03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کی تقسیم میں وقت کا اعتبار
84296میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

بھائی علی عمر 18.08.2019 کو اس جہان فانی سے انتقال فرما گئے، انہوں نے وارثوں میں 1بیوہ 2بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔  بھائی علی عمر نے1996 یا 1997 میں یہ کاروبار شروع کیا جس کی مالیت لاکھوں میں تھی ،ان کے بیٹوں نے اپنی محنت اور کوششوں سے کروڑوں تک پہنچایا ۔ 2017 میں بھائی علی عمر کے پوتے بھی اس کاروبار میں شامل ہوگئے ،جبکہ اندازے کے مطابق ہی بھائی علی عمرنے 2017 میں کاروباری معاملات چھوڑدئیے ،جب بھائی علی عمر انتقال فرما گئے، ان کی وراثت میں 2گھر 2گاڑیاں 2دکانیں شامل ہیں،دکان میں ان کے بیٹے کاروبار جبکہ گھر میں رہائش پذیرہیں، اس کے علاوہ کاروباری مال جوکہ سامان کی صورت میں موجود تھا،اس کی مالیت بہت زیادہ ہے۔

  1۔ ان کی وراثت اب کس حساب سے تقسیم ہوگی ؟  2019 کے حساب سے جب بھائی علی عمر نے انتقال کیا  یا 2017 کے حساب سے جب بھائی علی عمر نے کاروباری معاملات چھوڑدیے ؟ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔کاروبار چونکہ علی عمر نے شروع کیا تھااور 2017 میں کام چھوڑ دینے کے باوجود بھی ان کی ملکیت سے مزید کاروبار جاری رہا،اس لیے 2019میں ان کے انتقال کے بعد کے حساب سے میراث کی تقسیم ہوگی۔

2۔والد مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:۔

میراث کے 48 حصے بنائے جائیں ،جن میں سے6 حصے اہلیہ اور28 حصے دو بیٹوں کو دیے جائیں،ہر بیٹے کو 14حصے ملیں گے،اور14 بیٹیوں کو دیے جائیں،ہر  بیٹی کو 7حصے ملیں گے ۔

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی

6

12.5

2

بیٹا

14

29.17

3

بیٹا

14

29.17

4

بیٹی

7

14.58

5

بیٹی

7

14.58

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

14/محرم1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب