| 84402 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
اگر کوئی کسی تین طلاق یافتہ عورت کے لیے حیلہ حلالہ کرنا چاہے تواس سے ایمان کے ارکان پوچھے،اگر وہ یاد ہوں تو نماز کے ارکان پوچھے ،اگر وہ بھی یاد ہوں تو مذہب امام احمد رحمہ اللہ تعالی کے مطابق کہ اس میں اللہ تعالی کی معرفت ذات وصفات کے ساتھ فرض اور شرط ایمان ہے ، اس سے پوچھے کہ اللہ کی ذات وصفات کیا اور کونسے ہیں؟ اگر وہ نہ بتاسکے تو نکاح جدید کریں، تاکہ بغیر معروف تحلیل کے نکاح جدیدہوسکے۔ کیا اس کی کوئی حقیقت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس قسم کے حیلوں سےتحلیل شرعی کا حکم باطل نہ ہوگا۔(امداد الفتاوی:ج۲،ص ۳۹۴)لہذاایسی عورت جب تک شرعی طریقہ کار کے مطابق پہلےشوہر کی عدت گزارنےکےبعد،کسی دوسرے شوہر کے نکاح میں جاکر اس سےصحبت نہ کرلےاور بعد از صحبت طلاق یا موت کی صورت میں عدت گزار نہ لے اس کے لیے پہلے شوہر سے نکاح حرام ہوگا۔
حوالہ جات
رد المحتار - (ج 12 / ص 11)
( لا بملك يمين ) لاشتراط الزوج بالنص ، فلا يحلها وطء المولى ولا ملك أمة بعد طلقتين ، أو حرة بعد ثلاث وردة وسبي ونظيره من فرق بينهما بظهار ، أو لعان ثم ارتدت وسبيت ثم ملكها لم تحل له أبدا ( والشرط التيقن بوقوع الوطء في المحل ) المتيقن به ، فلو كانت صغيرة لا يوطأ مثلها لم تحل للأول وإلا حلت وإن أفضاها بزازية .
( قوله : لا بملك يمين ) عطف على قوله بنكاح نافذ ( قوله : لاشتراط الزوج بالنص ) أي في قوله تعالى { حتى تنكح زوجا غيره } فإنه جعل غاية لعدم الحل الثابت بقوله تعالى { فلا تحل له } ۔۔
( قوله : لم تحل له أبدا ) أي ما لم يكفر في الظهار ويكذب نفسه أو تصدقه في اللعان ح فوجه الشبه بين المسألتين أن الردة واللحاق والسبي لم تبطل حكم الظهار واللعان كما لم تبطل حكم الطلاق
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۲محرم۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


