03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لے پالک بیٹیوں کی میراث کا حکم
83591میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ارشد کی دو بیویاں ہیں : شمیم اختر اور رخسانہ۔ دونوں کے ہاں اولاد نہیں ہے ۔ اس کی پہلی بیوی شمیم نے لے پالک بیٹی پالی جس کا نام طیبہ ارشد ہے ۔ قانونی کا غذات میں اس کی ولدیت ارشد ہے ،جبکہ وہ لے پالک ہے۔ ارشد نے مکان اپنی پہلی بیوی کو گفٹ کر دیا اور اس کے نام کر وایا ۔ پہلی بیوی شمیم اختر کا انتقال ہو گیا ۔ ارشد نے دوسری شادی رخسانہ سے کی، اس نے بھی ایک  لے پالک بیٹی پالی، جس کا نام دعا ارشد لکھوایا ۔اب ارشد صاحب فوت ہوگئے ۔ اب وہ مکان جو پہلی بیوی کے نام لگوایا تھا اس کی شرعی حیثیت کیا ہے۔اس میں کس کا حصہ ہے ؟وہ مکان مکمل طور پر شمیم اختر کو دیا تھا  تو کیا دوسری بیوی حصہ دار ہے؟ اب اس مکان میں کون کون حصہ دار ہے؟

مرحوم ارشد کی زرعی زمین 12 کنال ہے۔اس کی بھی میراث کی تقسیم مطلوب ہے اور مرحوم کے والدین  میں سے کوئی حیات نہیں ہے۔اسی طرح ایک بھائی کے علاوہ سب بہن بھائی  بھی مرحوم کے انتقال کے وقت  حیات نہیں تھے۔اور جو ایک بھائی حیات ہیں ان کا نام محمد اشرف ہے،ان کی دوبیٹیاں ہیں۔وہ سویڈن میں رہتے ہیں۔ان کا پاکستان آنا جانا نہیں ہوتا۔ان کو برین ہیمرج ہے، حالت کافی سیریس ہے ۔

مرحومہ شمیم اختر کے  انتقال کے وقت ان کے والدین  حیات نہیں تھے،  جبکہ ان کی دو بہنیں (تسنیم ،کلثوم) اور دو بھائی(عرفان،احسان)  حیات تھے۔ جن میں سےایک بہن (تسنیم )کا بھی انتقال ہو گیا ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔اور فوت شدہ بہن تسنیم کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے۔مرحومہ شمیم اختراپنے اس گھر میں ہی رہائش پذیر تھیں جو ان کے شوہر نے ان کے نام کروایا تھا  جو کہ چار مرلے کا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

لے پالک اولاد کو شرعی طور پر حقیقی اولاد کا درجہ نہیں مل سکتااور نہ ہی ان پر حقیقی اولاد کے احکام جاری ہوتے ہیں۔اسی وجہ سےشریعت میں  ان کو اصل والد کی طرف منسوب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔تاہم لے پالک اولاد کی پرورش  اور تعلیم و تربیت  کرنے پر اجر و ثواب ملتا ہے۔جب یہ حقیقی اولاد شمار نہیں ہو سکتے تو شرعا ان کا میراث میں  بھی کوئی حصۃ نہیں ہوتا۔لہذا مرحوم کی دونوں لے پالک بیٹیوں کو شرعا  مرحوم ارشد کی میراث  میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا، اسی طرح مر حومہ شمیم اختر کی میراث میں لے پالک بیٹی طیبہ کا کوئی حصۃ نہیں ہے۔البتہ  اگر ورثہ اپنی رضا مندی سے اپنے حصوں سے لے پالک اولاد کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ،اور ان کا یہ عمل مستحب شمار ہو گا۔

مرحوم ارشد نے چونکہ وہ گھر شمیم اختر کو گفٹ کر دیا ہے ،اگر باقاعدہ قبضہ اور کنٹرول بھی اپنی زندگی میں شمیم اختر کے حوالے کیا ہے تو یہ گھر شمیم اختر کا ہو گا اور اس کے شرعی ورثہ میں تقسیم ہو گا۔دوسری بیوی رخسانہ کا اس میں براہ راست  کوئی حصہ نہیں ہوگا۔البتہ اس گھر میں شوہر کا حصہ جب میراث بنے گا تو اس میں رخسانہ کا حصہ ہو گا۔

مرحومہ شمیم اختر کےقرض کی ادائیگی اور وصیت پوری کرنے کے بعد(اگر مرحومہ نے کوئی وصیت کی تھی)  باقی ماندہ ترکہ کو وفات کے وقت موجودورثہ(شوہر ، دو بہنیں، دو بھائی) میں تقسیم کیا جائےگا۔

  کل ترکہ کو 12 برابر حصوں میں تقسیم کر کےمرحومہ شمیم اختر کے شوہر محمد ارشد کو 6 حصے، مرحومہ کی دونوں بہنوں تسنیم اور کلثوم  میں سے ہر ایک کو 1 حصہ،اور دونوں بھائیوں عرفان اور احسان  میں سے ہر ایک بھائی کو2  حصے ملیں گے۔

مرحومہ کے ملکیتی  4مرلے مکان میں سےدو مرلےمرحومہ شمیم اختر کے شوہر محمد ارشد کواور دونوں بھائیوں عرفان اور احسان میں سے ہر ایک بھائی کو0.6666 مرلے  اور دونوں بہنوں تسنیم وکلثوم میں سے ہر ایک  کو 0.3333 مرلے  ملیں گے۔

فیصدی اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو 50فیصد، دونوں بھائیوں عرفان اور احسان  میں سے ہرایک بھائی کو16.6666فیصد ، اور دونوں بہنوں تسنیم اورکلثوم میں سے ہر ایک  کو8.3333فیصد ملے گا۔

نقشہ  برائے  تقسیم میراث مرحومہ شمیم اختر:     

نمبر شمار

ورثہ

عددی حصے

فیصد

مکان کے حصے

1

شوہر ٌ(محمد ارشد)

6

50%

2مرلے

2

بھائی(احسان)

2

16.6666%

0.6666مرلہ

3

بھائی(عرفان)

2

16.6666%

0.6666 مرلہ

4

بہن(كلثوم)

1

8.3333%

0.3333مرلہ

5

بہن(تسنیم)

1

8.3333%

0.3333مرلہ

 

مجموعہ

12

100%

4 مرلے

                      مرحومہ شمیم اختر  کی فوت شدہ بہن تسنیم نے بوقت وفات شمیم اختر سے ملنے والے حصے سمیت اپنی ملکیت میں جو جائیداد،نقدی چھوٹا بڑا سازو سامان  چھوڑا ہے اسے اس کے ورثہ(شوہر،ایک بہن،دو بھائی) میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کیا جائے گا۔

سب سے پہلے مرحومہ تسنیم کےقرض کی ادائیگی اور وصیت پوری کرنے کے بعد(اگر مرحومہ نے کوئی وصیت کی تھی)  باقی ماندہ ترکہ کو وفات کے وقت موجودورثہ(شوہر ، بہن، دو بھائی) میں تقسیم کیا جائےگا۔

    کل ترکہ کو 10 برابر حصوں میں تقسیم کر کےمرحومہ تسنیم کے شوہر کو 5 حصے، مرحومہ کی بہن کلثوم  کو 1 حصہ،اور دونوں بھائیوں عرفان اور احسان  میں سے ہر ایک بھائی کو2  حصے ملیں گے۔

فیصدی اعتبار سے مرحومہ تسنیم کے شوہر کو 50فیصد، دونوں بھائیوں عرفان اور احسان  میں سے ہرایک بھائی کو20فیصد ، اوربہن کلثوم کو10فیصد ملے گا۔

نقشہ  برائے  تقسیم میراث مرحومہ تسنیم  اختر:    

نمبر شمار

ورثہ

عددی حصے

فیصد

1

شوہر ٌ

5

50%

2

بھائی(احسان)

2

20%

3

بھائی(عرفان)

2

20%

4

بہن(كلثوم)

1

10%

 

مجموعہ

10

100%

مرحوم ارشد کی تجہیز و تکفین کے اخراجات،قرض کی ادائیگی اور وصیت پوری کرنے کے بعد باقی ماندہ ترکہ کو موجودورثہ (ایک بیوی، ایک بھائی) میں  تقسیم کیا جائےگا۔مرحوم نے بوقت وفات اپنی  ملکیت میں جو کچھ جائیداد،نقدی،سامان چھوڑا ہے،سارا مرحوم کا ترکہ ہے۔اس کو چار حصوں پر تقسیم کر کےایک حصہ مرحوم کی بیوی اور باقی تین حصے مرحوم کے بھائی کو ملیں گے۔فیصدی حساب سے بیوی کو 25فیصد اور بھائی کو 75 فیصد ملے گا۔

 12 کنال زمین میں سے مرحوم کی بیوی کو 3كنال اور مرحوم کے بھائی کو9كنال زمین حصہ میں آئے گی۔ بقیہ بہن بھائی مرحوم کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے لہذا ان کا مرحوم کی میراث میں کوئی حصہ نہ ہو گا۔اسی طرح مرحوم کی بیوی  شمیم اختر کی میراث سے  مکان کےدو مرلے مرحوم  کے حصے میں آئے   وہ بھی  موجودورثہ(ایک بیوی، ایک بھائی) میں  تقسیم ہو گا۔دو مرلوں میں سے آدھا مرلہ مرحوم کی بیوی کو اور ڈیڑھ مرلے مرحوم کے بھائی کے حصے میں آئیں گے۔

نقشہ  برائے  تقسیم میراث مرحوم محمد ارشد:      

نمبر شمار

ورثہ

عددی حصے

فیصد

زرعی زمین کے حصے

شمیم اختر سے ملنے  والا حصہ

1

بیوی(رخسانہ)

1

25%

3 کنال

آدھا مرلہ

2

بھائی(اشرف)

3

75%

9 کنال

ڈیڑھ مرلہ

 

مجموعہ

4

100%

12 کنال

2 مرلہ

حوالہ جات

     قال الله تعالى عز و جل:ﵟيُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَتۡ وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصۡفُۚ[النساء: 11]

ہارون  عبداللہ

  دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

05  رمضان1445ھ       

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ہارون عبداللہ بن عزیز الحق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب