| 84362 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب کی عمر تقریباً 64 سال تھی، انتقال سے پہلے وہ سخت بیمار تھے ،اس کو دو تین سال سے تھر تھری / کپکپی کی بیماری تھی ،جس کو (Tremors Disease) کہتے ہیں جو کہ اعصابی خرابی (Neurological Disorder) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ والد صاحب فالج کا مریض بھی تھا ، صحیح سے بات نہیں کر پاتےتھے اور نہ لکھ پاتے تھے ، بہت علیل اور کمزور تھے ،بستر سے اٹھ بھی نہیں سکتے تھے،اس کی اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھیں ، اسی بیماری کے دوران وہ بیٹی کی رضامندی اور خوشی کے بغیر اگر صرف بیٹے کو اپنی پوری جائیداد ہبہ(Gift) کرتا ہے تو اس ہبہ کی شرعی حیثیت کیا ہوگی، کیا یہ ہبہ شریعت میں قابل قبول ہوگی یا نہیں؟ والد صاحب نے جو گھر ہبہ کیا تھا،اس کی وفات اسی گھر میں ہوئی ہے۔
تنقیح:سائل نے کال پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا،کہ فالج کی تشخیص وفات سے ایک یا ڈیڑھ سال پہلے ہوئی تھی ، دونوں بیماریوں کی وجہ سے اتنے سخت علیل ہوئے تھے کہ سامنے آنے پر بھی کسی کو پہچان نہیں کرسکتے تھے ، اس ہبہ کے دو مہینے بعد والد محترم انتقال کرگئے ،ڈاکٹر حضرات نے اس کی وفات کی بنیادی سبب یہی بیماریاں بتائی ۔مزید کہ اس کی بیٹی کا نام اس ہبہ کےگواہان میں شامل ہے،بیٹی کایہ دعوی ہے کہ میں ان پڑھ ہوں،ہبہ انگریزی میں لکھی ہوئی تھی اور میرے بھائی نے مجھ سے یہ کهہ کر انگھوٹے لگوایےکہ وہ اسکا جائیداد میں حصہ رجسٹرڈ کروا رہا ہے ، جب کے میرے بھائی نے مجھے دھوکہ دیا اور پوری ہبہ اپنے نام کروالی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے جب کوئی بندہ مرض الموت میں وارث یا غیر وارث کو کوئی چیز ہبہ کرتاہےتو وہ وصیت کے حکم میں ہوتا ہے اور وارث کے لئے کی گئی وصیت معتبر نہیں ہے ،البتہ غیر وارث کے لئے ثلث(ایک تہائی)تک معتبرہے۔صورتِ مسولہ میں آپ کے والد محترم نے مرض الموت میں (جیسے سوال میں ذکر کیاگیاہے) اپنے بیٹے کو اپنی پوری جائیداد ہبہ کی ہے،لہذا اس کا اپنی پوری جائیداد صرف بیٹے کو ہبہ کرناجائز نہیں ہوگا،کیونکہ بیٹا میت کے ورثاء میں سے ہے اور وارث کے لئے وصیت معتبر نہیں اور مرحوم کی وہ جائیداد تمام ورثا کا حق ہے۔مزید یہ کہ اگر میت کی بیٹی کا دعوی صحیح ہو تو میت کا بیٹا اپنی بہن کے ساتھ جھوٹ ،دھوکہ اور غلط بیانی کا معاملہ کرنے کی وجہ سے گنہگار ہے،لہذا بھائی توبہ وکثرت سے استغفار کے ساتھ اللہ تعالی اور بہن دونوں سے معافی مانگے۔
حوالہ جات
ا لمبسوط للسرخسي (12/ 102):
[باب هبة المريض]
(قال: ولا يجوز هبة المريض، ولا صدقته إلا مقبوضة فإذا قبضت: جازت) ، وقال ابن أبي ليلى: تجوز غير مقبوضة؛ لأنها وصية بدليل أنها تعتبر من الثلث فالوصية تتأكد بالموت - قبضت أو لم تقبض - ولا تبطل به، فكذلك الهبة في المرض؛ وهذا لأن المرض سبب الموت، وجعل ما يباشره المريض في الحكم كالثابت بعد موته، حتى لو طلق زوجته ثلاثا، ورثته بمنزلة ما لو وقعت الفرقة بينهما بالموت، فهذا مثله، ولكنا نقول: المعنى الذي له ولأجله لا تتم الهبة والصدقة من الصحيح إلا بالقبض موجود في حق المريض، وهو أنه تمليك بعقد تبرع؛ فيكون ضعيفا في نفسه لا يفيد حكمه، حتى ينضم إليه ما يؤيده، وهذا في حق المريض أظهر؛ لأن تصرفه أضعف من تصرف الصحيح. واعتباره من الثلث لا يدل على أنه غير ثابت في الحال - ككفالته، فإعتاقه.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 259):
قال في «الأصل» : لا يجوز هبة المريض ولا صدقته إلا مقبوضة، فإذا قبضت جازت من الثلث، وإذا مات الواهب قبل التسليم بطلت.
يجب أن يعلم بأن هبة المريض هبة عقد وليست بوصية واعتبارها من الثلث ما كانت؛ لأنها وصية، ولكن لأن حق الورثة يتعلق بمال المريض وقد تبرع بالهبة فيلزم تبرعه بقدر ما جعل الشرع له وهو الثلث، فإذا كان هذا التصرف هبة عقد اشترط له سائر شرائط الهبة، ومن جملة شرائطها قبض الموهوب له قبل موت الواهب.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 490):
قال - رحمه الله - (وهبته وصية) يعني حكمها حكم الوصية أي إذا وهب المريض في مرضه يكون حكمه حكم الوصية أطلق في الهبة فشمل ما إذا عادت للمريض أو لم تعد، وللأجنبي، وللوارث.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 168):
(المادة 879) إذا وهب أحد في مرض موته شيئا لأحد ورثته وبعد وفاته لم تجز الورثة الباقون لا تصح تلك الهبة.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 337):
(ومنها) أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية لما روي عن أبي قلابة - رضي الله عنه - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «إن الله تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث» .
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
21/ محرم الحرام/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


