03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیوی،دو بیٹوں اور چار بیٹیوں میں میراث تقسیم کرنے کا حکم
83590میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے شوہر کا  45 سال کی عمر میں انتقال ہوا،اور میری عمر 37 سال تھی۔ میرے 6 بچے تھے۔ جن میں چار بیٹیاں او ردو بیٹے تھے ۔ دو بیٹیاں 15اور 16 سال کی تھیں اور ان دو  کے بعد ایک بیٹا جو نویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ اس سے چار سال  چھوٹی ایک بیٹی اور اس کے بعد پھرایک بیٹی اوران دو کے بعد ایک بیٹا جس کی عمر 4 یا 5 سال  تھی ۔ بڑے بیٹے سے دس  سال چھوٹا تھا ۔ چھوٹے تین بچے ناسمجھ تھے۔ میرے شوہر کا ڈرائی کلین کا کاروبار تھا ۔ 10 سال پہلے انکو دل کی تکلیف ہوئی۔ اس وقت میرے 4 بچے تھے ۔ 10 سال میں دو بچے اور ہوئے ۔ انہوں نے بڑی محنت کر کے دو پراپرٹیاں(بنگلے)  بنائی تھیں  کہ میرے بعد میر ے بیوی بچے کسی کے محتاج نہ ہو ں۔ انتقال سے پہلے انہوں نے مجھ سے کہا کہ اب تم نے ہمت کرنی ہے۔ میں سسرال میں رہی اور اپنے بچے پالے ،پڑھائے اور شادیاں کیں  ۔ بڑا لڑکا میٹرک کرکے آگیا ۔ ہمارے دوبنگلے جو کرائے پر تھے وہ بیٹا ملازموں سے پیسے مجھے لاکر  دیتا تھا۔وہ بنگلےدو چار ہزارکرائے پر تھے۔ اللہ تعالی نے  بچے پڑھائے۔بڑا بیٹا اور بیٹی دونوں ڈاکٹر بنے۔اور چھوٹے بیٹے نے I.T میں انجینئرنگ کی اورMS کے لیے اللہ کے فضل سے انگلینڈ چلا گیا۔ میں نے تینوں لڑکیوں کی چھوٹی عمروں میں شادی کر دی۔ میں نے بڑی محنت سے یہ پراپرٹی  بیچنے نہ دی۔ کاروبار سے جوڑ جوڑ کران کو پار لگایا۔اصل قصہ یہ ہے کہ جب پہلا اٹیک  ہوا تو بڑا بیٹا7 سال کا تھا۔ میرے سسرنے  ان سے کہا کہ پلاٹ لڑکے نام سے لے لو، وہ بڑے لڑکے کے نام تھا ۔ دس سال روز کی دیہاڑی سے کما کے لگاتے رہے ۔ 10 سال بعد میرا چھوٹا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے اُن سے کہا نہ اس کےنام بھی ڈال دیں ،تو انہوں نے اس کے دو پورشن بنائے ،دونوں کے الگ الگ گیٹ بنائے لیکن چھوٹے کا نام نہ ڈال سکے تھے کہ  انتقال ہو گیا۔ یہ بنگلہ بڑے بیٹے کے ہی نام رہا۔ 2018 میں جب یہ بیچاتو اس کی قیمت ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ تھی ۔ وہ ساری رقم اس نے لے لی اور دوسری پراپرٹی خرید لی۔ اب رہا  دوسرا بنگلہ وہ چھوٹا تھا ، جو ایک کروڑ بارہ لاکھ میں بیچا گیا۔ مجھے شروع سے احساس تھاکہ بڑی پراپرٹی تو بڑا لے جائے گا۔ دوسرے میں میرے پانچ بچے  شریک ہوں گے۔ بڑی لڑکی کی شادی پر میں نے جوڑ جوڑ کے ساڑھے پانچ لاکھ کا گھر لےکر دیا کہ چلو کچھ حصہ نکل جائے۔ پھر دوسرے نمبر کی لڑکی کی شادی میں تین لاکھ کا پلاٹ لے کر دیا ۔ان سارے بچوں نے ساری پر اپرٹی کی پاور آف اٹارنی مجھے دے  رکھی تھی۔ سب سے چھوٹی لڑکی کو 2 لاکھ کا پلاٹ لے کر دیا ۔ میں ان پیسوں سے ہی  الٹ پلٹ کرتی تھی، کیونکہ اس وقت دونوں بنگلے  کھنڈر تھے ۔ بڑےبنگلے کے ایک سال پہلے ریٹ لگوائے تو 55 لاکھ لگے۔2007 میں کاروبار ختم ہو گیا تھا تو پانچ چھ لاکھ  بڑے بنگلے میں لگائے تب وہ ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ کا بکا ۔ اور چھوٹے بنگلے میں بھی چار پانچ لاکھ لگائے تب وہ ایک کروڑ بارہ لاکھ کا بکا۔ اب میں ان کی وراثت کی تقسم کیسے کروں ؟ بڑا لڑ کا ہر وقت ناراض رہتاہے ،وہ ابو ظہبی میں رہتا ہے ۔ اور چھوٹا انگلینڈ میں چھوٹے بیٹے نے مجھے کما کما کے پیسے بھیجے اور آج تک نہیں پوچھا کہ میرے پیسے کہاں ہیں ؟میں اس کو حساب بتاتی رہتی ہوں۔اس کے پیسوں سے پراپرٹی خریدی  جو اُس کے نام ہی ہے ۔ اس بڑے بیٹے نے اپنی کمائی کا ایک روپیہ بھی نہیں دیا ۔پڑھتے پڑھتے اس کی میں نے شادی کر دی اور اپنا 30 - 35 تو لے سونا اس کی بیوی کو دیا  اورشادی کر دی ۔ شادی کے بعد ایک بنگلے کا کرایہ دس ہزار تھا وہ میں اس کو دیتی رہی ۔میں بیٹیوں کے پاس رہتی ہوں ۔ میرے شوہر نے9  ہزار کا ایک کو اٹر لیا تھا۔ وہ ڈھائی لاکھ میں بیچا تھا۔ اسکی وارثت کی تقسیم بتا دیں ۔  دوسرا بنگلہ میرے شوہر کے نام تھا۔اور جن بچوں کو حصے دیتی گئی وہ سب اپنے حصوں پر راضی تھے جب ان کو دئیے۔

تنقیح:بڑے بیٹے کے نام جب پلاٹ کیا تھا تو اس کی عمر سات سال تھی۔اس کا بنگلہ ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ کا بکا تھا۔اور دوسرا بنگلہ ایک کروڑ بارہ لاکھ کا بکا تھا۔اور ڈھائی لاکھ کا کواٹر بکا تھا۔ان تینوں کی تقسیم کرنی ہے۔اور باقی جو لڑکیوں کو دیا وہ اپنی محنت کی  کمائی سے دیا تھا وہ الگ معاملہ ہے ۔ترکہ بس یہ تین چیزیں ہی ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے اپنی زندگی میں ہی ایک بنگلہ اپنے سات سالہ  بڑے بیٹے کے نام کر دیا تھا ۔یہ نام کروانا دو طرح کا ہو سکتا ہے۔ایک تو یہ کے والد نےعارضی طورپر  جائیداد فقط کاغذات کی حدتک بیٹے کے نام کی ہواور اس کی ملکیت وغیرہ منتقل کرنے کا ارادہ نہ ہوتو اس صورت میں یہ جائیداد بیٹے کی ملکیت شمار نہ  ہو گی بلکہ ترکہ شمار ہو گی اور تمام ورثہ میں تقسیم ہو گی۔اور اگر والد نے مکمل طور پر  ہدیہ  یا گفٹ وغیرہ  کے طور پر ملکیت کی نیت سے نام کرائی تھی تو  والد کا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کو دینا ہبہ کہلاتا ہے۔اور  ہبہ کے بعد قبضہ دینا ضروری ہوتا ہے۔تاہم بچپن میں اولاد کے نام جائیداد کرنے سے وہ اس کی ملکیت میں آجاتی ہے۔لہذا وہ بنگلہ جو بڑے بیٹے کے نام تھا وہ  مرحوم کے ترکہ میں شمار نہ ہو گا اور نہ ہی ورثہ کا اس میں کوئی حصہ ہوگا۔البتہ دوسرا بنگلہ اور کواٹر ترکہ شمار ہوں گے اور اس ترکہ کو تمام ورثہ میں ان کے شرعی  حصوں کے بقدر تقسیم کیا جائے گا۔

مرحوم کی تجہیز و تکفین کے اخراجات،قرض کی ادائیگی اور وصیت پوری کرنے کے بعد باقی ماندہ ترکہ کو موجودورثہ(ایک بیوی   ،دو بیٹےاور چار بیٹیاں) میں  میراث کی تقسیم کی جائےگی۔  کل ترکہ کو 64 برابر حصوں میں  منقسم کر کے  زوجہ کو8 حصے،ہر ایک بیٹے کو14 حصے اور ہر ایک بیٹی کو 7 حصے دئیے جائیں گے۔

    فیصدی اعتبارسے زوجہ کا حصہ  12.5 فیصد،ہر ایک بیٹے کا حصہ21.875 فیصد اور ہر ایک بیٹی کا حصہ 10.9375 فیصدہو گا۔لہذا کل مال کو مذکورہ تناسب سے تمام ورثہ میں تقسیم کر لیا جائے۔

نام کروانے کی اگر پہلی صورت ہو یعنی ملکیت دینے کا ارادہ نہ ہو تو تمام جائیداد ترکہ میں شمار ہو گی۔اور تمام جائداد کی مشترکہ قیمت  دو کروڑ بتیس لاکھ پچاس ہزار 23,250,000روپے بن رہے ہیں۔تو ان میں سے مرحوم کی زوجہ 2,906,250 روپے،ہر ایک بیٹے کو5,085,937 روپے اور ہر بیٹی کو 2,542,969 روپے تقسیم کیے جائیں گے۔

نقشہ  برائے  تقسیم میراث:   

نمبر شمار

ورثہ

عددی حصے

ٖفیصدی حصے

رقم)روپے)

1

زوجہ

8

12.5%

2,906,250

2

بڑا بیٹا

14

21.875%

5,085,937.5

3

چھوٹا بیٹا

14

21.875%

5,085,937.5

4

پہلی بیٹی

7

10.9375%

2,542,968.75

5

دوسری بیٹی

7

10.9375%

2,542,968.75

6

تیسری بیٹی

7

10.9375%

2,542,968.75

7

چوتھی بیٹی

7

10.9375%

2,542,968.75

 

مجموعہ

64

100%

23,250,000

 

 

 

 

 

 

 

 

اور اگر نام کروانے کی دوسری صورت ہو تو موجودہ صورت میں ترکہ کی دونوں جائیدادیں بیچنے کے بعد مشترکہ قیمت  ایک کروڑ چودہ لاکھ پچاس ہزار 11,450,000 روپے بن رہے ہیں تو ان میں سے مرحوم کی زوجہ کو 1,431,250 روپے،ہر ایک بیٹے کو 2,504,687 روپے اور ہر بیٹی کو 1,252,344روپے تقسیم کیے جائیں گے۔

نقشہ  برائے  تقسیم میراث:   

نمبر شمار

ورثہ

عددی حصے

ٖفیصدی حصے

رقم) روپے(

1

زوجہ

8

12.5%

1,431,250

2

بڑا بیٹا

14

21.875%

2,504,687.5

3

چھوٹا بیٹا

14

21.875%

2,504,687.5

4

پہلی بیٹی

7

10.9375%

1,252,343.75

5

دوسری بیٹی

7

10.9375%

1,252,343.75

6

تیسری بیٹی

7

10.9375%

1,252,343.75

7

چوتھی بیٹی

7

10.9375%

1,252,343.75

 

مجموعہ

64

100%

11,450,000

حوالہ جات

   قال الله تعالى عز و جل:ﵟيُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَتۡ وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصۡفُۚ[النساء: 11]

قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل، والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد (والربع للزوج) فأكثر. (الدر المختار:512)

  قال العلامة الزيلعي رحمه الله تعالى: (وعصبها الإبن، وله مثلا حظها) معناه :إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات ،فيكون للإبن مثل حظ الأنثيين ؛لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} .(تبيين الحقائق: 233/6)

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: للبنات ‌ستة ‌أحوال: ثلاثة تتحقق في بنات الصلب، وبنات الابن وهي النصف للواحدة والثلثان للأكثر وإذا كان معهن ذكر عصبهن ...... وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهما، والزوجات والواحدة يشتركن في الربع والثمن وعليه الإجماع.

(رد المحتار :515/10)

قال جمع من العلماء رحمهم الله تعالى:‌وهبة ‌الأب لطفله تتم بالعقد ولا فرق في ذلك بينما إذا كان في يده أو في يد مودعه بخلاف ما إذا كان في يد الغاصب أو في يد المرتهن أو في يد المستأجر حيث لا تجوز الهبة لعدم قبضه.)الفتاوى الهندية:4/ 391)

ہارون  عبداللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

3 رمضان1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ہارون عبداللہ بن عزیز الحق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب