| 84439 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
جب ضرورت کے وقت میں غیرمقلدامام کی اقتداءمیں نماز پڑھتاہوں رفع یدین نہیں کرتا،جبکہ امام رفع یدین کے ساتھ نماز پڑھاتاہے ،اس میں میرے لیے کیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تکبیرِتحریمہ کے وقت رفع یدین کی مشروعیت پر اور سجدہ کرتے وقت اور اس سے اُٹھتے وقت رفع یدین کے متروک ہونے پر ائمہِ اربعہؒ کا اتفاق ہے،البتہ رکوع کے لیے جاتے ہوئے اور اس سے اُٹھتے ہوئے رفع یدین کرنے میں علماء کا اختلاف ہے،شافعیہؒ،حنابلہؒ اور محدثین کی ایک بڑی جماعت ان دو مواقع پر بھی رفع یدین کے قائل ہے ،جبکہ احنافؒ،مالکیہؒ اور دوسرے ائمہؒ ان دو مواقع میں ترکِ رفع یدین کو ترجیح دیتے ہیں،اس لیے حنفی کے لیے ان مواقع میں رفع یدین کرنا خلافِ اولیٰ عمل ہوگا۔ لہذا آپ کی نماز رفع یدین والے امام کے پیچھے(جبکہ مذکوربالادیگرشرائط بھی ہوں) بغیر رفع یدین کی بھی ہوجائے گی ،رفع یدین میں آپ کےلیے ان کی اقتداء ضروری نہیں ہے۔
معارف السنن (453،2):
فاعلم أن رفع اليدين في الصلاة ثبت في مواضع كما سيأتي ذكرها، و اتفقوا في استحباب الرفع في تكبيرة الإحرام، و نقل ابن المنذر وغيره الإجماع فيه كما حكاه شارح ’’المهذب‘‘ ،،،إلى قوله: وكذلك اتفق الجمهور على عدم استحبابه فيما عدا المواضع الثلاثة،أي: فيما بين السجدتين وبعد الركعتين، و في كل خفض و رفع،وإن كانت فيها روايات،واختلفوا في الرفع عند الركوع وبعده،وأصبح رفع اليدين عنوانا لهذه المسألة الخلافية المشهورة بين الأمة،فقال أبو حنيفة و أصحابه بترك الرفع فيهما،وهي رواية ابن القاسم عن مالك،واختاره المالكية، وقال الشافعي وأحمد بالرفع فيهما، وهي رواية عن مالك أيضا.
واضح رہے کہ ائمہ اربعہ کے درمیان یہ اختلاف محض افضلیت اور عدمِ افضلیت کا ہے نہ کہ جواز اور عدمِ جواز کا جہاں تک احادیث کا تعلق ہے حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رفعِ یدین اور ترکِ رفعِ یدین دونوں ثابت ہیں۔احناف رحمہم اللہ عدمِ رفع یدین کو مندرجہ ذیل روایات کی وجہ سے ترجیح دیتے ہیں ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت:
سنن الترمذي (1 / 343):
عن علقمة، قال: قال عبد الله بن مسعود: ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة.
حضرتِ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ک"کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی طرح نماز پڑھ کے نہ دیکھاؤ؟پھر انہوں نے نماز پڑھی تو صرف پہلی مرتبہ (تکبیرِ تحریمہ کے وقت)ہاتھ اٹھائے".
حضرت براء بن عازبؓ کی روایت:
سنن أبي داود (1 / 200):
عن البراء، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «كان إذا افتتح الصلاة رفع يديه إلى قريب من أذنيه، ثم لا يعود».
حضرتِ براء ؓسے مروی ہے ک" رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تھے تو دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے تھے پھر ہاتوں کو دوبارہ نہیں اٹھاتے تھے۔".
حضرت ابن عباس ؓؓکی روایت:
مصنف ابن أبي شيبة (1 / 214):
عن ابن عباس قال: «ترفع الأيدي في سبع مواطن، إذا رأى البيت، وعلى الصفا والمروة، وفي جمع، والعرفات، وعند الجمار».
حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کی حدیث ہے جسے طبرانی نے مرفوعاً اور ابن شیبہ نے موقوفاً روایت کیا ہے۔اور صاحب ہدایہ نے بھی اسی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اس حدیث میں سات مقامات میں ہاتھ اٹھانے کا حکم ہے تکبیرِ افتتاح کا تو اس میں ذکر ہے لیکن رکوع اور رفع من الرکوع کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
حضرت عباد بن زبیر ؓ کی روایت:
اخرجه البيهقي في الخلافيات:(1/404):
"ان رسول الله صلي الله عليه وسلم كان اذا افتتح الصلواة رفع يديه في اول الصلواة ثم لم يرفعها في شئ حتي يفرغ"
"بیشک رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تھے تو نماز کی شروع میں دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے اس کے بعد کسی موقع پر ہاتھوں کو نہیں اٹاتے تھے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے تھے"
مذکرہ چندروایات بطورنمونہ پیش کی گئی ہیں،ان کے علاوہ دوسرے متعدد روایات بھی موجود ہیں،جن تفصیل حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب زید مجدہم کی تقریردرسِ ترمذی جلد نمبر۲ صفحہ۲۶ میں موجود ہے وہاں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
.
سیدحکیم شاہ عفی عن
دارالافتاء جامعۃ الرشید
24/محرم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


