| 83544 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میری بیٹی مسمى سلمى مصباح رضائے الہی سے انتقال کرگئی جس کا صرف ایک بیٹا ہے اور اولاد نہیں ۔میری بیٹی کا حق مہر دس تولہ سونا اور دوکمرے کا مکان ہے۔اسی طرح دیگر گھریلو سامان (جہیز وغیرہ )بھی ہے۔
مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے تقسیم وراثت کس طرح ہوگی۔ جبکہ میری بیٹی کی وصیت بھی ہے کہ میرا مہر صدقہ کر دینا۔لہذا ہمیں قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔
تنقیح:مرحومہ کے شوہر اور والدین بھی حیات ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ کے ترکہ میں سے پہلے مرحومہ کاقرضہ اداکیاجائےگا،پھر اگرمرحومہ نے کسی کے لیے اپنے مال میں سے وصیت کی ہے تو کل ترکے کے ایک تہائی حصے تک وہ پوری کی جائے گی۔ اس کےبعدموجود ورثہ میں میراث تقسیم کی جائےگی۔لہذا کل ترکہ کی محتاط اندازے سے قیمت لگا کر اس کل مالیت کا ایک تہائی وصیت کے مطابق صدقہ کر دیا جائے۔اگرچہ مرحومہ نے کل مہر کے صدقہ کی وصیت کی تھی لیکن شرعا کل مال کے ایک تہائی میں وصیت کا نفاذ ہوتا ہے۔البتہ کل مالیت میں مہر کا حصہ ایک تہائی یا کم ہو تو پورا مہر صدقہ کیا جا سکتا ہے۔وصیت کی ادائیگی کے بعد بقیہ بچ جانے والے مال کوموجودورثہ(ایک بیٹا، شوہر، والدین) میں بطورمیراث تقسیم کیا جائےگا۔
فیصدی اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو 25فیصد،والدکو16.666 فیصد ، والدہ کو16.666 فیصد ، بیٹے کو41.666 فیصد حصہ ملے گا۔لہذا کل مال کو مذکورہ تناسب سے تمام ورثہ میں تقسیم کر لیا جائے۔
نقشہ برائے تقسیم میراث:
|
نمبر شمار |
ورثہ |
فیصد |
|
1 |
شوہر |
25% |
|
2 |
والد |
16.666% |
|
3 |
والدہ |
16.666% |
|
4 |
بیٹا |
41.666% |
حوالہ جات
قال الله تعالى عز و جل:ﵟوَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰاجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗﵞ [النساء: 12]
قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى:(والربع للزوج) فأكثر، ...... (مع أحدهما) أي الولد أو ولد الابن (والنصف له عند عدمهما) فللزوج حالتان: النصف، والربع. (الدر المختار:512)
قال العلامة الزيلعي رحمه الله تعالى: (وعصبها الإبن، وله مثلا حظها) معناه :إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات ،فيكون للإبن مثل حظ الأنثيين ؛لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} .(تبيين الحقائق: 233/6)
قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى(وللاب والجد) ثلاث أحوال:الفرض المطلق وهو (السدس) وذلك (مع ولد أو ولد ابن) والتعصيب المطلق عند عدمهما، والفرض، والتعصيب مع البنت أو بنت الابن.(الدرالمختار:762) قال جمع من العلماء رحمهم الله تعالى: وأما الربع ففرض صنفين فرض الزوج إذا كان للميت ولد أو ولد ابن ،وفرض الزوجة أو الزوجات إذا لم يكن للميت ولد ولا ولد ابن وأما الثمن ففرض الزوجة أو الزوجات إذا كان للميت ولد أو ولد ابن .(الفتاوى الهندية : 500/6 )
ہارون عبداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
17 شعبان1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ہارون عبداللہ بن عزیز الحق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


