03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حلال لوگو ( تصدیقی مہر ) والے گوشت کھانے کا حکم
83774ذبح اور ذبیحہ کے احکام ذبائح کے متفرق مسائل

سوال

دبئی ، سعودیہ  اور دیگر ممالک میں باہر  سے ذبح شدہ بکری کاگوشت آتا ہے اور اسی طرح ذبح شدہ مرغیاں  بھی  باہرسے آتی ہیں۔ اور اس پر (حلال) کی اسٹیمپ بھی لگی ہوتی ہے ۔ آیا ہمارے لیےاس کا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟  کیوں کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ معلوم نہیں اس کو کس طرح اور کہاں ذبح کیا گیا ہو گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت کا قاعدہ یہ ہے کہ گوشت بنیادی طور پر صرف اس وقت حلال سمجھا جاتا ہے جب حلال ہونے کی دلیل موجود ہو،مثلا گوشت کا مسلم ملک میں ہونا یا مسلمان اکثریت والے علاقوں سے آنا،اس طرح معتبر سرٹیفائڈ باڈی سے حلال سرٹیفائیڈ ہونا بھی ایک علامت ہے۔البتہ اگر  غیر مسلم ملک ہے  تو وہاں  تحقیق ضروری ہے ۔ اگر وہاں ذابح کی شرائط نہیں پائی جاتیں یا مشینی ذبیحہ ہو تو اجتناب ضروری ہے، کیونکہ مشینی ذبیحہ جائز نہیں۔

لہذا گوشت اگر مسلم ممالک سے درآمد شدہ یا کسی ایسے  مستندتصدیقی ادارےجو مسلمانوں کی نگرانی میں کام کا کر رہا ہوکی طرف سے سر ٹیفائیڈ ہو، تواستعمال کر سکتے ہیں ،ور نہ اس کے استعمال سے اجتناب برتنا چاہیے، کمپنی کی طرف سے صرف حلال لکھا جانا کافی نہیں۔دبئی،سعودیہ وغیرہ میں متعلقہ حکومتی اداروں کی وضاحت کے مطابق عمل کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

قال الله عز و جل :

ﵟحُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ والدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ اللَّهِ بِهِۦ وَٱلۡمُنۡخَنِقَةُ وَٱلۡمَوۡقُوذَةُ وَٱلۡمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ ﵞ [المائدة: 3] 

قال الله عز و جل:

ﵟفَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤۡمِنِينَ ﵞ ﵟوَمَا لَكُمۡ أَلَّا تَأۡكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ وَقَدۡ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيۡكُمۡ إِلَّا مَا ٱضۡطُرِرۡتُمۡ إِلَيۡهِۗ ﵞ [الأنعام: 119] 

  روى الإمام مسلم رحمه الله تعالى:عن شداد بن أوس قال: « ‌ثنتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته.(صحيح مسلم:6/ 72 )

 قال العلامۃ  حمد الحمد رحمه الله تعالى :الأصل في اللحوم التحريم: فإذا أتيت بلحم فليس لك أن تأكل منه حتى تعلم السبب المبيح له، إما أن يكون قد ذكي وإما أن يكون قد صيد، فلابد أن تعلم السبب المبيح لأكله من ذكاة أو صيد.قال جل وعلا: {وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ} [الأنعام:121].

وقال عليه الصلاة والسلام: (ما أنهر الدم وذكر اسم الله عليه فكل).لكن إن علمت أن الذي يأتي به لا يأتي إلا بلحم مذبوح فلك أن تأكل، فتسمي الله أنت وتأكل.(شرح منظومة القواعد الفقهية:3/ 7 )

ہارون عبداللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

06 ذی قعدہ 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ہارون عبداللہ بن عزیز الحق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب