| 84414 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
ایک سال پہلے بیوی کے ساتھ ویڈیو کال کرتے ہوئے میں نے اس سے کچھ کرنے کو کہا، لیکن اس نے انکار کر دیا اور کہنا نہیں مانا ، میں نے ناراض ہو کر فون بند کر دیا، پھر دوبارہ کال پر بات ہوئی تو میں نے ٖغصہ میں کہا کہ" تو آزاد ہے تو آج سے میری بات ماننا یا مت ماننا تیری مرضی ہے"لیکن اب مجھے یاد نہیں کہ میں آیا نے ایسا کہا بھی کہ نہیں ؟دوسرے مجھے خدا کی قسم یہ نہیں پتہ تھا کہ اس سے طلاق ہو جاتی ہے، نہ ہی وہم وگمان میں تھا، اور نہ ہی میری طلاق کی نیت تھی ۔پھر مجھے یاد آیا کہ یہ لفظ میں نےفلاں فلاں وقت بھی کہا ہے، ایک مفتی صاحب نے کہا ہے کہ ایسے میں اپنی بیوی سے پوچھو ، میری بیوی بہت نیک ہے اور وہ مسلسل انکار کررہی ہے کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا اور اس نے ایسا کچھ نہیں سنا ہے، لیکن مجھے شک ہے کہ شاید میں نے اسے یہ لفظ کہا ہے ۔ مفتی صاحب زندگی اجیرن بن گئی ہے، گھٹ گھٹ کر زندگی گزار رہا ہوں ، کبھی خود کشی کا خیال آتا ہے ، مسلسل شک میں مبتلا ہوں کہ میں نے کہا ہے یا نہیں یا کتنی بار کہا ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ جملہ "تو آزاد ہے تو آج سے میری بات ماننا یا مت ماننا تیری مرضی ہے "سے طلاق کا مفہوم نہیں لیا جاسکتا کیونکہ یہاں اس سے یہ مراد ہوتا ہے کہ تم اپنے معاملات میں آزاد ہو، خود مختار ہو یا اپنی پسند ،نا پسند میں آزاد ہو ،نا کہ ازدواجی تعلق ختم کرنا مراد ہو تاہے ۔
چنانچہ صورت مسؤولہ کے مطابق آپ کو یہ الفاظ کہنے یا نہ کہنے یا کئی دفعہ کہنے میں شک و وسوسہ کا سامنا ہے تو یاد رہے کہ شریعت میں شک کی کوئی حیثیت نہیں جب تک یقین نہ ہو، طلاق واقع نہیں سمجھی جائے گی ۔ آپ کا نکاح برقرار ہے اس لیے اطمینان رکھیں ،نیز جیسا کہ آپ کی بیوی مسلسل انکار کر رہی ہے کہ آپ نے یہ الفاظ نہیں کہے تو ایسے میں شک کی کیفیت سے چھٹکارا پانے کے لیے بیوی کی بات پر اعتماد کرنا درست ہے ۔ اس سب کے باوجود بھی اگر شک کی کیفیت ختم نہ ہو اور ذہنی اذیت کا باعث بن رہی ہو تو احتیاطاً تجدید نکاح کرلیں ،یعنی میاں بیوی دو گواہوں کے سامنے نئے مہر کے ساتھ ایجاب وقبول کرتے ہوئے نیا عقد نکاح کرلیں۔ اور آئندہ سختی سے ایسے الفاظ کے استعمال سے اجتناب برتیں۔
حوالہ جات
(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، باب الكنايات ، 4 ص : 530):
فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رها كردم " أي على كين سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق ،،،
الفتاوى الهندية (374/1):
الكنایات ثلاثة أقسام: ما يصلح جوابا لا غير، أمرك بيدك اختاري، اعتدي، وما يصلح جوابا وردا لا غير، اخرجي اذهبي العربي، قومي تقنعي استتري، تخمري، وما يصلح جوابا وشتها خلية، برية بنة، بتلة، بائن، حرام، والأحوال ثلاثة: حالة الرضا، وحالة مذاكرة الطلاق .... وحالة الغضب، ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية، والقول قول الزوج في ترك النية . مع اليمين ... و في حالة الغضب يصدق في جميع ذلك؛ لاحتمال الرد و السب، إلا فيما يصلح للطلاقولا يصلح للرد و الشتم."
)الصحیح لمسلم :کتاب الإیمان، باب تجاوز اللہ عن حدیث النفس والخواطر بالقلب إذا لم یستقر، حدیث: ٣٣١):
عن أبي ہریرۃ رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ تجاوز عن أمتي ما وسوست بہ صدورہا، ما لم تعمل بہ أو تتکلم˓˓
) الأشباہ والنظائر: القاعدۃ الثالثبۃ: الیقین لا یزول بالشک، ٥/ ٥٢(
’’قاعدۃ: من شک ہل فعل شیأا أم لا، فالأصل أنہ لم یفعل۔۔۔۔۔۔ ومنہا: شک ہل طلّق أم لا، لم یقع‘‘.
.( الاشباہ والنظائر ص:۵۲،قاعدۃ من شک ھل فعل ام لا ،):
ومنها:شك هل طلق أم لا لم يقع. شك أنه طلق واحدۃ أو أکثر،بنیٰ علی الأقل کما ذکرہ الإسبیجابي إلا أن یستیقن بالأکثر، أو یکون أکبر ظنه علی خلافه
بدائع الصنائع (3/199) :
ومنها عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك
(الدر المختار مع رد المحتار،باب المرتد:ج4،ص:224):
وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس...
عبدالرحمٰن جریر
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
27/محرم ا لحرام/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


