| 84383 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
میں مشتاق احمد کا رجسٹری نکاح ثمینہ بی بی دختر ملک ملازم حسین (مرحوم) سے ہوا، اس رشتے سے لڑکی کے ددھیال اور ننھیال والے راضی نہیں تھے، کم از کم 5-6 سال اندر ہی اندر میری ساس، سالے کو اس کے بھائی دھمکاتے رہے کہ یہاں کسی صورت رشتہ نہیں ہونے دیں گے۔ اگر رشتہ کیا تو لڑکی اور لڑکے کو مار دیں گے، پھر لڑکی کے ماموں ہمیں گھر آ کے دھمکا جاتے کہ اس رشتے سے دور ہو جاؤ ،ورنہ قتل کر دیں گے، کیونکہ زمیندارا گروپ ہے تو ہمیں گھر ہی میں دھمکا تے رہے، بیٹی والے ہمیں ہفتہ دس دن بعد کہتے کہ ہماری بیٹی ہے، ہم دیں گے ،تم لوگ کہیں رشتہ نہ کرنا ۔ سال بعد نکاح اورمنگنی تک بات پہنچتی تو پھر دونوں گھرانوں کو ڈرا کے چپ کرا دیتے۔
آخر تھک ہار کے بڑے سالے جمشید نے گھر بلوا کر رازداری سے مغرب کے وقت نکاح پڑھا دیا ،جب 2-3 ماہ بعد ددھیال اور ننھیال والوں کو نکاح کا پتہ چلا تو لڑکی کے ماموں جو ڈھکے چھپے انداز میں دھکمیاں دیتے تھے ،نے پوری برادری جمع کی اور ان کے سامنے کہا کہ ہم لڑکی ،لڑکی کی ماں اور لڑکے کو مار دیں گے۔ یہ دھمکیاں ہمیں سسرال والوں نے بتائیں کہ وہ ایسا ایسا کرنے پر آ چکے ہیں، مزید کہا کہ پوری برادری ہمارے گلے پڑ چکی ہےاور ہم مجبور ہوچکے ہیں ، نقصان اورقتل و غارت کا شدید خطرہ ہے ،لہذہ ہمیں طلاق دیں ۔کم از کم 20-25 افراد لڑکی والوں کے گھر جمع تھے ۔
ہمارے علاقے میں لڑائی کے دو بڑے واقعات ہوئے: ایک جعفر گروپ کی بہت بڑی لڑائی ہوئی جس میں بہت سی جانیں گئیں ،دوسرا کوئی بلوچ قتل ہوا۔ اس کا باقاعدہ حوالہ دے کر وہ میری ساس کو پہلے دھمکاتے رہے کہ ایسے قتل کر دیں گے اگر رشتہ کیا ۔مزید یہ کہ ان کے سگے بھائی نے غیروں میں دوسری شادی کی تھی،اس کو ہر شام اتنا مارتے کہ وہ بے ہوش ہوجاتا حتی کہ یہی سلسلہ چلتے چلتے آخر وہ بیچارہ بیمار ہوا ،گھر سے نکال دیا۔جب سے ہماری رشتہ کی بات شروع ہوئی تب سے ہر دس بیس دن بعد یہ تذکرہ ہوتا تھا، ساس بیچاری کہتی کہ میرے بھائی ایسے ظالم ہیں ،ہم دونوں گھرانوں پران کا خوف طاری ہو چکا تھا کہ جنہوں نے سگے بھائی کو نہ بخشا ،ہمارے ساتھ کیا کر گزریں گے۔
علاقے کے سرپنچ جو کہ MPA کا الیکشن لڑنے والے کا بھائی ہے،نے ہمیں کہا کہ بھائی یہ تو مجھ سے بھی لڑتے ہیں، مجھ سے نہیں سنبھالے جا رہے، مزید کہا کہ کوئی نہ کوئی بندہ ادھر سے یا ادھر سے مرے گا ،ہم نے ان سے التجا کی کہ ہماری مدد کریں ،انہوں نے کہا کہ میں کیسے مدد کروں ۔اگر تو مشتاق کے سسرال والے ساتھ نبھائیں تو میں کوشش کروں۔ جب جمشید بھائی نے دیکھا کہ برادری اب نہیں سنبھالی جا رہی ہے تو انہوں نے میرے بھائیوں کو فون کیا کہ طلاق دیں ،جب بھائیوں نے دولہا سے طلاق دینے کا کہا تو لڑکا انکاری ہو گیا ۔اس پر لڑکے کے بھائیوں نے لڑکی والوں کو کال کی کہ ہمیں ہفتہ دس دن سوچنے کا وقت دیں تو انہوں نے کہا کہ کسی صورت نہیں ، ابھی کے ابھی دیں۔ پھر کہا کہ چلیں ایک دن کی مہلت دیں ،صبح تک کی ہم کسی عالم دین سے اسٹام پیپر پہ لکھوا دیں گے تو پھر دھمکی سمیت کہا کہ ابھی کے ابھی دو ،بھلے سادہ پیپر پر ہی سہی۔
جب لڑکے کے گھر والوں نے حالات ہاتھ سے نکلتے دیکھے کہ نہ لڑکے کا سسرال ساتھ دے رہا ہے اور نہ ہی سرپنچ تو انہوں نے ڈر کے مارے ایک طلاق کا تحریر نامہ تیار کیا اور غصہ میں لڑکے کو زدوکوب کر کے یہ کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ طلاق دو ورنہ تو ہم تم لوگوں کے گھر ابھی کے ابھی آئے ۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ہم کمزور اور وہ زمیندارا گروپ ا یک طرف حتی کہ جس کے ہم ووٹر ز ہیں ، وہ بھی انہی کے خاندان کا ہے۔ نقصان ہو گیا تو ہم کسے اپنی شکایت سنائیں گے۔ یہ سنا کر اور ڈرا کر تحریر نامے پرزبردستی دستخط کرا لیے، لڑکے نے نہ تحریر پڑھی ،نہ زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کیے، محض اس خوف سے کہ نہ سسرال ساتھ دے رہا ہے اور نہ بھائی تو میری بیوی ، ساس اور مجھے مار دیں گے۔ یہ خوف یقین کی حد تک دماغ پہ سوار ہو چکا تھا ، ڈر کے مارے اس نے دستخط کر دیئے۔تو کیا ڈر کی وجہ سے صرف دستخط کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
تنقیح : سائل نے زبانی بتایا کہ زبانی طلاق کوئی نہیں دی ہے ، صرف تحریری طورپر تین طلاقیں بحالت جبر دے چکا ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سوال میں ذکر کردہ صورت حال اور خدشات واقع کے مطابق تھے تو صرف تحریری طور پر تین طلاق دینے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية ( 1/379):
رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان۔
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
21 /محرم/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


