03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مقلد امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے حکم
84438نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے کالج کی مسجد میں غیر مقلدامام ہے،ظہر کی نمازوہاں پڑھتاہوں، پوچھنایہ ہے کہ کیا غیر مقلدامام کی اقتداء میں میری نماز ہوجاتی ہے ؟ اگرنہیں ہوتی تو اب تک جو پڑھی ہے اس کاکیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

غیرمقلد امام کی اقتداءمیں نمازپڑھنےسےحتی الامکان اجتناب ہی کرناچاہئے،اسکےبجائےکسی ایسےشخص کوامام بناناچاہئےجو صحیح العقیدہ ہونےکےعلاوہ متبعِ سنت،متقی وپرہیزگارہواورنمازکےضروری مسائل سےواقف ہواوراس کی قراءت بھی درست ہو،تاہم اسکےباوجوداگرکسی موقع پرغیرمقلدامام کی اقتداءمیں نمازپڑھنےکی نوبت آجائےتواس میں یہ تفصیل ہے کہ:

(الف)جس غیرمقلد امام کے بارے میں یہ یقین یاظن غالب ہو کہ وہ حنفیوں کے مذہب کے مطابق ، پاکی ناکی کےمسائل کا خیال نہیں رکھتا  مثلاً خون نکل کر بہہ جانے کی صورت میں نماز کے لئے  وضو  نہیں کرتا، اسی طرح کپڑے کی جرابوں پر  مسح کرتا ہے  اس کے پیچھے نماز ادا نہیں ہوتی  ۔

(ب)اوراگرکسی غیرمقلدامام کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ حنفیوں کے مذہب کے مطابق ، پاکی ناکی کےمسائل کا خیال رکھتا ہے  اس کے پیچھے نمازبلاکراہت ادا ہو جاتی ہے ۔

(ج)اور جس کے بارے میں یقین سے یہ بات معلوم نہ ہو کہ وہ حنفیوں کے مذہب کے مطابق ، پاکی ناپاکی کےمسائل کا خیال رکھتا ہے یا نہیں ،بلکہ شک ہو تو اس کے پیچھے نماز ادا کرنے سے بچنا چاہئے لیکن مجبوری کی صورت میں (جہاں  قریب میں دوسری جماعت میسّر نہ ہو )تنہا   نماز پڑھنے سے اس تیسری صورت میں مذکور امام کی اقتدا میں نمازپڑھنا بہرحال بہتر ہے ۔ (تبویب  دارلعلوم کراچی: ۱۱۲۶ / ۳۱) 

حوالہ جات

فی الدر المختار - (ج 1 / ص 563):

لكن في وتر البحر إن تيقن المراعاة لم يكره أو عدمها لم يصح إن شك كره.

فی الفتاوى الهندية - (ج 1 / ص 84):

والاقتداء بشافعي المذهب إنما يصح إذا كان الإمام يتحامى مواضع الخلاف بأن يتوضأ من الخارج النجس من غير السبيلين كالفصد وأن لا ينحرف عن القبلة انحرافا فاحشا هكذا في النهاية والكفاية في باب الوتر ولا شك أنه إذا جاوز المغارب كان فاحشا كذا في فتاوى قاضي خان ولا يكون متعصبا ولا شاكا في أيمانه وأن لا يتوضأ في الماء الراكد القليل وأن يغسل ثوبه من المني ويفرك اليابس منه وأن لا يقطع الوتر وأن يراعي الترتيب في الفوائت وأن يمسح ربع رأسه هكذا في النهاية والكفاية في باب الوتر ولا يتوضأ بالماء القليل الذي وقعت فيه النجاسة كذا في فتاوى قاضي خان ولا بالماء المستعمل هكذا في السراجية وذكر الإمام التمرتاشي عن شيخ الإسلام المعروف بخواهر زاده أنه إذا لم تعلم منه هذه الأشياء بيقين يجوز الاقتداء به ويكره كذا في الكفاية والنهاية.

فی البحر الرائق - (ج 4 / ص 228):

 تقدم عن المجتبى أنه إن كان مراعيا للشرائط والأركان عندنا فالاقتداء به صحيح على الأصح ويكره وإلا فلا يصح أصلا.

سیدحکیم شاہ عفی عن

دارالافتاء جامعۃ الرشید

24/محرم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب