03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع  کاحکم  
84323طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

 سوال:میری گیارہ سال پہلےایک طلحہ نامی شخص سےشادی ہوئی،اس کااوراس کےگھروالوں کارویہ ہمیشہ مجھ سےبرارہا،طلحہ  چندذہنی امراض (جیسےAnxiety اورہائی بلڈپریشر )کاشکارتھا،اس کااثرمیری اورمیرےبچوں کی ذات پربھی ہورہاتھا،بطورذہنی تشدد، جسمانی تشدداورنان نفقہ کی محرومی کی صورت میں،مگرمیں برداشت کرتی رہی،مگرایک شب طلحہ نےمجھ پراورمیرےبچوں پرجارحانہ تشدد کیا،اسی اثناء میں میں نےاپنےمیکےوالوں کو کال کرکےمعاملہ سےمتعلق مطلع کیااوروہ پولیس لےکرہمیں ریسکیوکرنےآئے،جب سےمیں اپنےبچوں سمیت میکےمیں رہ رہی ہوں۔

پھرہم نےعدالتی خلع برائےتنسیخ نکاح کامقدمہ دائر کیااورعدالت نےفسخ نکاح کاحکم جاری کردیا،وکیل کی غفلت سےمیں بہت پریشان ہوں،MLAکی رپورٹ ہوتےہوئےبھی وکیل نےدستاویزات پرلکھاکہ ہم ان تمام لوازمات کوثابت نہیں کرپائےہیں،وکیل کاکہناہےکہ یہ ضروری نہیں تھا،آپ اگرکہیں کہ  آپ کو شوہرکی شکل پسند نہیں  ہےتوبھی آپ کو جج طلاق دےدیتا،اس لیےہم نےMLAرپورٹ ساتھ نہیں لگائی ،اب مجھےکوئی ادارہ فتوی نہیں دےرہا۔

آپ سےگزارش ہےکہ آپ تمام دستاویزات کامطالعہ کرکےمجھےتنسیخ نکاح کافتوی دےدیں،نان ونفقہ کی محرومی اورذہنی و جسمانی تشدد کی بناء پر عدالت کی طرف سےجاری کیےگئےخلع برائےتنسیخ نکاح کاحکم عندالشرع نافذ ہواہے؟

برائےکرم ارشادفرمادیں،مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب فتاوی عثمانی کےحوالےسےسناہےکہ اس میں حضرت صاحب نےاسےدرست فرمایاہے،اس بابت ارشاد فرماد۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں چونکہ شوہرخلع پرراضی نہیں ہے،لہذاعدالتی خلع کافیصلہ توشرعامعتبرنہیں ہوگا،کیونکہ خلع کےلیےشوہرکی رضامندی شرعاضروری ہوتی ہے،ایسی صورت میں طلاق بھی نہیں ہوتی اورمیاں بیوی کاسابقہ نکاح  بھی برقراررہتاہے۔

البتہ اگراسباب فسخ نکاح/فرقت(جن صورتوں میں عورت کوعدالت کےذریعہ فسخ نکاح کاشرعااختیارہوتاہے)میں سےکوئی سبب پایاجائےتوعدالتی خلع کافیصلہ فسخ نکاح شمار ہوکرمعتبرہوسکتاہے۔

موجودہ صورت میں بھی چونکہ ایک سبب تعنت فی النفقہ(گنجائش کےباوجودبیوی کےحقوق نان نفقہ  وغیرہ نہ دینا)پایاجاتاہے،لہذاشرعابیوی کوعدالت یاجماعت المسلمین کےذریعہ نکاح فسخ کروانےکااختیار ہے ایسی صورت میں عدالت کےذریعےفسخ نکاح کاطریقہ (جو  حکیم الامۃ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی مشہورکتاب الحیلۃ الناجزہ للحلیلۃ العاجزہ میں مذکورہے)اختیارکیاجاسکتاہے۔

"الحیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزہ" ص 101:

صورت تفریق یہ ہےکہ عورت اپنامقدمہ  قاضی اسلام یامسلمان حاکم اوران  کےنہ ہونےکی صورت میں جماعت مسلمین  کےسامنےپیش کرےاورجس کےپاس پیش ہووہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کےذریعہ سےپوری تحقیق کرےاوراگرعورت کادعوی صحیح ثابت ہوکہ باوجود وسعت کےخرچ نہیں دیتا،تواس کےخاوند سےکہاجائےکہ اپنی عورت کےحقوق اداء کرویاطلاق دےدو،ورنہ ہم تفریق کردیں گے،اس کےبعد بھی اگروہ کسی صورت پرعمل نہ کرےتوقاضی یاشرعاجواس کےقائم مقام ہو،طلاق واقع کردے،اس میں کسی مدت کےانتظا راورمہلت کی باتفاق مالکیہ  ضرور ت نہیں۔۔۔

مذکورہ بالاتفصیل کےمطابق فیصلہ کیاجائےتووہ عدالت کافیصلہ شرعامعتبرہوگااگرچہ عدالتی فیصلہ میں خلع لکھاگیاہواوریہ فسخ نکاح  طلاق بائن کےحکم میں ہوگا، اس کےبعدعورت عدت(تین ماہواریاں)گزارکردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

اوراگرعدالت کےچکرلگانامشکل ہوں اوریہ گمان ہوکہ عدالت میں فیصلہ میں تاخیرہوگی،جیساکہ آج کل عدالتوں  کی صورت حال ہےتوپھراس کاآسان طریقہ یہ ہےکہ عورت جماعۃ المسلمین(چندعلماء ومفیتان کرام کی جماعت/یامعتبردارالافتاء کےچندمفتیان کرام )کےسامنےدوگواہوں کی موجودگی میں اپنادعوی ثابت کرےاوریہ جماعت یادارالافتاءکےحضرات گواہوں کےذریعہ پورےمعاملےکی اچھی طرح تحقیق کریں،پھرشرعی طریقےکےمطابق  فسخ نکاح کافیصلہ  کردیاجائےتوبھی یہ فیصلہ شرعامعتبرہوگا۔

صورت مسئولہ میں منسلکہ عدالتی فیصلہ میں جن اسباب کی وجہ سےبیوی علیحدہ ہوناچاہ رہی ہے،ان میں سےایک  سبب یہ ہے:

7. As far as the first prayer of the plaintiff is concerned, she has prayed for dissolution of her marriage by way of Khula on the ground of maltreatment from the defendant and non-payment of maintenance. )page 2.cluse 7)

مذکورہ سبب(اخراجات کی عدم ادائیگی) کی وجہ سےشرعافسخ نکاح کی گنجائش توہے،لیکن فسخ نکا ح شرعی طریقہ کارکےمطابق ہوگاتومعتبرہوگا۔

جبکہ  اسی فیصلےمیں اس بات کی وضاحت کی گئی ہےکہ بیوی نےاپنےدعوی پر کوئی ڈاکومینٹ یا کوئی گواہ وغیرہ  پیش نہیں کیے ۔

Though she categorically stated that she does not want to live with the defendant at any cost however no any documentary evidence nor any witness has been produced by her in support of her allegation against the defendant. )page 2.cluse 7)

اس وضاحت کےبعد:

جواب یہ ہےکہ موجودہ فیصلےمیں چونکہ عدالت کی طرف سےمذکورہ بالاطریقہ کارکےمطابق  فیصلہ نہیں کیاگیا،لہذاخلع کایہ فیصلہ  شرعامعتبرنہیں ہے،الایہ کہ اسی فیصلےمیں مزید گواہ وغیرہ پیش کرکےفیصلےمیں ترمیم کروالی جائے،جس میں اس بات کی وضاحت آجائےکہ بیوی نےاپنےدعوی کوشرعی گواہوں سےثابت کردیاتھااورعدالت نےبھی اس معاملہ کی تحقیق کےبعد فیصلہ کیاہےتووہی سابقہ فیصلہ شرعامعتبر ہوجائےگا۔

آسان متبادل صورت یہ ہوسکتی ہےکہ اس فیصلہ سےہٹ کرالگ کسی قریبی معتبردارالافتاء سےوقت لےکراپنامعاملہ وہاں کےمفتیان کرام کےسامنےپیش کیاجائےاورفیصلہ کروالیاجائےوہ فسخ نکاح شرعا معتبر ہوگا۔

وضاحت نمبر 1:

واضح رہےکہ مذکورہ معاملہ کےلیےMLO(Medico Legal Officer)رپورٹ شرعاضروری نہیں،یہ بیوی کی طرف سےدعوی پرگواہی کےساتھ ساتھ ایک مزید ثبوت  کےطورپرہوسکتاہے،لیکن  شرعافیصلے کادارومدار اس پرنہیں  کہ فیصلےکےبعد،بعدمیں رپورٹ ساتھ لگانےسےفیصلہ درست ہوجائےگا۔

وضاحت نمبر 2:

جہاں تک مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کےفتاوی عثمانی کےحوالےسےسوال کیاگیاہےتو واضح رہےکہ وہاں بھی مفتی تقی عثمانی صاحب نےاسی تفصیل کو مدنظررکھتےہوئےجواب لکھاہے(فتاوی عثمانی جلد دوم صفحہ 461 تا 463ملاحظہ کیاجاسکتاہے)

وضاحت نمبر3:

وکیل کایہ کہناکہ"آپ اگرکہیں کہ  آپ کو شوہرکی شکل پسند نہیں  ہےتوبھی آپ کو جج طلاق دےدیتا"یہ بات  شرعا درست نہیں،احناف کےنزدیک چند معتبراسباب ہیں،جن کی وجہ سےقاضی کوفسخ نکاح کااختیارہوتاہے،مطلقایہ کہناکافی نہیں ہوگا،بلکہ شرعادیگروجوہات کو دیکھ کر فیصلہ کیاجائےگا۔(اس طرح کاجواب فتاوی عثمانی جلد دوم صفحہ 446پربھی موجود ہے،اس کامطالعہ کیاجاسکتاہے)

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرة آیت  229 :

فان خفتم ألایقیماحدوداللہ فلاجناح علیہما فیماافتدت بہ۔

" الھندیة"1  /488 :

اذاتشاقا الزوجان وخافاأن لایقیما حدوداللہ فلابأس بأن تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا بہ۔

"زادالمعاد" 2/238 :

وفی تسمیتہ صلی اللہ علیہ وسلم الخلع فدیۃ دلیل علی أن فیہ معنی المعاوضۃ ولہذااعتبرفیہ رضاالزوجین ۔

"ردالمحتارعلی الدرالمختار" 12/109 :

وشرطہ کالطلاق (وھواھلیة الزوج وکون المراة محلاللطلاق منجزا،اومعلقاعلی الملک،امارکنہ فھوکمافی البدائع اذاکان بعوض الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوض ۔

الموسوعة الکویتیة" 29/  54:

الطلاق:نوع من انواع الفرقة وھوملک للزوج وحدہ ،ذالک ان الرجل یملک مفارقة زوجتہ اذاوجد مایدعوہ الی ذالک بعبارتہ وارادتہ المنفردة ،کماتملک الزوجة طلب انھاء علاقتھاالزوجیة اذاوجد مایبررذالک،کاعسارالزوج بالنفقة،وغیبة الزوج،وماالی ذالک من اسباب اختلف الفقہاءفیھاتوسعةوتضییقا۔ولکن ذالک لایکون بعبارتھاوانما بقضاء القاضی  الاان یفوضھا الزوج بالطلاق فانھافی ھذہ الحالۃ تملکہ بقولھاایضا۔

وذھب المالکیة الی اٴن واجب الحکمین الاصلاح اولا،فان عجز اعنہ لتحکمالشقاق کان لھماالتفریق بین الزوجین دون توکیل ،ووجب علی القاضی ،امضاء حکمھمابھذالتفریق ،اذااتفقاعلیہ وان لم یصادف ذالک اجتھادہ ۔

التفریق لسوء المعاشرة :

نص المالکیة علی ان الزوجة اذااضربھازوجھاکان لھاطلب الطلاق منہ لذالک،سواءتکرر منہ الضررام لا،کشتمھا،وضربھا ضربامبرحا،وھل تطلق بنفسھاھنابامرالقاضی اویطلق القاضی عنھا؟قولان للمالکیة ولم ارمن الفقہاء الآخرین من نص علیہ بوضوح ،وکانھم لایقولون بہ مالم یصل الضررالی حد اثارة الشقاق ،فان وصل الی ذالک ،کان الحکم کماتقدم ،من لہ حق الطلاق ۔بحوالہ "فتاوی عثمانی "2/462 :"

"ردالمحتارعلی الدرالمختار"3/444:

وحکمہ ان)الواقع بہ(ولوبلامال)وبالطلاق الصریح)علی مال طلاق بائن(وثمرتہ فیمالوبطل البدل  کماسیجیء۔

"المبسوط" 8 /  311:"قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ( آیت: 227)

وإن عزموا الطلاق فإن الله سميع عليم۔۔۔وهو إشارة إلى أن عزيمة الطلاق بما هو مسموع وذلك بإيقاع الطلاق أو تفريق القاضي ، والمعنى فيه أن التفريق بينهما لدفع الضرر عنها عند فوت الإمساك بالمعروف ، فلا يقع إلا بتفريق القاضي كفرقة العنين ، فإن بعد مضي المدة هناك لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي بل أولى ؛ لأن الزوج هناك معذور وهنا هو ظالم متعنت ، والقاضي منصوب لإزالة الظلم فيأمره أن يوفيها حقها ، أو يفارقها ، فإن أبي ناب عنه في إيقاع الطلاق وهو نظير التفريق بسبب العجز عن النفقة ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

17/محرم الحرام 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب