| 84309 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
اگر عدالت سے خلع کا فیصلہ جاری ہو چکا ہو اور اس میں فسخِ نکاح کی وجہ بھی موجود ہو، مگرگواہ پیش نہ ہونے کی وجہ سے شرعا معتبر نہ ہو تو اب اس نکاح کو ختم کرنے کی کیا صورت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر عدالت سے خلع کا فیصلہ جاری ہو چکا ہو، مگر عدالت میں شرعی ثبوت پیش نہ کرنے کی وجہ سے وہ فیصلہ شرعاً درست نہ ہو تو ایسی صورت میں عدالت میں نظرِ ثانی کی اپیل دائر کر دی جائے اور شرعی ثبوت پیش کر کے دوبارہ فسخِ نکاح کا فیصلہ کروا لیا جائے۔ البتہ اگر قانونی پیچیدگی کے پیشِ نظر عدالت میں نظرثانی کی اپیل دائر کرنا مشکل ہوتو جماعت المسلمین کے ذریعہ نکاح فسخ کروا لیا جائے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
معاشرے میں سے کم از کم تین، چار پانچ نیک اور صالح آدمیوں (یہ مسئلہ چونکہ مالکی مسلک سے لیا گیا ہے،لہذا مالکی مسلک پر عمل کرتے ہوئے اس جماعت کے تمام اراکین کا صالح ہونا ضروری ہے، کیونکہ مالکیہ کے نزدیک شرعی فیصلہ کے لیے قاضی کا صالح ہونا شرط ہے، لہذا فاسق جیسے ڈاڑھی منڈوانے والا اور دیگر کبائر کا مرتکب شخص اس جماعت کا رکن نہیں بن سکتا کذا فی الحیلة الناجزة:صفحہ:39) کو فیصلہ کے لیے نامزد کرلیا جائے، جن میں کم از کم ایک یا دو آدمی عالم ہوں، جو نکاح و طلاق وغیرہ کے مسائل سے واقف ہوں، خاتون یا اس کا وکیل ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کرے اور فیصلے کی مجلس میں گواہوں کے ذریعہ ثابت کردے کہ یہ شوہر نان ونفقہ نہیں دیتا یا ظلم وزیادتی کرتا ہے، يہ حضرات دعوی سننے کے بعد شوہر کو مجلسِ قضاء میں حاضرہونے کا تین مرتبہ نوٹس بھیجیں، اگر وہ حاضر نہ ہو تو یہ چار یا پانچ رکنی جماعت اس گواہی کی بنیاد پر اتفاقِ رائے سے فسخِ نکاح کا فیصلہ کردیں تو فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو جائے گا، لیکن اس فیصلہ کے لیے جماعت کے تمام اراکین کا اتفاق ضروری ہے، کثرتِ رائے سے کیا گیا فیصلہ نافذ نہیں ہو گا ،اس کے بعد اِس فیصلہ کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو جائے گی، عدت مکمل ہونے پروہ شرعاً دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔
حوالہ جات
منح الجليل شرح مختصر خليل (4/ 318) دار الفكر – بيروت:
وتعبير المصنف كغيره بجماعة يقتضي أن الواحد لا يكفي وكذا الاثنان وبه صرح عج (فيؤجل) بضم التحتية وفتح الهمز والجيم، المفقود الحر (أربع سنين إن دامت نفقتها) أي زوجة المفقود من ماله ولو غير مدخول بها ولم تدعه للدخول بها قبل غيبته حيث طلبتها الآن واشتراط الدعاء له في وجوب إنفاق الزوج في الحاضر فقط ويكفي في وجوبها في مال الغائب أن لا تظهر الامتناع منه فإن لم تدم نفقتها من ماله فلها التطليق لعدم النفقة بلا تأجيل وكذا إن خشيت على نفسها الزنا فيزاد على دوام نفقتها عدم خشيتها الزنا.
شرح مختصر خليل للخرشي (4/ 198) دار الفكر للطباعة ، بيروت:
"وجماعة المسلمين العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل ".
المختصر الفقهي لابن عرفة (4/ 103) محمد بن محمد ابن عرفة الورغمي التونسي المالكي، أبو عبد الله (المتوفى: 803 هـ) المحقق: د. حافظ عبد الرحمن محمد خير،الناشر: مؤسسة خلف أحمد الخبتور للأعمال الخيرية:
وخامسها لا يجوز في ضرب الزوج سماع النساء إلا مع رجال، للمتيطي عن ابن القاسم: لا يجوز في غير النكاح والنسب والموت وولاية القضاة، والمتيطي عن ظاهر قول ابن القاسم في الموازية وحسين بن عاصم عنه وسماع ابن وهب، وعلى المشهور في رجوع المرأة بخلعها بشهادة رجلين بالسماع۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
14/محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


