03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غسل فرض ہونے کے لئے منی کافرج داخل سے باہرآناضروری ہے؟
84223پاکی کے مسائلغسل واجب کرنے والی چیزوں، فرائض اور ،سنتوں کا بیان

سوال

میں نے پڑھا تھا کہ اگر عورت کو احتلام ہو جائے اور ڈسچارج ہو جائے تو غسل اس وقت فرض ہوتاہے جب ڈسچارج سوراخ کی جو باہر والی سطح جو اندرونی ہونٹوں کے بالکل  بعد والی جگہ ہے جہاں تری رہتی ہے اس سے تجاوز کرکے باہر والے حصے جو ظاہری جگہ ہوتی ہے یعنی اندرونی ہونٹوں میں آ جائے،اگر ڈسچارج اندر ہی رہے یعنی سوراخ کی سطح پر اندرونی ہونٹوں کے اندر اندر، باہر کی طرف نہ آئے تو غسل فرض نہیں،کیا ایسا ہی ہے؟ اگر مجھے احتلام ہوجائے اور صبح اٹھنے پر ظاہری کچھ ڈسچارج نہ ہوتو کیا مجھے روئی سے یا انگلی سے اندر(سوراخ کے اندر نہیں سوراخ کی باہر کی سطح جو اندرونی ہونٹوں کے اندر ہوتی ہے) دیکھنا ہو گا ڈسچارج؟

یعنی اگر احتلام میں اگر منی سوراخ کی باہر کی سطح پر ہو اور باہر تک ظاہر نہ ہو تب غسل نہیں ہو گا؟ لیکن جیسے ہی منی اندرونی ہونٹوں میں ظاہر ہو گی تو غسل ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فرج داخل(گول سوراخ) سے باہر منی نکلنے کی صورت  میں غسل فرض ہوتاہے،جب تک منی فرج داخل سے باہرنہ نکلے توغسل فرض نہیں ہوتا،لہذاصورت مسؤلہ میں انگلی وغیرہ داخل کرنے کی ضرورت نہیں،احتلام کی صورت میں اگرمنی گول سوراخ سے باہرآگئی ہے توغسل فرض ہوگا،بصورت دیگرغسل فرض نہیں۔

حوالہ جات

فی رد المحتار (ج 1 / ص 172):

قوله: (من العضو) هو ذكر الرجل وفرج المرأة الداخل احترازا عن خروجه من مقره ولم يخرج من العضو بأن بقي في قصبة الذكر أو الفرج الداخل، أمالو خرج من جرح في الخصية بعد انفصاله عن مقره بشهوة فالظاهر افتراض الغسل، وليراجع.

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۷/محرم الحرام۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب