03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سعودیہ کے عالم سے مسئلہ پوچھنے پر رضاعی بہن سے نکاح کا حکم(غیر حنفی عالم سے پوچھنےپردوتین قطرے دودھ پینے کے باوجود رضاعی بہن سے نکاح کرنا)
84432نکاح کا بیاننکاح صحیح اور فاسد کا بیان

سوال

میری خالہ کا بیٹا ہے، جب وہ چھ مہینے کا تھا تو اس کی والدہ اس کو میری والدہ کے پاس چھوڑ کر بازار گئی، وہ رونے لگا تو میری والدہ نے اسے فیڈر دیا، لیکن وہ خاموش نہیں ہوا، پھر میری والدہ نے اس کے منہ میں اپنا پستان دیا تو وہ تھوڑی دیر کے بعد سوگیا۔ میری والدہ کہتی ہے کہ بچے نے دودھ تو یقینی طور پر پیا، لیکن کتنا پیا؟ یہ مجھے یقینی طور پر معلوم نہیں۔

اب جب وہ لڑکا بڑا ہوگیا تو اس کا نکاح میری چھوٹی بہن سے کرنے کا ارادہ ہوا تو ہم نے سعودیہ کے ایک مولوی صاحب سے یوٹیوب کے ذریعے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اگر دو تین قطرے گئے ہیں تو نکاح ہوسکتا ہے اور اگر پانچ چھ قطروں سے زیادہ پیا ہے تو نکاح نہیں ہوسکتا۔ اس بناء پر پانچ مئی کو ان دونوں کا نکاح کرادیا گیا اور 21 جون کو رخصتی ہوئی۔ اب ڈیڑھ ماہ بعد میری خالہ کا بیٹا کہہ رہا ہے کہ ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد بھی مجھے تسلی نہیں ہے، مجھے یہ بہن کی طرح محسوس ہورہی ہے، کچھ غلط ہوا ہے۔ لیکن میری بہن اس سے الگ ہونا نہیں چاہتی۔

سوال یہ ہے کہ یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہوا تو اب الگ ہونا ضروری ہے؟ اگر ضروری ہے تو الگ ہونے کے بعد عدت لازم ہوگی یا نہیں؟ میری خالہ کا بیٹا اور میری بہن دونوں حنفی ہیں۔ میری خالہ کا بیٹا میری والدہ کا دودھ پینے کا اقرار کرتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بالا سوال کے جواب سے پہلے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ جن مسائل میں اہل السنۃ و الجماعۃ کے چار مستند فقہی مسالک (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) میں اختلاف ہوتا ہے، ان میں ہر مسلک کے مقلدین پر اپنے مسلک کی پیروری لازم ہے، دوسرے مسلک کے عالم سے مسئلہ پوچھ کر اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ حضرات کا سعودیہ کے عالم سے یہ مسئلہ پوچھنا اور اس پر عمل کرنا جائز نہیں تھا؛ کیونکہ اس مسئلہ میں فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اختلاف ہے کہ کتنا دودھ پینے سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوگی۔ فقہ حنفی میں مطلق دودھ پینے سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، چاہے ایک قطرہ ہی کیوں نہ ہو، جبکہ فقہ شافعی میں پانچ گھونٹ سے کم میں حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب آپ کے خالہ کے بیٹے نے آپ کی والدہ کا دودھ (کم ہو یا زیادہ) پیا ہے اور وہ اس کا اقرار بھی کر رہا ہے تو وہ آپ سب بہن بھائیوں کا رضاعی بھائی ہے، آپ کی بہن سے اس کا نکاح جائز نہیں، حرام تھا، ان دونوں کا نکاح درست نہیں ہوا۔ اب ان دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے جدا ہوں، جس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کا خالہ زاد بھائی آپ کی بہن سے کہےکہ میں نے آپ کو چھوڑ دیا، یاد رہے کہ اس طرح زبانی کہنا لازم ہے، اس کے بعد آپ کی بہن عدت گزار لے، عدت کے بعد وہ جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ (باستفادۃٍ من امداد الاحکام:2/279-277)   

واضح رہے کہ نکاح سے پہلے مسئلہ کی صحیح تحقیق نہ کرنے پر لڑکا، لڑکی اور جن لوگوں نے یہ نکاح کرایا ہے وہ سب گناہ گار ہوئے ہیں، ان پر لازم ہے کہ گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کریں، آئندہ اس طرح کوتاہی سے بچنے اور شرعی مسائل کی صحیح تحقیق کرنے کا عزم کریں۔ شرعی مسائل یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز کے بجائے براہِ راست کسی مستند دار الافتاء سے معلوم کیا کریں۔

حوالہ جات

الدر المختار (3/ 212):

( ويثبت به ) ولو بين الحربيين، بزازية ( وإن قل ) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم؛ لأن في المانع شكا.  ولوالجية.

حاشية ابن عابدين (3/ 212):

قوله ( وإن قل ) أشار به إلى نفي قول الشافعي وإحدى الروايتين عن أحمد أنه لا يثبت التحريم إلا بخمس رضعات……… الخ

بدائع الصنائع (4/ 14):

 فصل: وأما بيان ما يثبت به الرضاع  أي يظهر به فالرضاع يظهر بأحد أمرين: أحدهما الإقرار والثاني البينة. أما الإقرار فهو أن يقول لامرأة تزوجها: هي أختي من الرضاع أو أمي من الرضاع أو بنتي من الرضاع ويثبت على ذلك ويصبر عليه، فيفرق بينهما؛ لأنه أقر ببطلان ما يملك إبطاله للحال،  فيصدق فيه على نفسه، وإذا صدق لا يحل له وطؤها والاستمتاع بها، فلا يكون في إبقاء النكاح فائدة، فيفرق بينهما سواء صدقته أو كذبته؛ لأن الحرمة ثابتة في زعمه….… وأما البينة فهي أن يشهد على الرضاع رجلان أو رجل وامرأتان، ولایقبل علی الرضاع أقل من ذلك ولا شهادة النساء بافرادهن، وهذا عندنا.

البحر الرائق (3/ 247):

وفي البزازية: وبثبوت حرمة المصاهرة وحرمة الرضاع لا يرتفع بهما النكاح حتى لا تملك المرأة التزوج بزوج آخر إلا بعد المتاركة وإن مضى عليه سنون اه. وقدمنا أنه لا بد في الفاسد من تفریق القاضي أو المتارکة بالقول في المدخولة، وفي غیرها یکتفی بالمفارقة بالأبدان. وينبغي أن يكون الفساد في الرضاع الطارىء على النكاح، أما لو تزوج امرأة فشهد عدلان أنها أخته ارتفع النكاح بالكلية، حتى لو وطئها يحد ويجوز لها التزوج بعد العدة من غير متاركة.

الفتاوى البزازية (2/ 7):

وبثبوت حرمة المصاهرة وحرمة الرضاع لايرتفع النكاح حتى لا تملك المرأة التزوج بزوج آخر إلا بعد المتاركة وإن مضى عليها سنون، والوطء فيه لا يكون زنا اشتبه عليه أولا.  وفي النكاح الفاسد يجوز لها التزوج بزوج آخر قبل التفربق.

الدر المختار (3/ 516):

( وعدة المنكوحة نكاحا فاسدا ) فلا عدة في باطل وكذا موقوف قبل الإجازة، اختيار، لكن الصواب ثبوت العدة والنسب، بحر، (والموطوءة بشبهة) ومنه تزوج امرأة الغير غير العالم بحالها كما سيجيء………… (وأم الولد) فلا عدة على مدبرة ومعتقة (غير الآيسة والحامل) فإن عدتهما بالأشهر والوضع (الحيض للموت) أي موت الواطىء (وغيره) كفرقة أو متاركة؛ لأن عدة هؤلاء لتعرف براءة الرحم وهو بالحيض، ولم يكتف بحيضة احتياطا (ولا اعتداد بحيض طلقت فيه) إجماعا.

رد المحتار (3/ 516):

قوله ( نكاحا فاسدا ) هي المنكوحة بغير شهود ونكاح امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة، ونكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد عنده خلافا لهما، فتح.

مطلب في النكاح الفاسد والباطل قوله (فلا عدة في باطل) فيه أن لا فرق بين الفاسد والباطل في النكاح بخلاف البيع كما في نكاح الفتح والمنظومة المحبية، لكن في البحر عن المجتبی:كل نكاح اختلف العلماء في جوازه كالنكاح بلا شهود فالدخول فيه موجب للعدة، أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لايوجب العدة إن علم أنها للغير؛ لأنه لم يقل أحد بجوازه، فلم ينعقد أصلا، فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة؛ لكونها زنا كما في القنية وغيرها، اه.

قلت: ويشكل عليه أن نكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد كما علمت، مع أنه لم يقل أحد من  المسلمین بجوازه، وتقدم في باب المهر أن الدخول في النکاح الفاسد موجب للعدة وثبوت النسب، ومثل له في البحر هناك بالتزوج بلا شهود وتزوج الأختين معا أو الأخت في عدة  الأخت ونكاح المعتدة والخامسة في عدة الرابعة والأمة على الحرة اه.

إمداد الأحكام (2/279):

(تعلیقا علی قول صاحب رد المحتار "ونكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد عنده خلافا لهما") قلت: وفي الصورة المسئولة تزوج بالمحرمة مع عدم العلم بالحرمة، فهو فاسد بالاتفاق لا باطل.

الدر المختار (3/ 522):

( و ) مبدؤها ( في النكاح الفاسد بعد التفريق ) من القاضي بينهما، ثم لو وطئها حد  جوهرة وغيرها ، وقيده في البحر بحثا بكونه بعد العدة لعدم الحد بوطء المعتدة ( أو ) المتاركة أي (إظهار العزم) من الزوج (على ترك وطئها) بأن يقول بلسانه تركتك بلا وطء ونحوه، ومنه الطلاق وإنكار النكاح لو بحضرتها وإلا لا، لا مجرد العزم لو مدخولة، وإلا فيكفي تفرق الأبدان، والخلوة في النكاح الفاسد لاتوجب العدة والطلاق فيه لا ينقص عدد الطلاق؛ لأنه فسخ، جوهرة، ولا تعتد في بيت الزوج، بزازية.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

     27/محرم الحرام /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب