| 83015 | دعوی گواہی کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
میں سعودیہ میں رہتا ہوں۔یہاں میرا ایک کمرے کے دوست سے کسی بات پر جھگڑا ہوا اور میں نے غصے میں آکر قرآن اٹھا کر قسم کھا لی کہ میں نے یہ کام نہیں کیا۔حالانکہ میں نے ہی وہ کام کیا تھا جس کی وجہ سے ہماری لڑائی ہو رہی تھی۔میرے قسم اٹھانے کے بعد لڑائی تو ختم ہو گئی لیکن بعد میں مجھے بہت دکھ اور غم ہوا کہ میں نے بہت بڑا گناہ کر لیا ہے۔براہ کرم مجھے بتائیں میں کیا کفارہ ادا کر سکتا ہوں اس قسم کی تلافی کے لیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت میں جھوٹی قسم کھانا انتہائی نا پسندیدہ اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔اور پھر قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھانے سے تو اس کی شناعت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ حدیث شریف میں جھوٹی قسم کو شرک وغیرہ کے بعدبڑا اورسنگین گناہ کہاگیا ہے۔تاہم جھوٹی قسم پر مستقل طور پر کوئی کفارہ نہیں البتہ صدق دل سے توبہ استغفارکیاجائے، اللہ سے خوب عاجزی و انکساری سےسچے دل سے معافی مانگی جائے اورآئندہ کے لیے اس طرح نہ کرنے کا عزم کرلیا جائے۔اور اس قسم کے نتیجے میں اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو اس کی تلافی کرلی جائے اور ممکن حد تک صدقہ کر لیا جائے۔
حوالہ جات
قال الله تعالى عز و جل: {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ} [الحج: 30]
روى الإمام بخاري رحمه الله تعالى عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا أنبئكم بأكبر الكبائر، قلنا: بلى، يا رسول الله، قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وكان متكئا فجلس، فقال: ألا وقول الزور وشهادة الزور، ألا وقول الزور وشهادة الزور، فما زال يقولها حتى قلت: لا يسكت.(صحيح البخاري:8/ 4)
قال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى:أما يمين الغموس فهي الكاذبة قصدا في الماضي والحال على النفي أو على الإثبات ،وهي الخبر عن الماضي أو الحال فعلا أو تركا متعمدا للكذب في ذلك مقرونا بذكر اسم الله تعالى نحو أن يقول: والله ما فعلت كذا وهو يعلم أنه فعله، أو يقول: والله لقد فعلت كذا وهو يعلم أنه لم يفعله، أو يقول: والله ما لهذا علي دين وهو يعلم أن له عليه دينا، فهذا تفسير يمين الغموس.(بدائع الصنائع :3/ 3)
قال مجموعة من المؤلفين رحمهم الله تعاّلى: وكفارة شهادة الزور وغيرها من المعاصي هي التوبة إلى الله عز وجل، وإذا ترتب عليها ضرر في حق آدمي فيجب تحلله منه، قال البيجرمي الشافعي في حاشيته: ويشترط في توبة معصية قولية القول ،فيقول: قذفي باطل وأنا نادم عليه ولا أعود إليه، ويقول في شهادة الزور: شهادتي باطلة وأنا نادم عليها، والمعصية غير القولية يشترط في التوبة منها إقلاع عنها وندم عليها وعزم أن لا يعود لها، ورد ظلامة آدمي إن تعلقت به.(فتاوى الشبكة الإسلامية:18/ 78)
ہارون عبداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
19رجب 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ہارون عبداللہ بن عزیز الحق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


