| 83010 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ احمد جو فوت ہو چکا ہے ۔اس کی ایک بیوی ،تین بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں تو ان سب میں مال کس طریقے سے تقسیم ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے ترکہ میں سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو ) اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،تیسرے نمبر پر اگرمرحوم نے کسی کے لیے اپنے مال میں وصیت کی ہو تو ایک تہائی تک اسے اداکیاجائے،اس کےبعدموت کے وقت موجود ورثہ میں میراث تقسیم کی جائےگی۔موجودہ صورت میں مرحوم کےمال میں سابقہ تینوں حقوق اداکرنےکےبعدموت کے وقت موجودورثہ(ایک بیوی ،تین بیٹےاور سات بیٹیاں) میں میراث کی تقسیم کی جائےگی۔
فیصدی اعتبارسے زوجہ کا حصہ 12.5 فیصد،ہر ایک بیٹے کا حصہ 13.5 فیصد اور ہر ایک بیٹی کا حصہ 6.7 فیصدہو گا۔لہذا کل مال کو مذکورہ تناسب سے تمام ورثہ میں تقسیم کر لیا جائے۔
نقشہ برائے تقسیم میراث:
|
نمبر شمار |
ورثہ |
فیصد |
نمبر شمار |
ورثہ |
فیصد |
|
1 |
زوجہ |
12.5% |
2 |
پہلا بیٹا |
13.5% |
|
3 |
دوسرا بیٹا |
13.5% |
4 |
تیسرا بیٹا |
13.5% |
|
5 |
پہلی بیٹی |
6.7% |
6 |
دوسری بیٹی |
6.7% |
|
7 |
تیسری بیٹی |
6.7% |
8 |
چوتھی بیٹی |
6.7% |
|
9 |
پانچویں بیٹی |
6.7% |
10 |
چھٹی بیٹی |
6.7% |
|
11 |
ساتویں بیٹی |
6.7% |
|
|
|
حوالہ جات
قال الله تعالى عز و جل:ﵟيُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَتۡ وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصۡفُۚ[النساء: 11] ﵟوَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗﵞ [النساء: 12]
قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل، والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد (والربع للزوج) فأكثر. (الدر المختار:512)
قال العلامة الزيلعي رحمه الله تعالى: (وعصبها الإبن، وله مثلا حظها) معناه :إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات ،فيكون للإبن مثل حظ الأنثيين ؛لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} .(تبيين الحقائق: 233/6)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: للبنات ستة أحوال: ثلاثة تتحقق في بنات الصلب، وبنات الابن وهي النصف للواحدة والثلثان للأكثر وإذا كان معهن ذكر عصبهن ...... وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهما، والزوجات والواحدة يشتركن في الربع والثمن وعليه الإجماع.(رد المحتار :515/10)
قال جمع من العلماء رحمهم الله تعالى: وأما الربع ففرض صنفين فرض الزوج إذا كان للميت ولد أو ولد ابن ،وفرض الزوجة أو الزوجات إذا لم يكن للميت ولد ولا ولد ابن وأما الثمن ففرض الزوجة أو الزوجات إذا كان للميت ولد أو ولد ابن .(الفتاوى الهندية : 500/6 )
ہارون عبداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
20 رجب1445 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ہارون عبداللہ بن عزیز الحق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


