہے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۷/محرم الحرام۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


