| 84297 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
2017 میں ان کے پوتے بھی کاروبار میں شامل ہوگئے تھے، ان کا حصہ کس حساب سے ہوگا جبکہ بچوں کے والد زندہ ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس کاروبار کی ابتداء دادا کی رقم سے ہوئی ہے ،لہذا اگر پوتوں کو کاروبار میں شامل کرتے وقت باقاعدہ شریک کے طور پر معاہدہ کیا ہویا پوتوں کا اپنا سرمایہ اس کاروبار میں شامل ہو،تو اس صورت میں پوتے اپنے سرمایہ کے تناسب سے یا اپنی محنت کے حساب سے طےشدہ حصے کے بقدر وہ دادا کے کاروبار کے اثاثہ جات اور اس کے نفع میں شریک ہوں گے،اگر ان کی محنت کے عوض ان کے لیے کوئی حصہ طے شدہ نہ ہوتو انہیں پھر ا نکی محنت کے حساب سے اجرت مثل دی جائے گی،اجرت مثل کا مطلب یہ کہ اس جیسی محنت کرنے والوں کو ان کی محنت کی جو مزدوری عام طور پر دی جاتی ہو،اس کے بقدر مزدوری انہیں دی جائے گی۔
حوالہ جات
وفی الشامیۃ(4/325):
"وكذلك لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية ولواختلفوا في العمل والرأي".
وفی رد المحتار(/ 307 ):
"[تنبيه] يقع كثيراً في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة
ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارةً يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافاّ لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له بل هي شركة ملك، كما حررته في تنقيح الحامدية.
ثم رأيت التصريح به بعينه في فتاوى الحانوتي، فإذا كان سعيهم واحداً ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركاً بينهم بالسوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصواباً، كما أفتى به في الخيرية"
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
14/محرم1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


