حج بدل :
حج کرانے والے کو آمر (یعنی حکم کرنے والا) کہتے ہیں اور جو دوسرے کے حکم سے حج بدل کرتا ہے اس کو مامور کہتے ہیں۔
مسئلہ: ہر شخص اپنے عمل کا ثواب کسی دوسرے شخص کو (خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ) بخش سکتا ہے۔ وہ عمل عام ہے، چاہے روزہ ؔ، نمازؔ، زکوٰةؔ، حجؔ ، صدقہ ہو یا کوئی اور عبادت۔( الدر المحتار: ۴/ ۱۲۔۱۴،دارالمعرفة، بیروت)
کن عبادات میں نائب بنایا جا سکتا ہے؟
عبادات کی تین قسمیں ہیں:
1:۔عبادات ِ مالیہ، جیسے: زکوٰة، صدقۂ فطر۔ یہ نائب کے ذریعہ ادا کی جا سکتی ہیں، چاہے ضرورت کی وجہ سے نائب مقرر کرے یا بلا ضرورت۔
2:۔عباداتِ بدنیہ، جیسے: نماز، روزہ۔ یہ نائب کے ذریعہ ادا نہیں کی جا سکتیں۔
3:۔عبادتِ مالیہ اور بدنیہ دونوں سے مرکب، جیسے: حج۔ یہ نائب کے ذریعہ سے صرف اس وقت ادا کی جا سکتی ہے جب وہ شخص جس پر حج فرض ہو خود ادا کرنے پر قادر نہ ہو۔ اگر خود قادر ہو تو پھر دوسرے سے نہیں کرا سکتا۔( التنویر وشرحہ: ۴/ ۱۶،۱۷)
نفل حج و عمرہ میں بہر حال نیابت جائز ہے؟
نفل حج اور نفل عمرہ دوسرے سے بہر صورت کرانا جائز ہے، چاہے کرانے والا خود قادر ہو یا نہ ہو۔( الغنیة: صـ:۳۲۰)
حج بدل کرانا یا وصیت کرنا کس پر واجب ہے؟
جس شخص پر حج فرض ہو گیا اور ادا کرنے کا وقت ملا لیکن ادا نہیں کیا اور بعد میں ادا کرنے پر قدرت نہیں رہی، عاجز ہو گیا تو اس پر کسی دوسرے سے حج کرانا فرض ہے، خواہ اپنی زندگی میں کرائے یا مرنے کے بعد حج کرانے کی وصیت کر جائے، اگر زندگی میں نہ کرا سکا تو اس پر وصیت واجب ہے اور اگر شرائط ِ وجوب ِ حج تو پائے گئے لیکن حج کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا زمانہ شروع ہونے سے پہلے انتقال کر گیا یا حج کو جاتے ہوئے راستہ میں انتقال کرگیا تو اس کے اوپر سے حج ساقط ہو گیا، اس صورت میں اس پر حج کرانے کی وصیت واجب نہیں۔
یہ اس وقت ہے جب زمانۂ حج شروع ہونے سے پہلے یا اسی سال راستہ میں انتقال ہو گیا ہو، اگر اس سال زندہ رہا، بعد میں انتقال ہوا یا دوسرے، تیسرے سال حج کو جاتے ہوئے انتقال ہوا تو وصیت واجب ہو گی۔( الشامیة: ۴/ ۹۰،دارالمعرفة، بیروت)
حج بدل کی شرائط:
حج نفل دوسرے شخص سے کرانے کے لیے حج کرنے والے میں صرف اہلیت یعنی اسلام، عقل اور تمییز ہونا کافی ہے اور کوئی شرط نہیں،( الغنیة: صـ ۳۳۶) البتہ حج فرض کسی دوسرے سے کرانے کے لیے چند شرطیں ہیں، اگر ان شرائط کے بغیر حج فرض دوسرے سے کرایا جائے گا تو ادا نہ ہو گا۔ شرائط درجِ ذیل ہیں۔( غنیة الناسک صـ ۳۲۰ إلی ۳۳۶)
1:۔جو شخص اپنا حج کرائے اس پر حج فرض ہو، یعنی حج کے مصارف کے بقدر مال ہو اور صحیح وتندرست بھی ہو، پس اگر کسی معذور نے حج فرض ہونے سے پہلے حج کرا دیا اور بعد میں مالدار ہو گیا تو پھر دوبارہ حج کرانا فرض ہے۔ پہلا حج نفل ہو گا، فرض نہ ہو گا۔
2:۔حج فرض ہونے کے بعد خود حج کرنے سے تنگدست ہوجانے کی وجہ سے یا کسی مرض کی وجہ سے عاجز ہو جائے، اگر کسی نے حج فرض ہونے کے بعد عاجز ہونے سے پہلے حج کرایا اور پھر عاجز ہو گیا تو حج فرض ادا نہیں ہوا، دوبارہ کرانا واجب ہے۔
3:۔موت کے وقت تک عاجز رہنا، اگر مرنے سے پہلے عذر جاتا رہا اور خود قادر ہو گیا تو خود حج کرنا واجب ہو گا، البتہ اگر ایسا عذر ہو کہ جو اکثر دور نہیں ہوتا جیسے کوئی نابینا ہو اور حج بدل کرادے، پھر اگر آنکھیں قدرتاً اچھی ہو جائیں تو اب خود حج کرنا واجب نہ ہو گا۔
تنبیہ: یہ حکم اس شخص کا ہے جو اس طرح اندھا ہو گیا ہو کہ اب بینائی لوٹنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ اگر موتیا وغیرہ سے اندھا ہوا ہے اور بینائی لوٹنے کا امکان ہو تو یہ عذر نہ ہوگا، اگر آنکھیں ٹھیک ہو گئیں تو خود حج کرنا واجب ہوگا۔
4:۔اگر خود زندہ ہو اور عذر کی وجہ سے حج نہ کر سکتا ہو تو دوسرے شخص کو اپنی طرف سے حج کرنے کا حکم کرنا۔ اگر مر گیا ہو اور حج کرانے کی وصیت کر گیا ہو تو وصی یا وارث کا حکم کرنا شرط ہے، اس صورت میں مأمور کے حج کرنے سے آمر کا ذمہ فارغ ہو جائے گا۔ اگر میت نے وصیت نہیں کی اور پھر وارث یا اجنبی نے اس کی طرف سے خود حج کر لیا یا کسی سے کروا دیا تو فرض اداء ہوجانے کی اُمید کی جاسکتی ہے۔
5:۔مصارف ِ سفر میں حج کرانے والے کا روپیہ صرف ہونا۔ اگر حج کرنے والے نے اپنا روپیہ خرچ کیا تو خود اس کا حج ہو گا۔ حج کرانے والے کا نہ ہو گا، البتہ اگر زیادہ روپیہ حج کرانے والے کا صرف ہوا اور کچھ تھوڑا سا روپیہ حج کرنے والے نے اپنا صرف کیا تو آمر کی طرف سے فرض حج اداء ہو جائے گا۔ اسی طرح جو مال دوسرے کو حج کرنے کے لیے دیا گیا تھا وہ مصارف حج کے لیے کافی تھا، اس نے وہ صرف نہیں کیا، سارے مصارف اپنے مال سے برداشت کیے اور بعد میں حج کرانے والے کے مال سے لے لیے تو حج کرانے والے کا حج فرض ادا ہو جائے گا۔
6:۔اِحرام کے وقت اٰمر کی طرف سے تعیین کر لی تو حج اٰمر کی طرف سے ہوگا اور اگر افعال حج شروع کرنے کے بعد اس کی طرف سے نیت کی تو آمر کا حج فرض نہ ہو گا اور آمر کا خرچہ واپس کرنا لازم ہو گا۔
تنبیہ: زبان سے یہ کہنا کہ فلاں کی طرف سے اِحرام باندھتا ہوں افضل ہے، ضروری نہیں، دل سے نیت کرنا کافی ہے۔
تنبیہ: اگر آمر کا نام بھول گیا تو صرف آمر کی طرف سے نیت کر لینا کافی ہے۔
تنبیہ: اگر حج بدل کرنے والے نے فرض حج کی نیت کی یا فرض یا نفل کی کچھ نیت نہیں کی، صرف حج کی نیت کی تو آمر کا حج فرض ادا ہو جائے گا اور اگر نفل کی نیت کی تو حج فرض ادا نہ ہو گا۔
7:۔صرف ایک شخص کی طرف سے حج کا اِحرام باندھنا لازم ہے، اگر دو شخصوں سے روپے لیے (اگرچہ والدین ہوں) اور ان دونوں کی طرف سے اِحرام باندھ کر حج کیا تو دونوں میں سے کسی کا بھی حج نہ ہوگا۔ حج اس کرنے والے کی طرف سے ہو جائے گا۔ اور ان دونوں کا روپیہ واپس کرنا پڑے گا۔
مسئلہ: اگر کسی شخص نے حکم کے بغیر تبرعاً دو اجنبی آدمیوں کی طرف سے یا اپنے والدین کی طرف سے ایک اِحرام میں نیت کی تو اِحرام کے بعد افعال حج شروع کرنے سے پہلے یا بعد میں اگر کسی ایک کے لیے اس حج کو مخصوص کردے تو درست ہے۔ اس صورت میں حج خود کرنے والے کا ہوگا اور ان دونوں کو ثواب پہنچ جائے گا۔
8:۔صرف ایک حج کا اِحرام باندھنا لازم ہے، اگر پہلے کسی شخص کی طرف سے اِحرام باندھا اور پھر دوسرا اِحرام اپنی طرف سے باندھ لیا تو آمر کا حج نہ ہوگا جب تک دوسرے اِحرام کو ترک نہ کرے گا۔
9:۔خود مامور کا آمر کی طرف سے حج کرنا لازم ہے، اگر آمر نے کسی خاص شخص کو متعین کیا ہو تو اگر مامور کسی عذر کی وجہ سے بھی دوسرے شخص سے حج کرائے گا تو آمر کی طرف سے حج نہ ہو گا اور دونوں ضامن ہوں گے۔ ہاں اگر آمر نے اختیار دیا ہو کہ خود کرنا یا کسی سے کرا دینا تو ہو جائے گا اور آمر کے لیے مناسب بھی یہی ہے کہ مامور کو اختیار دے دے تاکہ مامور عذر کے وقت دوسرے سے کرا سکے۔
تنبیہ: متعین کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کہے کہ ’’میری طرف سے فلاں حج کرے، کوئی دوسرا نہیں‘‘ یا یہ کہے کہ ’’میری طرف سے صرف فلاں ہی حج کرے‘‘ تو اس صورت میں اس معین شخص کے سوا کسی دوسرے کا حج کرنا جائز نہ ہوگا، اگر صرف کسی کا نام لیا ہو اور یہ نہ کہا ہو کہ کوئی دوسرا نہ کرے تو اس صورت میں کوئی اور بھی کر سکتا ہے۔
مسئلہ: اگر کسی نے وصیت کی کہ فلاں میری طرف سے حج کرے (یعنی صرف نام لیا ہو کسی اور کی نفی نہ کی ہو) اور فلاں نے حج کرنے سے انکار کیا اور وصی نے کسی دوسرے سے حج کرایا تو جائز ہے اور اگر انکار نہیں کیا اور پھر بھی کسی دوسرے سے کرایا تب بھی جائز ہے۔
10:۔وصیت کی صورت میں آمر کے وطن سے حج کرنا لازم ہے، بشرطیکہ تہائی مال میں گنجائش ہو، ورنہ میقات سے پہلے جہاں سے ہو سکے وہاں سے کرا دیا جائے، اگر تہائی مال اتنا بھی نہ ہو تو وصیت باطل ہے۔
a سواری پر حج کرنا ضروری ہے، بشرطیکہ تہائی مال میں گنجائش ہو، اگر کسی نے پیدل حج کیا تو آمر کا حج ادا نہ ہوگا۔ یہ حج مامور کی طرف سے ادا ہو گا اور اس پر روپے کی واپسی بھی واجب ہو گی۔ ہاں اگر خرچ کم ہو گیا اور پھر پیدل چلا تو جائز ہے۔
تنبیہ: یہ حکم جب ہے جب آمر کی طرف سے صراحةً پیدل حج کرنے کی اجازت نہ ہو، اگر ہو تو پھر سواری پر حج کرنا ضروری نہیں، اگر پیدل کر لیا تو بھی آمر کی طرف سے ادا ہو جائے گا۔
تنبیہ: خرچ میں اور سواری پر جانے میں اکثر کا اعتبار ہے، اگر اکثر روپیہ آمر کا خرچ کیا یا اکثر راستہ سواری پر چلا تو فرض ادا ہو جائے گا، ورنہ نہیں۔
11:۔آمر نے حج یا عمرہ جس چیز کا حکم کیا ہے اس کے لیے سفر کرنا لازم ہے، اگر حج کا حکم کیا تھا لیکن مامور نے اوّل عمرہ کیا، پھر میقات پر لوٹ کر اسی سال یا آئندہ سال حج کا اِحرام باندھا تو آمر کا حج نہ ہوگا۔
12:۔آمر کی طرف سے اس کی میقات سے اِحرام باندھنا ضروری ہے۔ اگر مأمور نے میقات سے عمرہ کا اِحرام باندھا اور مکہ معظمہ جا کر آمر کی طرف سے حج کا اِحرام باندھا اور حج کر لیا تو آمر کا حج ادا نہ ہو گا۔
13:۔آمر کے حکم کے مطابق عمل کرنا لازم ہے، اگر آمر نے افراد یعنی صرف حج کا حکم کیا تھا اور مأمور نے تمتع کیا تو مخالف ہو گا اور ضمان واجب ہو گا اور حج مأمور کا ہو گا۔ اسی طرح اگر قران کیا تو بھی مخالف ہو گا اور ضمان دینا ہو گا، البتہ قران آمر کی اجازت سے کرنا جائز ہے لیکن دَم قران اپنے پاس سے دینا ہوگا۔ آمر کے روپے سے دینا جائز نہیں اور تمتع کرنا اجازت سے بھی جائز نہیں، اگر اجازت سے تمتع کرے گا تو گو مأمور پر ضمان نہ ہو گا، لیکن آمر کا حج ادا نہ ہو گا۔
تنبیہ: بعض معتبر اہل فتویٰ کی رائے یہ ہے کہ حج بدل میں تمتع و قران دونوں آمر کی اجازت سے کرنا درست ہے، نیز یہ حضرات یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس زمانہ میں دلالةً آمر کی طرف سے تمتع و قران اور دَم شکر کا اذن ثابت ہے، لہٰذا صراحةً اجازت کی بھی ضرورت نہیں، معہٰذا صراحةً اجازت لینا بہتر ہے۔
وہو مختار شیخنا المفتی الأعظم رشید أحمد رحمہ ﷲ تعالیٰ (أحسن الفتاویٰ: ۴/ ۵۲۳)
لہٰذا اس قول پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اکثر اہلِ تحقیق کے قول پر عمل کیا جائے اور حج بدل میں تمتع نہ کیا جائے۔
14:۔مامور کا حج کو فاسد نہ کرنا۔ اگر وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کر کے حج فاسد کر دیا تو آمر کا حج ادا نہ ہوگا اور ضمان واجب ہو گا اور فاسد کی قضا اپنے مال سے واجب ہو گی اور حج قضاء بھی مامور کا اپنا ہی ادا ہو گا۔ آمر کا حج اس سے ادا نہ ہو گا، اگر آمر کے لیے حج کرنا چاہے تو اور حج کرنا ہو گا۔
مسئلہ: اجرت پر حج کرنا، کرانا جائز نہیں، اس لیے ایسے الفاظ سے حج کا حکم نہ کرے کہ جس سے اجارہ سمجھا جائے، لیکن اگر کسی نے اجرت پر حج کیا تو حج آمر کا ہی ہو گا اور مأمور سے حج کے مصارف کے علاوہ اجرت واپس لی جائے گی، ہاں ورثہ سب بالغ ہوں اور واپس نہ لینا چاہیں تو اور بات ہے۔( الشامیة: ۴/ ۲۲)
جس شخص نے اپنا حج نہیں کیا اگر وہ کسی دوسرے کی طرف سے حج کرے تو حج ہو جائے گا لیکن خلاف ِ اولیٰ ہے۔( الغنیة: صـ: ۳۳۷)
عورت کو مرد کی طرف سے یا عورت کی طرف سے حج بدل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ محرم ساتھ ہو اور شوہر اجازت دے، مگر حج بدل مرد سے کرانا افضل ہے۔ عورت کے لیے بھی افضل یہ ہے کہ حج بدل کسی مرد سے کرائے۔( الغنیة: صـ: ۳۳۷)
مسئلہ: ایسے شخص سے حج کرانا افضل ہے جو عالم با عمل اور مسائل سے خوب واقف ہو اور اپنا حج فرض پہلے کر چکا ہو۔
مسئلہ: مراہق (یعنی جو قریب البلوغ ہو) سے حج کرانا جائز ہے، بشرطیکہ ہوشیار ہو اور مسائل و احکام کو سمجھتا ہو،( الغنیة: صـ ۳۳۶) لیکن مراہق سے حج کرانے میں بعض فقہاء کا اختلاف ہے اس لیے احتیاط یہ ہے کہ مراہق سے حج نہ کرایا جائے۔
مسئلہ: ریل، موٹر، ہوائی جہاز، بحری جہاز پر حج بدل کے لیے سفر کرنا جائز ہے، البتہ اگر آمر اعلیٰ درجہ کی سواری کا خرچ دے تو مامور کے لیے مکروہ اور نا پسندیدہ ہے کہ کم درجے کی سواری پر حج کے لیے سفر کرے۔( الغنیة: صـ: ۳۳۱)
مسئلہ: جس سال آمر نے حج کا حکم کیا مأمور نے اس سال حج نہیں کیا بلکہ دوسرے سال کیا تو آمر کا حج ہو جائے گا اور مأمور پر ضمان واجب نہ ہو گا، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسی سال ادا کرے۔( الغنیة: ص: ۳۳۴)
مسئلہ: افضل یہ ہے کہ مامور حج سے فارغ ہو کر آمر کے وطن لوٹ آئے، اگر مکہ مکرمہ میں رہ گیا تب بھی کچھ حرج نہیں۔( الغنیة: صـ: ۳۳۹)
مسئلہ: ایک مرتبہ فرض حج ادا کرنے کے بعد پھر نفل حج کی بجائے کسی دوسرے کی طرف سے اور خصوصاً والدین کی طرف سے حج بدل کرنے کا ثواب زیادہ ہے، حدیث میں ہے کہ اگر کسی دوسرے کی طرف سے حج کرے تو اسے سات حج کرنے کا، والدین کی طرف سے کرے تو دس حج کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اس کا نفع متعدی ہے۔( الغنیة: ص: ۳۳۷)
مفتی محمد
رئیس دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی


