03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خرید و فروخت کے معاملہ میں تخلیہ کی حقیقت
84479خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر کوئی شخص ایک ملک سے مال خرید کر دوسرے ملک میں فروخت کرے اور خود تیسرے ملک میں موجود ہو (آج کل اس طرح  کی بیع و شراء کا عام معمول بن چکا ہے)، تو جس وقت مشتری نے  بائع سے مال خرید لیا اور اسی وقت بائع نے اس  کا تخلیہ کر دیا  ،اس طور پر کہ اسے اپنے بقیہ مال سے بالکل الگ کرکے رکھ دیااور انوائس مشتری کے نام بنادی ،تو کیا مشتری جو اس وقت کسی تیسرے ملک میں ہے،   کے لیے یہ مال آگے فروخت کرنا جائز ہو گا،یا   پہلے کسی کو وکیل بالقبض بنانا ضروری ہو گا؟ اگر تخلیہ کو حکمی قبضہ قرار دیتے ہوئے مشتری کو آگے مال فروخت کرنے کی اجازت دی جائے، تو اس صورت میں تخلیہ کی تعریف اس مال پر صادق  نہیں آتی، اس لیے کہ تخلیہ کی تعریف یہ  ہے کہ مشتری اور بائع کے درمیان حائل رکاوٹ اس طرح ختم ہو جائے کہ مشتری اس مال پر تصرف کی قدرت رکھ سکے۔تخلیہ کی تعریف سے معلوم ہوا کہ مشتری کا اس مال پر تصرف کی قدرت رکھنا ضروری ہے، تو جب مشتری خود کسی تیسرے ملک میں ہو، تو اس مال پر اس کا تصرف کی قدرت کیسے پائی جائے گی ؟حالانکہ وہ تو کسی تیسرے ملک میں ہے اور مال الگ ملک میں ہے،لہذا اس بارے میں تسلی بخش جواب مطلوب ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خرید و فروخت کا معاملہ کرتے وقت تخلیہ کے تحقق  میں دو باتوں کا پایا جانا ضروری ہے: ایک یہ کہ بائع مشتری کو مبیع پر قبضہ کی اجازت دے، دوسری یہ کہ قبضہ کرنے میں کوئی مانع  اور رکاوٹ نہ ہو۔ موانع قبض تین ہیں:۱۔ بُعدِ مبیع ، یعنی مبیع کا مشتری سے اتنا دور ہونا کہ بائع کی اجازت کے باوجود مشتری اس پر قبضہ نہ کرسکے۔ ۲۔ عدم تمییز ، یعنی مبیع کا بائع کی ملک کے ساتھ اس طرح   مخلوط ہونا کہ وہ ممتاز نہ ہوسکے۔ ۳۔ مشغولیت، یعنی مبیع کا بائع کی ملک کے ساتھ  مشغول ہونا، مثلا بائع نے گھر بیچا ، لیکن اس کا سامان اس میں رکھا ہوا تھا۔ اگر تخلیہ کے وقت ان تینوں موانع میں سے کوئی ایک بھی مانع  پایا جائے ، تو تخلیہ متحقق نہ ہوگا۔

لہذا سوال میں ذکر کردہ  صورت کے مطابق اگر بائع نے مشتری کومبیع  کاتخلیہ اس طرح  کرادیا  کہ اسے اپنے دیگر اموال سے الگ کرکے رکھ دیا ، جبکہ مشتری کسی دوسرے ملک میں ہے، نیز بائع کے پاس مشتری کا وکیل بالقبض بھی موجود نہیں  ، تو بُعدِ مبیع کی وجہ سے تخلیہ متحقق نہ ہوگا اور نہ اسے شرعا تخلیہ کہا جاسکتاہے، اگر مشتری اسے اپنا تخلیہ قرار دے کرمال آگے فروخت کرے گا، تو بیع قبل القبض کی وجہ سے  معاملہ جائز نہ  ہوگا۔

اس معاملے میں بیع قبل القبض کی شرعی اعتبار سے جو  خرابی پائی جارہی ہے ، اسے  ختم کرنے کا ایک طریقہ  یہ ہے کہ مشتری  کسی شخص کو اپنا وکیل بالقبض بناکر اس مال پر قبضہ کروائے، یا پھر بائع  کے  اسٹوریا گودام میں ایک متعین جگہ کرایہ پر لےلیں، جس میں وہ اپنا مال رکھواسکے،   اس صورت میں  مبیع کو بائع کے کہنے پر اس کی بتائی ہوئی اور کرایہ پر لی ہوئی جگہ پر پہنچانے کی  بناء پر قبضہ ہو جائے گا ۔اس کے بعد جب مشتری    دوسرے ملک میں کسی کو فروخت کرنا چاہے، تو  خود فروخت کرے اور مال پہنچانے والی کمپنی کے ذریعے سے مشتر ی  ثانی تک پہنچائیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/562و 561):

ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح.....

مطلب في شروط التخلية وحاصله: أن التخلية قبض حكما لو مع القدرة عليه بلا كلفة لكن ذلك يختلف بحسب حال المبيع، ففي نحو حنطة في بيت مثلا فدفع المفتاح إذا أمكنه الفتح بلا كلفة قبض، وفي نحو دار فالقدرة على إغلاقها قبض...

(قوله: بلا مانع) بأن يكون مفرزا غير مشغول بحق غيره، فلو كان المبيع شاغلا كالحنطة في جوالق البائع لم يمنعه بحر...

(قوله: ولا حائل) بأن يكون في حضرته. اهـ. ح وقد علمت بيانه. (قوله: أو كان بعيدا) أي وإن قال: خليت إلخ كما مر والمراد بالبعيد ما لا يقدر على قبضه، بلا كلفة، ويختلف باختلاف المبيع كما قررناه.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 75):

قال: "ومن أسلم في كر فأمر رب السلم أن يكيله المسلم إليه في غرائر رب السلم ففعل وهو غائب لم يكن قضاء" لأن الأمر بالكيل لم يصح لأنه لم يصادف ملك الآمر، [لأن] حقه في الدين دون العين فصار المسلم إليه مستعيرا للغرائر منه وقد جعل ملك نفسه فيها فصار كما لو كان عليه دراهم دين فدفع إليه كيسا ليزنها المديون فيه لم يصر قابضا. ولو كانت الحنطة مشتراة والمسألة بحالها صار قابضا لأن الأمر قد صح حيث صادف ملكه لأنه ملك العين بالبيع، ألا ترى أنه لو أمره بالطحن كان الطحين في السلم للمسلم إليه وفي الشراء للمشتري لصحة الأمر.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 55):

 (المادة 263) تسليم المبيع يحصل بالتخلية وهو أن يأذنالبائع للمشتري بقبض المبيع مع عدم وجود مانع من تسليم المشتري إياه.

و فی شرح المجلۃ للأتاسی: یعنی أن التخلیۃ بین المشتری و المبیع تقوم مقام القبض الحقیقی اذا کانت علی وجہ یتمکن فیھا المشتری من القبض ، بعد أن یکون اذن لہ البائع بقبضہ ، و فی مجمع الأنھر عن الأجناس: یعتبر فی صحۃ التسلیم  ثلاثۃ معان:  أن یقول "خلیت بینک و بین المبیع، و أن یکون المبیع بحضرۃ المشتری علی صفۃ یتأتی فیہ النقل من غیر مانع، وأن یکون مفرزا غیر مشغول بحق غیرہ....

متی وجدت التخلیۃ علی الوجہ المذکور فی المادۃ السابقۃ، صار المشتری قابضا وان لم یقبضہ حقیقۃ، لأن تمکنہ من القبض باذن البائع عدم الموانع والحائل قائم مقام القبض الحقیقی۔

صفی اللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

25/محرم ا لحرام/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صفی اللہ بن رحمت اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب