| 84390 | روزے کا بیان | نذر،قضاء اور کفارے کے روزوں کا بیان |
سوال
زید نے سعودیہ میں رمضان شروع کیا پاکستان سے ایک دن پہلے ،پھر ۲۵ رمضان کو زید پاکستان آگیا اور مسافر ہونے کی وجہ سے ایک روزہ چھوڑ دیا، بعد ازاں پاکستان کے مطابق آخر رمضان تک روزے رکھے ، مہینہ تیس دن کا ہوا، چنانچہ باوجودایک روزہ چھوڑنے کے ، زید کے بھی تیس روزے ہو گئے۔سوال یہ ہے کہ آیازید پر اس چھوڑے ہوئے روزے کی قضالازم ہو گی یا نہیں؟ ( جس کو ملا کر اکتیس روزے بن جائیں گے)۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سفر میں جوروزہ زید نے نہیں رکھا ہے، اس کی قضاء زید کے ذمہ لازم ہے،اس لیے کہ وہ روزہ رکھنا اس کے ذمہ مستقل طور پر لازم تھا،اور آخری روزہ بھی پاکستان میں رمضان کا مہینہ موجود ہونے کی وجہ سےاس کے ذمہ رکھنا لازم تھا،لہذا وہ آخری روزہ ،پہلے چھوڑے ہوئے روزے کامتبادل نہیں بن سکتا ہے،اگرچہ مجموعی روزے تیس ہوگئے ہوں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 384):
لو صام رائي هلال رمضان وأكمل العدة لم يفطر إلا مع الإمام لقوله - عليه الصلاة والسلام - «صومكم يوم تصومون وفطركم يوم تفطرون» رواه الترمذي وغيره والناس لم يفطروا في مثل هذا اليوم فوجب أن لا يفطر نهر۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
22/محرم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


