| 83579 | تصوف و سلوک سے متعلق مسائل کا بیان | معجزات اور کرامات کا بیان |
سوال
درج ذیل مسائل کے بارے میں سائل آپ کی راہنمائی چاہتا ہے، نیز ان مسائل کی بنیاد پر مذکورہ شخص کے حوالے سے تحریری فتوی کا بھی طلبگار ہے۔ درج ذیل سوالات حق خطیب نامی شخص کے بارے میں ہیں جو سوشل میڈیا پر ایک پیر کے طور پر مشہور ہے۔
کیا شریعت، طریقت یا تصوف میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ ایک شخص خود کو اللہ کا ولی کہے اور اپنے پاس آنے والے سائلین کے منہ سے کیلیں نکالنے اور آنکھ سے زنجیر برآمد کرنے کے عمل کو اپنی کرامت قرار دے؟ جبکہ ہم بطور میڈیا ٹیم آنکھ سے زنجیر نکالنے اور منہ سے کیلیں برآمد کرنے کا عمل عوامی طور پر کر کے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ یہ محض ایک کرتب اور فریب نظر ہے۔ اور کیا کسی شخص کے لئے یہ جائزہے کہ وہ اپنے پاس آنے والے مریضوں کو دنیاوی علاج سے روک دے؟
مندرجہ بالاموقف کے ویڈیو ثبوت کے لیے یہ لنکس موجود ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=HosP5MFx0kE
https://www.youtube.com/watch?v=grLDmTmSEqA
https://www.youtube.com/watch?v=EZwvIN5Nc-g
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اولیائے کرام اللہ تعالیٰ کے ایسے نیک بندے ہوتے ہیں جو ایمان و تقویٰ، پرہیزگاری اور اطاعت الٰہی سے مزین اور آراستہ ہوتے ہیں ۔عقائد واعمال میں شریعت کے پابند ہوتے ہیں، فرائض و واجبات میں کوتاہی نہیں کرتے ،حرام و ناپسندیدہ چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگرکبھی لغزش ہوجائے توفوراً توبہ کرتے ہیں ۔ان کودُنیا کی حرص وہوس نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ کمال کا دعویٰ کرتے ہیں ؛کیونکہ یہ بھی شعبۂ دنیا ہے،بلکہ جو صحیح معنوں میں اللہ والے ہوتے ہیں وہ حتی الامکان اپنی کرامات کو چھپاتے ہیں۔اسی طرح ولی اللہ کی پہچان یہ بھی ہے کہ اسے دیکھنے سے اللہ کی یاد آتی ہو اور اس کی صحبت میں چند روز بیٹھ کر آخرت کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہواوراہل زمانہ میں سے نیک طینت لوگ اسے اچھا سمجھتے ہوں اوراس پر اعتمادکرتے ہوں۔
اہلِ سنت والجماعت کے عقائدمیں یہ بات شامل ہے کہ کرامت اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جو اللہ تعالی اپنے ولی کے ہاتھ پر ظاہر کرتے ہیں۔ ولی کو بذات خوداس امر کے صادر کرنے پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ولی جب اپنے آپ کو مٹا کر ہر لمحہ اللہ تعالی کے استحضار کے ساتھ اللہ کی چاہت میں زندگی گزارتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی کی چاہت اس کی چاہت ہو جاتی ہے تو پھر اللہ رب العزت اپنے ارادےسے اس کی تکریم و تصدیق کے لیے اس کے ہاتھ پرخرق ِ عادت امور کو بطور کرامت ظاہر فرماتے ہیں۔ لیکن ایسا ممکن نہیں کہ ولی جب چاہے اپنے تصرف سے کرامات کااظہار کرے اوراللہ تعالی کے ارادے کا پابند نہ رہے۔بسا اوقات خرق عادت امورجادو،کہانت، شعبدہ بازی،حیلہ سازی اور خفیہ تدبیر سے بھی ظاہر کیے جاتے ہیں اور ان کو کرامت کا نام دیا جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ ایسا کرنا کسی صورت جائز نہیں۔ایسا کرنے والے حب جاہ اور حب مال کے مریض ہوتے ہیں اور سادہ لوح عوام کے ایمان و عقیدہ کو خراب کرنے کے علاوہ ان سے مال بھی لوٹتے ہیں۔ایسے لوگوں کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والے خلاف عادت امور کو فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی نے احوال شیطانیہ قرار دیا ہے جو شیاطین اور جنات کے اتباع سے ظاہر ہوتے ہیں۔لہذا جن علماء و مشایخ میں شروع میں ذکر کردہ اللہ والوں کی صفات و علامات نہ پائی جاتی ہوں، ان سے کسی قسم کا تعلق رکھنا عوام کے دین و ایمان اور دنیوی امور کے لیے بھی سخت مضر ہے ،اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔
علاج کرانا اور دوا استعمال کرنا سنت ہے۔حضور اقدس ﷺ نے کئی احادیث میں متعدد اشیاء کو بطور دوا استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے۔اور حضور اکرم ﷺ نے خود بھی دوا استعمال فرمائی ہےلہذا دوا سےبالكلیہ روکنا جائز نہ ہو گا۔جیسے شریعت میں رقیہ و دم کا جواز و ثبوت موجود ہے بالکل اسی طرح شرعا دوا سے علاج کرنا بھی ثابت اور جائزہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصكفي رحمه الله تعالى:فقال: خرق العادة على سبيل الكرامة لاهل الولاية جائز عند أهل السنة، ولا لبس بالمعجزة لانها أثر دعوى الرسالة، وبادعائها يكفر فورا فلا كرامة، وتمامه في شرح الوهبانية .( الدر المختار:/1 253)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى:فقال: نقض العادة على سبيل الكرامة لأهل الولاية جائز عند أهل السنة.......وكرامات الأولياء حق، فتظهر الكرامة على طريق نقض العادة للولي، من قطع المسافة البعيدة في المدة القليلة، وظهور الطعام والشراب واللباس عند الحاجة، والمشي على الماء والهواء، وكلام الجماد والعجماء، واندفاع المتوجه من البلاء، وكفاية المهم من الأعداء وغير ذلك من الأشياء........قوله:( ولا لبس بالمعجزة إلخ) جواب عن قول المعتزلة المنكرين الكرامات للأولياء؛لأنها لو ظهرت لاشتبهت بالمعجزة ،فلم يتميز النبي من غيره. والجواب أن المعجزة لا بد أن تكون ممن يدعي الرسالة تصديقا لدعواه، والولي لا بد من أن يكون تابعا لنبي وتكون كرامته معجزة لنبيه، لأنه لا يكون وليا ما لم يكن محقا في ديانته واتباعه لنبيه؛ حتى لو ادعى الاستقلال بنفسه وعدم المتابعة لم يكن وليا بل يكون كافرا ولا تظهر له كرامة.
(حاشية ابن عابدين :3/ 551)
قال العلامۃ ابن جبرین رحمه الله تعالى:الأحوال الشيطانية التي تجري على أيدي السحرة والمشعوذين، وهذه الأحوال الشيطانية هي ما يتمكن منه السحرة من الصرف والعطف وتغيير الحقائق وقلب الأشياء، وكذلك ما يفعلونه من قطع المسافات، ومن حمل الأثقال، والطيران في الهواء، ونحو ذلك في زمن قصير، وهذه الأحوال تسمى أحوالاً شيطانية، وهي تجري بسبب خدمتهم للشياطين، فهم يتقربون إلى الشياطين وإلى مردة الجن بما يحبون، فتجري على أيديهم المخارق، والشعوذة، والتغيرات النفسية، ولكنها تبطل بإذن الله إذا عولجت بالآيات القرآنية والأدعية النبوية. (شرح العقيدة الطحاوية :92/8)
قال العلامة ابن حبرين رحمه الله تعالى:أن هذه خوارق وكرامات يجريها الله على يدي هذا العبد الذي هو من عباد الله الصالحين، والذي ظاهره من أحسن الظواهر: عمله عمل حسن، ودعاؤه مستجاب، وأكله حلال طيب، ورزقه وكسبه من أحسن الكسب وأبعده عن الخبيث، مقيم لعباداته، محافظ على صلواته وزكواته، مبتعد عن المشتبهات وعن المحرمات، متمسك بالشريعة، مؤمن بالله إيماناً قوياً ظاهراً وباطناً، مطبق لشريعة الله، تالٍ لكتابه، متبع للسنة، بخلاف أولياء الشيطان، فإنهم وإن تظاهر بعضهم بالإيمان والإسلام، ولكن باطنهم يعرفه المتبصرون: {إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ} الحجر:75، فالمتبصر يعلم خبث طواياهم، ويعلم خبث أفعالهم).شرح العقيدة الطحاوية92/3:)
قال العلامۃ ابن تیمیۃ رحمه الله تعالى: وعلامة فناء إرادتك بفعل الله أنك لا تريد مرادا قط، فلا يكن لك غرض ولا تقف لك حاجة ولا مرام؛ لأنك لا تريد مع إرادة الله سواها بل يجري فعله فيك فتكون أنت إرادة الله تعالى وفعله،...... فلا تثبت فيك شهوة ولا إرادة، كالإناء المتثلم الذي لا يثبت فيه مائع ولا كدر، فتنبو عن أخلاق البشرية فلن يقبل باطنك شيئا غير إرادة الله تعالى، فحينئذ يضاف إليك التكوين وخرق العادات، فيرى ذلك منك في ظاهر الفعل والحكم وهو فعل الله تبارك وتعالى حقا في العلم، فتدخل حينئذ في زمرة المنكسرة قلوبهم الذين كسرت إرادتهم البشرية، وأزيلت شهواتهم الطبيعية، واستؤنفت لهم إرادات ربانية وشهوات إضافية.(جامع الرسائل لابن تيمية:2/ 118)
قال جمع من العلماء رحمهم الله تعالى:الاشتغال بالتداوي لا بأس به إذا اعتقد أن الشافي هو الله تعالى وأنه جعل الدواء سببا أما إذا اعتقد أن الشافي هو الدواء فلا. كذا في السراجية.( الفتاوى الهندية:5/ 354)
ہارون عبداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
29شعبان1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ہارون عبداللہ بن عزیز الحق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


