| 84404 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
ہماری ساس صاحبہ کو ان کے والد نے ایک گھر دیا تھا، انہوں نے وہ گھر اپنی خوشی اور رضامندی سے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے نام کر دیا، کیونکہ باقی دو بیٹے مالی اعتبار سے مضبوط تھے، جبکہ چھوٹا بیٹا زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا اور مالی اعتبار سے بھی کمزور تھا، اس لیے والدہ نے وہ مکان اپنے چھوٹے بیٹے کو دے دیا، جبکہ ان کی تین بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ان کا مکان صرف ایک بیٹے کو دینا درست ہے؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ ساس کی تینوں بیٹیاں شادی شدہ اور اپنے ذاتی گھروں میں رہائش پذیر ہیں، مالی حالات بھی تقریبا ٹھیک ہیں، نیز یہ بھی بتایا کہ ساس نے چھوٹے بیٹے کو جو مکان دیا اس کی مالیت پچاس سے ساٹھ لاکھ روپیہ ہے، اس کے علاوہ ساس کی کچھ اور زمین بھی ہے، جو اس کو اس کے والد کی طرف سے ملی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زندگی میں اپنی جائیداداولاد کو دینا دراصل ہبہ (گفٹ) ہے نہ کہ میراث۔ اورہبہ کے بارے میں اگرچہ شرعاً اور قانوناً والدہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ جتنی جائیداد چاہے اولاد کو دے اور جتنی چاہے اپنے پاس رکھے، کیونکہ زندگی میں ہر شخص اپنے مال و جائیداد کا خود مالک ہوتا ہے، تاہم اگروالدیاوالدہ زندگی میں اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا چاہے تو اس بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ سب اولاد کو برابر حصہ دے یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائے، لیکن اگر کسی بیٹے یا بیٹی کی خدمت، دینداری یا مالی حالت کی تنگی کی بنیاد پر اس کو کچھ حصہ زیادہ دےدیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ دیگر ورثاء کو محروم کرنے کا ارادہ نہ ہو۔
لہذا سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق چونکہ آپ کی ساس کے پاس بیٹے کو دیے گئے گھر کے علاوہ دوسری زمین بھی موجود ہے اور یہ بیٹا مالی اعتبار سے کمزور ہونے کی وجہ سے ضرورت مند بھی تھا، اس لیے اس کی والدہ کا اس کو یہ مکان دینا درست ہے اور اب حکم یہ ہے کہ اگر والدہ نے وہ مکان چھوٹے بیٹے کے نام کروا کر مکان خالی کر کے اس کو قبضہ بھی دے دیا ہے تو وہ بیٹا اس مکان کا مالک بن چکا ہے، اب یہ اس سے واپس نہیں لیا جا سکتا، البتہ اس کے علاوہ والدہ کے پاس جو دیگر زمین ہے وہ اپنی دوسری اولاد کے درمیان تقسیم کر دے، تاکہ اپنی جائیداد سے ان کو مکمل طور پر محروم کرنا لازم نہ آئے۔
نوٹ: اکثر فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اولاد کے درمیان جائیداد کی تقسیم کا حکم بیان کرتے وقت ضرورت کے پیش نظر صرف تفضیل یعنی بعض اولاد کو دوسری اولاد کی بنست زیادہ دینے کا ذکر کیا ہے،کسی بیٹے کو کل مال دینے کا حکم ذکر نہیں کیا، دیگر بعض حضرات نے کل مال دینے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اولادقضاءً اس جائیداد کی وارث بن جائے گی، البتہ اس طرح جائیداد ہبہ کرنے والا (والد ہو یا والدہ) اولاد کے درمیان عدل وانصاف نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گا، البتہ بعض فقہائے کرام جیسے علامہ علاؤ الدین کاسانی، علامہ جمال الدین ابو محمد علی بن زکریا منبجی اور علامہ ابنِ شحنہ حلبی رحمہم اللہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر والد یا والدہ اپنی کسی اولاد کو کسی شرعی عذر کی بنیاد پر کل مال دیدے تو یہ بھی جائز ہے اور انہوں نے ہبہ کرنے والے کے بارے میں گناہ گار ہونے کا بھی ذکر نہیں کیا اور یہی حکم زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے، کیونکہ زندگی میں تندرستی کی حالت میں آدمی کے مال کے ساتھ کسی اولاد کا حق متعلق نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ ایسی حالت میں اگر آدمی اپنا تمام مال اللہ کے راستے میں صدقہ یا وقف کرنا چاہے تو بالاتفاق اس کی اجازت ہے، اسی طرح اگر کوئی بیٹا یا بیٹی بیمار ہو اور اس کے علاج معالجے پر مکمل جائیداد صرف ہو جائے تو اس کے جواز میں بھی کسی کا اختلاف نہیں، لہذا اگر کوئی شخص کسی ضرورت اور شرعی وجہ (جو دیگر اولاد میں موجود نہ ہو) کی بنیاد پر کسی اولاد کو اپنا کل مال دیدے اور اس کا دیگر ورثاء کو محروم کرنے کا ارادہ نہ ہو تو یہ بھی جائز ہے، جیسا کہ فتاوی عثمانی (458/3) میں ایک سوال کے جواب میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔
جہاں تک حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایت میں تمام اولاد کو برابر دینے کے حکم کا تعلق ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس روایت میں شرعی وجہ اور ضرورت کا ذکر نہیں ہے، لہذا اس کو عام حالت پر محمول کیا جا سکتا ہے، تاکہ ان فقہائے کرام کا مذکورہ حدیث سے تعارض لازم نہ آئے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:
(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا
جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔
لسان الحكام (ص: 371) لابن الشِّحْنَةالثقفي الحلبي ، البابي الحلبي – القاهرة:
نوع الأفضل في هبة الابن والبنت التثليث كالميراث وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى التنصيف وهو المختار ولو وهب جميع ماله من ابنه جاز وهو آثم نص عليه محمد رحمه الله تعالى ولو خص بعض أولاده لزيادة رشده فلا بأس به وإن كانوا سواء في الرشد لا يفعله.
اللباب في الجمع بين السنة والكتاب (2/ 549) دار القلم بيروت:
باب ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في العطية ليستووا في (البر له) ، ولا يفضل بعضهم على بعض فتقع بذلك الوحشة في قلوبهم، فإن نحل بعضهم شيئا دون بعض وقبله المنحول لنفسه إن كان كبيرا، أو قبضه له أبوه إن كان صغيرا بإعلامه والإشهاد به فهو جائز.
البخاري ومسلم والطحاوي واللفظ له: عن (داود بن) أبي هند عن عامر الشعبي عن النعمان بن بشير قال: " انطلق بي (أبي) إلى النبي [صلى الله عليه وسلم] ونحلني نخلا (ليشهده) على ذلك، فقال: أكل ولدك نحلته مثل هذا؟ فقال: لا، قال: أيسرك أن يكونوا إليك في البر كلهم سواء؟ قال: بلى، قال: فأشهد على هذا غيري ".
فهذا القول لا يدل على فساد العقد الذي (كان) عقده النعمان، لأن النبي [صلى الله عليه وسلم] قد يتوقى الشهادة على ما له أن يشهد (عليه) وعلى الأمور التي قد كانت فكذلك لمن بعده، لأن الشهادة إنما هي أمر يتضمنه الشاهد للمشهود له، فله أن لا يتضمن/ذلك. وقد يحتمل غير هذا أيضا، فيكون قوله: " أشهد على هذا غيري " (أي) أنا الإمام والإمام ليس من شأنه أن يشهد إنما من شأنه أن يحكم. وفي قوله: "أشهد على هذا غيري" دليل على صحة العقد.
المعتصر من المختصر من مشكل الآثار (2/ 64)ليوسف بن موسى بن محمد الحنفي (المتوفى: 803هـ)عالم الكتب، بيروت:
"أكل ولدك نحلته مثل هذا" قال: لا قال: "أيسرّك أن يكونوا لك في البر سواء" قال: بلى قال: "فاشهد على هذا غيري" وهذا وعيد ظاهره أمر وباطنه زجر كقوله تعالى: {اعْمَلُوا} وفي بعضها قال: "لا أشهد إلا على حق" يعني: أن الداعي إلى التقصير في حق الأب ضد للحق الذي ينبغي أن يجري عليه الأمور وفي بعضها: "فلا تشهدني إذا فإني لا أشهد على جور" وهذا يدل على أن قوله: "أشهد على هذا غيري" ليس على الإباحة بل هو تقريع وأهل العلم مختلفون في العدل بين الأولاد فقال بعضهم:
على التسوية بين الذكر والأنثى منهم أبو يوسف وبعضهم يجريه مجرى الإرث منهم محمد بن الحسن والأول أولى لأن البر المطلوب من الأولاد إلى الأب على التسوية بين الذكر والأنثى فكذا البر من الأب يكون بمقابلته على السوية قال الطحاوي: ولم يتفق في شيء من هذه الآثار أن للوالد إذا وهب هبة لولده تمت منه له أن يرجع فيها ولا أن يبطلها وإن كان قد خالف فيها ما أمر به من المساواة بين أولاده وبالله التوفيق.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 444) دار الفكر-بيروت:
ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
21/محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


