03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق سے رجوع کے بعد یونین کونسل سے سابقہ طلاق کا سرٹیفیکیٹ بنوانا
84315طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

زید  نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی اور اس کا نوٹس یونین کونسل میں بھجوا دیا۔ عدت کے دوران ہی زوجین کے خاندان والوں کی کوششوں سے اس نے رجوع کر لیا،البتہ زید نے یونین کونسل میں اس رجوع کی اطلاع نہیں کی۔

کچھ مدت  بعد زوجین میں پھر لڑائی ہوئی اور زید کی بیوی ناراض ہو کر اپنے میکے چلی گئی۔ زید چونکہ یونین کونسل میں ایک دفعہ طلاق کا نوٹس دے چکا تھا، چنانچہ اس نے یونین کونسل میں طلاق اندراج سرٹیفیکیٹ کی درخواست دے کر مذکورہ سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیا۔ زید کا مقصد اس سرٹیفیکیٹ کے حصول سے یہ تھا کہ سرکاری ریکارڈ کے اعتبار سے  ان دونوں کا رشتہ زوجیت ختم ہو جائے اور اس کی بیوی  جتنا عرصہ اپنے میکے قیام پذیر رہے اتنے عرصے کے نفقے کا دعویٰ نہ کر سکے، کیونکہ جب ایک دفعہ یونین کونسل سے طلاق اندراج سرٹیفیکیٹ حاصل کیا جائے تو قانونا مرد و عورت دونوں ایک دوسرے پر زوجیت کے اعتبار سے کسی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس طلاق اندراج سرٹیفیکیٹ کے بنوانے سے زید کی بیوی پر دوسری طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ جبکہ زید کا مقصد ہر گز دوسری طلاق دینا نہیں تھا، بلکہ اسی سابقہ طلاق کا اندراج اور سرکاری ریکارڈ میں اپنے رشتہ زوجیت کو ختم ظاہر کروانا تھا، نیز اس سرٹیفیکیٹ میں اسی سابقہ طلاق کا ہی اندراج کیا گیا، اسی پہلے نوٹس طلاق کی تاریخ ذکر کی گئی اور کسی جدید طلاق کا ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ اس سرٹیفیکیٹ کے ایک نمونہ کی تصویر استفتاء کے ساتھ لف ہے۔

اس سرٹیفیکیٹ میں شروع میں ایک جگہ لکھا ہے کہ  Mode of dissolution of marriage ، پھر آگے دو تین آپشن دئیے گئے ہیں۔ شبہ یہ ہو رہا تھا کہ اگرچہ یہ شخص توسابقہ طلاق جو رجعی تھی، اس کے اندراج کا کہہ رہا ہے لیکن سرٹیفیکیٹ میں اسے وجۂ تنسیخ نکاح لکھا گیا ہے، اور جس طلاق سے تنسیخِ نکاح ہوتی ہے وہ بائن ہوتی ہے،  تو کہیں ایسا تو نہیں کہ سابقہ طلاق کے اندراج کرانے سے اقتضاء ایک طلاق بائن کا وقوع ماننا پڑے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں طلاقِ رجعی سے رجوع کرنے کے بعد یونین کونسل سے سابقہ طلاق کے اندراج کا سرٹیفیکیٹ (جس میں تاریخ اسی سابقہ طلاق کی لکھی ہوئی ہے) بنوانے سے زید کی بیوی پر دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی۔  

جہاں تک سرٹیفیکیٹ کے شروع میں Mode of dissolution of  marriage کے الفاظ کا تعلق ہے تو ان کی وجہ سے اس سرٹیفیکیٹ میں درج ہونے والی ہر طلاق طلاقِ بائن نہیں ہوگی، یہ صرف تمہیدی عنوان ہے، نکاح ختم کرنے کی مختلف صورتیں (Options) اس کے سامنے لکھی ہوئی ہیں، ان میں پہلی صورت صریح طلاق یعنی Divorce/Talaq کی ہے، جس سے رجعی طلاق واقع ہوتی ہے۔ نیز تنسیخِ نکاح کا اطلاق (رجعی اور بائن سے قطع نظر) نفسِ طلاق پر بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ طلاقِ رجعی سے بھی (رجوع نہ ہونے کی صورت میں) آخر کار نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ چنانچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے طلاق کی تعریف "رفع قید النکاح" سے فرمائی ہے، حالانکہ طلاقِ رجعی میں نکاح فوری طور پر مکمل ختم نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

فتاوى قاضيخان (1/ 225):

رجل طلق امرأته ثم قال لها في العدة: قد طلقتك، أو قال بالفارسية: تراطلاق دادم يقع تطليقة أخرى، ولو قال: كنت طلقتك، أو قال بالفارسية: طلاق داده أم ترا لا يقع أخرى.

المبسوط للسرخسي (6/ 2):

كتاب الطلاق: قال: الشيخ الإمام الأجل الزاهد شمس الأئمة وفخر الإسلام أبو بكر محمد بن أبي سهل السرخسي رحمه الله تعالى إملاء الطلاق في اللغة عبارة عن إزالة القيد ………وموجب الطلاق في الشريعة رفع الحل الذي به صارت المرأة محلا للنكاح إذا تم العدد ثلاثا كما قال الله تعالى: {فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230،] ويوجب زوال الملك باعتبار سقوط اليد عند انقضاء العدة في المدخول بها.

الدر المختار (3/ 226):

كتاب الطلاق  ( وهو ) لغة رفع القيد ….  وشرعا ( رفع قيد النكاح في الحال ) بالبائن ( أو المآل ) بالرجعي ( بلفظ مخصوص ) هو ما اشتمل على الطلاق فخرج الفسوخ كخيار عتق وبلوغ وردة فإنه فسخ لا طلاق.

التعريفات للإمام الجرجاني(ص: 183):

 920 - الطلاق هو في اللغة إزالة القيد والتخلية، وفي الشرع إزالة ملك النكاح.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      15/محرم الحرام/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب