03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرسہ کے سفیرکو ملنے والے ہدایا کا حکم
84571جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

کسی شخص کو ایک ادارے نے اپنا قاصد بناکر کہیں بھیجاہے جیسے کہ پہلے زمانے میں خلیفہ اپنے کسی عامل کو زکوة کی وصولی کےلیے بھیجتاتھا ،اگراس قاصد کو ان لوگوں کی طرف سے کچھ ہدایاوغیرہ مل گئے تو یہ ہدایاکس کی ملکیت ہونگے ؟ جبکہ اس کی پہچان اس ادارے کی وجہ سے ہے اورعام حالات میں اس قاصد کو وہاں کوئی پہچانتابھی نہیں ،ہم نے حدیث  ابن اللتبیۃ  میں پڑھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کو ہدایا اپنی ملکیت میں لینے سے منع فرمایاتھا ۔

توسوال یہ ہے کہ یہ ہدایااس ادارے کی ملکیت ہونگے یا اس قاصد کے ہونگے ؟بینوا توجروا.

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسلمانوں کے لیے کام کرنے والے کو فقہاء  کرام نے قاضی کے قائم مقام کرکے اس لیے ہدایا کا وہی حکم لکھاہے جوقاضی کے لیے ہے، اس بناء پر سب سے بہترصورت تویہ ہے کہ کہ کام(چندہ ) کرنے والے سفیر کوچونکہ اجرت  ادارہ کی طرف سے ملتی ہے،لہذااس کے علاوہ کسی قسم کا ہدیہ وہ قبول نہ کرے یا قبول کرکے مدسہ کے فنڈ میں داخل کرے،الایہ  کہ سفیر کے قریبی رشتے دار  یا ایسے  دوست کی طرف سے ہوجوان کے سفیر بننے سے پہلے سے ان کوہدیہ دیتےہو اگر ایسے لوگ حسب عادت ہدیہ پیش کریں  تو اس کے قبول کرنے میں  حرج نہیں۔

 تاہم قاضی کو دیے جانے والے ہدیہ اورسفیرکو دیے جانوے والے ہدیہ  میں یہ فرق ہے کہ قاضی والے   ہدیہ میں رشوت کا احتمال  ہے،جبکہ سفیر والے میں یہ احتمال موجود نہیں،البتہ یہ احتمال  ہے کہ یہ چندہ  ہےیا ذاتی ہدیہ کے قبیل سے ہے تو اگریہ بالکل چندہ سے ممتاز ہو اوریقین ہو کہ یہ چندہ نہیں، محبت کی وجہ سے دیاجانے والاہدیہ ہے تو اس کی فی الجملہ سفیر کےلیے گنجا ئش ہوگی اوراگریقین ہوکہ چندہ کے قبیل سے ہے یا شک  ہوتو پھرمدرسہ کے فنڈمیں داخل کیاجائےگا ۔ اوراگرمدرسہ  کی طرف سے پہلے سے  سفیر کو ہدایالینے کی اجازت دی گئی ہوتو پھریہ ہدیہ  بلاشبہ سفیر کا ہوگا۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 272)

 وكل من عمل للمسلمين عملا حكمه في الهدية حكم القاضي.

وفی البخاری:

عن عروۃ قال اخبرنا ابو حمید الساعدی قال استعمل النبی صلی اﷲ علیہ وسلم رجلاً من بنی اسد یقال لہ  ابن اللتبیۃ علی صدقۃ فلما قدم قال ھذا لکم وھذا اھدی لی فقام النبی صلی اﷲ علیہ وسلم  علی المنبر قال سفین ایضاً فصعد المنبر فحمد اﷲ واثنیٰ علیہ ثم قال ما بال العامل  نبعثہ فیاتی فیقول ھذا لک وھذالی فھلا جلس فی بیت ابیہ او امہ فینظر اھدی لہ  ام لا الخ (بخاری شریف ص ۱۰۶۴ ج۲، کتاب الاحکام باب ھدایا العمال)

وفی الھدایة:

ولا یقبل ھدیۃ الا من ذی رحم محرم او ممن جرت عادتہ قبل القضاء بمھاد اتہ لان الاول صلۃ الرحموالثانی لیس للقضاء بل جری علی العادۃ وفیما وراء ذلک یصیر اکلاً بقضائہ حتی لو کانت للقریب خصومۃ لا یقبل ھدیتہ‘ وکذا اذا زاد المھدی علی المعتاد اوکانت لہ خصومۃ لانہ لا جل القضاء فیخا ماہ (ھدایہ اخیرین ص ۱۱۹ ج۳ ص ۱۲۰، کتاب ادب القاضی) (در مختار ورد المختار ص ۴۳۰، ص۴۳۱ ج۴، کتاب القضاء مطلب فی ھدیۃ القاضی)

وفی حاشیہ البخاری:

وفیہ ان ما اھدی الی العمال خدمۃ السلطان بسبب السلطنۃ انہ لبیت المال، الآ ان الا مام اذا اباح لہ قبول الھدیۃ لنفسہ فھو یطیب لہ کما قال صلی اﷲ علیہ وسلم لمعاذرضی اﷲ عنہ وقد طیبت لک الھدیۃ فقبلھا معاذ واتی بما اھدی الیہ رسول اﷲ صلی واﷲ علیہ وسلم فوجدہ‘ قد توفی فاخبر بذلک الصدیق فاجازہ‘ (بخاری شریف ص ۱۰۶۴ج۲ حاشیہ کتاب الا حکام باب ھدایا العمال)

وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 9):

ومنها: أن لا يقبل الهدية من أحدهما، إلا إذا كان لا يلحقه به تهمة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 373):

وكذا قوله وكل من عمل للمسلمين عملا حكمه في الهدية حكم القاضي اهـ. مطلب في حكم الهدية للمفتي واعترضه في البحر بما ذكره الشارح عن التتارخانية وبما في الخانية من أنه يجوز للإمام والمفتي قبول الهدية وإجابة الدعوة الخاصة ثم قال إلا أن يراد بالإمام إمام الجامع: أي وأما الإمام بمعنى الولي فلا تحل الهدية فلا منافاة وهذا هو المناسب للأدلة؛ ولأنه رأس العمال قال في النهر: والظاهر أن المراد بالعمل ولاية ناشئة عن الإمام أو نائبه كالساعي والعاشر ا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 373)

ومن العمال مشايخ الأسواق والبلدان، ومباشرو الأوقاف وكل من يتعاطى أمرا يتعلق بالمسلمين انتهى قال م ر في شرحه: ولا يلحق بالقاضي فيما ذكر المفتي والواعظ، ومعلم القرآن والعلم؛ لأنهم ليس لهم أهلية الإلزام، والأولى في حقهم إن كانت الهدية، لأجل ما يحصل منهم من الإفتاء والوعظ والتعليم عدم القبول ليكون علمهم خالصا لله تعالى، وإن أهدي إليهم تحببا وتوددا لعلمهم وصلاحهم فالأولى القبول وأما إذا أخذ المفتي الهدية ليرخص في الفتوى فإن كان بوجه باطل فهو رجل فاجر يبدل أحكام الله تعالى، ويشتري بها ثمنا قليلا، وإن كان بوجه صحيح فهو مكروه كراهة شديدة انتهى، هذا كلامه وقواعدنا لا تأباه، ولا حول ولا قوة إلا بالله وأما إذا أخذ لا ليرخص له بل لبيان الحكم الشرعي، فهذا ما ذكره أولا وهذا إذا لم يكن بطريق الأجرة بل مجرد هدية؛ لأن أخذ الأجرة على بيان الحكم الشرعي لا يحل عندنا، وإنما يحل على الكتابة؛ لأنها غير واجبة عليه.

وفی فتاوی جامعة الرشید:

اگردیا گیا ہدیہ چندے سے پوری طرح ممتاز ہواوردینے والے کے بارے میں یہ یقین ہو کہ اس نے دلی محبت کی بناء پر دیاہے تو ایساہدیہ لینے میں کوئی حرج نہیں ،اگرشک ہو چندہ یاہدیہ ہونے میں تو ایسا ہدیہ قبول کرنے سے گریزکیاجائے ،یاپھر چندہ میں جمع کردیاجائے۔

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

24/01/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب