03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پہلی منزل چھوڑ کر دوسری منزل میں جماعت کرانے کا حکم
83589نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

ہماری یادداشت سے پہلےایک مسجد تعمیر ہوئی تھی۔جن حضرات نے وہ مسجد تعمیر کی تھی  وہ یہاں سے چلے گئے اور وہ مسجد بھی ختم ہو گئی ۔جب ہم یہاں آباد ہوئے تو کسی نے بتایا کہ یہاں ایک مسجد تعمیر ہوئی تھی ۔ہم نے مسجد کے نشانات ڈھونڈ کر اس پر مسجد بنا لی ۔2005کے زلزے میں مسجد پھر سے شہید ہو گئی ۔ہمارے محلے میں ایک جامع مسجد موجود تھی، اس کے علاوہ اور کوئی مسجد نہیں تھی۔پھر ہمارے ایک تیسرے دادا نے مسجد تعمیر کرنا شروع  کر دی ،حالانکہ اس کے دوسرے بھائی اس پر متفق نہیں تھے ۔اس نے اکیلے چھوٹی سی مسجد بنا لی۔بعد میں اس کے بھائی  متفق ہو گئے  اور اس نے اس چھوٹی مسجد کے اوپر ایک دوسری بڑی مسجد تعمیر کر دی۔چاروں بھائی اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ نیچے طلبہ اور تبلیغی جماعت  کی جگہ ہو گی اور مسجد اوپر ہو گی۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ دادا جس نے پہلی مسجد تعمیر کی تھی  وہ کہہ رہا ہے کہ مسجد ہمیشہ کے لیے نیچے ہو گی اور امام نیچے والی مسجد سے اوپر نہیں جا سکتا۔امام نیچے ہی ہو گااور مقتدی اوپر ہوں گے۔اوپر والی مسجد  تعمیر کے اعتبار سےخوبصورت اور مکمل کھلی ہے اور نیچے والی مسجد میں محراب بھی نہیں ہے۔لیکن اس دادا نے مسجد کے اندرمحراب بنا لیا ہے۔اب ہمیں سمجھائیں کہ نماز ہمیشہ کے لیے نیچے والی مسجد میں  ادا کریں یا اوپر بھی جا سکتے ہیں یا شرعا کوئی اور صورت ہو تو بتا دیں۔

تنقیح: گاؤں کے تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ ہم جماعت اوپر والی مسجد میں ہی ادا کرٰیں گے لیکن صرف ایک شخص اس بات پر بضد ہے کہ نیچے والی مسجد میں ہی امام کھڑا ہو گا اور وہ مان نہیں رہا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد  جب ایک دفعہ تعمیر ہو جائے تو   وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہی شمار ہوتی ہے ۔لہذا دوسری منزل جو نئی تعمیر ہوئی ہے وہ بھی مسجد ہی شمار ہو گی۔ مسجد کی نیچے والی منزل کو چھوڑ کر  بلاعذر  اوپر والی منزل پر جماعت کرانے سے نماز تو ادا ہو جائے گی لیکن مکروہ ہو گی ۔اس لیے کہ ایسا کرنا مسجد کی اصل وضع اور امت کے متوارث طریقہ کے خلاف ہے ۔صحیح اور متوارث طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مسجد کی نیچے والی منزل پر نماز ادا کی جائے ۔وہاں جگہ مکمل ہو جائے توپھر  دوسری منزل پر  صفیں بنا لی جائیں۔البتہ اگر کسی عذر و مجبوری مثلا  شدید حبس و گرمی ،تعمیر و مرمت  یا نا قابل برداشت مشقت وغیرہ کی بناء پر نیچے والی مسجد میں جماعت نہ ہو سکتی ہو تو دوسری منزل  پر جماعت کروانا بلاکراہت درست ہو گا۔نچلی منزل میں جگہ کم ہونا ایسا عذر نہیں کہ جس کی وجہ اصل مسجد میں جماعت چھوڑ دی جائے۔

مسجد ایک دفعہ تعمیر ہو جائے تو وہ مسجد ہی رہتی ہے ۔تمام لوگوں کے اتفاق سے اسے مسجد کے دیگر مصالح میں استعمال کرنا مناسب نہیں۔بہتر یہی ہے کہ نیچے والی مسجد میں کوئی سوراخ ،روشن دان یا کھڑکی اوپر والی مسجد میں کھول دی جائے اور جماعت کی نماز نچلی منزل پر ہی کرائی جائے،نچلی منزل بھر جائے تو  بقیہ مقتدی دوسری منزل پر  صفیں بنا لیں۔

حوالہ جات

قال العلامة الزيلعي رحمه الله تعالى:لأن سطح المسجد مسجد ‌إلى ‌عنان ‌السماء ولهذا يصح اقتداء من بسطح المسجد بمن فيه إذا لم يتقدم على الإمام. (تبيين الحقائق:1/ 168)

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: لأنه مسجد ‌إلى ‌عنان ‌السماء.قوله:( ‌إلى ‌عنان ‌السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري عن الإسبيجابي.(رد المحتار ط الحلبي:1/ 656)

قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى:(‌والحائل لا يمنع) الاقتداء (إن لم يشتبه حال إمامه) بسماع أو رؤية، ولو من باب مشبك يمنع الوصول في الاصح (ولم يختلف المكان) حقيقة كمسجد وبيت في الاصح، قنية.ولا حكما عند اتصال الصفوف.(الدر المختار:ص80)

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى:قوله:( بسماع) ‌أي ‌من ‌الإمام أو المكبر.قوله:( أو رؤية) ينبغي أن تكون الرؤية كالسماع، لا فرق فيها بين أن يرى انتقالات الإمام أو أحد المقتدين.( رد المحتار:1/ 586)

قال جمع من العلماء رحمهم الله تعالى: ولو ‌قام ‌على ‌سطح المسجد واقتدى بإمام في المسجد إن كان للسطح باب في المسجد ولا يشتبه عليه حال الإمام يصح الاقتداء وإن اشتبه عليه حال الإمام لا يصح. كذا في فتاوى قاضي خان وإن لم يكن له باب في المسجد لكن لا يشتبه عليه حال الإمام صح الاقتداء أيضا وكذا لو قام في المئذنة مقتديا بإمام المسجد. ( الفتاوى الهندية:1/ 88)

قال جمع من العلماء رحمهم الله تعالى:‌الصعود ‌على ‌سطح كل مسجد مكروه، ولهذا إذا اشتد الحر يكره أن يصلوا بالجماعة فوقه إلا إذا ضاق المسجد فحينئذ لا يكره الصعود على سطحه للضرورة.( الفتاوى الهندية:5/ 322)

  ہارون  عبداللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

5    رمضان1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ہارون عبداللہ بن عزیز الحق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب