| 84459 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
غالبا 1990 ع میں لب شیرین کے نام سے کاروبار شروع کیا تھا، ابا جی سیف الرحیم کے انتقال کے وقت یہ دکان نہیں تھی، ہم چھ بھائی سیف الاسلام، محمد شاکر ،محمد عارف ، عبدالرؤف ، محمد ثاقب اور مصباح الاسلام نے مل کر کاروبار شروع کیا تھا اور اس کاروبار کے لیے میں مصباح الاسلام قرض لے کر آیا تھا جو کہ آج بھی بعض قرض مجھ پر ہے۔بہر حال ہم چھ بھائی کاروبار کےمالک تھے اور باقی تین بھائی محمد فرقان ،جنید اختر اور ذبیح اللہ اس وقت غیر شادی شدہ اور چھوٹے تھے، جبکہ جنید اور ذبیح اللہ پڑھ رہے تھے، پھر چلتے چلتے سب بھائی اپنا اپنا حصہ لے کر الگ ہو گئے، آخر میں محمد ثاقب بھی اپنا حصہ 45 لاکھ لے کر کراچی چلے گئے ۔اب میں مصباح الاسلام تمام کاروبار کا مالک ہو گیا تھا، البتہ جنید اختر میرے ساتھ رہے۔ جنید اختر کی کاروبار میں مالکانہ حیثیت نہیں تھی ،بس بھائی بندی کی بنیاد پر شریک تھے اور کوئی سرمایہ بھی کاروبارمیں نہیں لگایا ۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ جنید اختر حفظ قرآن کے بعد دکان پر کام کرنے لگ گئے تھے تو شادی سے پہلے تک ماہانہ دیا جاتا تھا ،پھر شادی کے بعد سالانہ بھی مقرر کر دیا گیا تھا اور جنید اختر کو بغیر رقم شامل کیے چلتے ہوئے کاروبار میں شامل کیا گیا تھا ۔ بعض بھائی جنید کو شامل کرنے پر راضی نہیں تھے، لیکن میں نے زور دے کر راضی کیا تھا ۔اب جنید اختر نے 2023 نومبر میں اپنا معاوے کا کارخانہ کھول لیا تھا یہ کہہ کر کہ میں اپنا الگ سے کام شروع کروں گا تو مئی 2024 کو ہماری بیٹھک ہوئی، اس میں میں نے( مصباح الاسلام) کہا کہ بھائی اب چونکہ تیرا الگ کاروبار ہو گیاہے، اس لیے اب تم الگ ہو جاؤ ،میں اپنا کاروبار الگ کروں گا۔ اس پر جنید نے کہا کہ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا، میرا یہاں حق ہے ،نہیں تو میرا محنتانہ دو ۔
کارخانہ چونکہ جنید اختر کے نام کاغذات میں درج کرا دیا تھا، ملکیت کے طور پر نہیں تھا ۔جنید اختر نے اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کارخانہ کی ملکیت کا دعوی کر کے کورٹ کے ذریعے وکیل کر کے مجھے پریشان کیا ہوا ہے ،کبھی کورٹ سے لیٹر آتا ہے ،اس کا جواب دیا ،پھر دوبارہ عید کے چوتھے دن مارکیٹ تھانے سے کارندے آئے تھے، تم نے کسی کی جگہ پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے، لہذا تھانے آ کر جواب دو ۔یہ سب اس لیے کر رہا ہے کہ میرا حق محنت دو، ورنہ کارخانہ خالی کرو،جبکہ کارخانہ میں نے محمد ثاقب سے خرید لیا تھا۔
حالانکہ جنید اختر کو میں ماہانہ تقریبا 51000 ہزار روپے بجلی گیس کے علاوہ گھریلو اخراجات کےلیے دیا کرتا تھا ،اگر بجلی و گیس کو میں بھی شامل کر لیا جائے تو تقریبا 60,000 ہزارروپے ماہانہ بن جاتا تھا اور سالانہ بھی دیا کرتا تھا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ تین حصوں کو تقسیم کر کے دو حصے میرے جس میں میرے بچے بھی شامل ہوتے تھے اور ایک حصہ جنید اختر کو دیا کرتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ جنید اختر نے کاروبار میں کوئی سرمایہ نہیں لگایا ، چلتے ہوئے کاروبار میں بھائی بندی کی بنیاد پر شامل کر لیا تھا اور ماہانہ و سالانہ بھی دیتا رہا تو کیا ان کا حق محنت وصول کرنے اور کارخانے کی مدعیت کا شرعا حق بنتا ہے ؟
جنید اپنا حق لینے کا اس بنیاد پر دعوی کرتے ہیں کہ اس نے سیف الاسلام صاحب کو ان کا حصے دیتے وقت ساڑھے چار لاکھ روپے دیئےتھے جس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے ۔ایک یہ تعاون کا کہتے ہیں کہ میرا تعاون رہا اور دوسرا محمد ثاقب جب اپنا حصہ لے کے جا رہے تھے تو اس میں سالانہ جو قسط ہم دیتے تھے، اس میں سے کچھ کمی رہتی تھی تو جنید سے ہم بطور قرض کے لیاکرتے تھے۔ جنید سے جو قرض لیا وہ ہم تقریبا دے بھی چکے ہیں تو ان دو باتوں کو وہ پیش کر رہے ہیں کہ ان دو موقعوں پر میرا تعاون رہا ،اس تعاون کی بنیاد پرمیرا حق بنتا ہے اور میری رقوم سے تم نے دوکانیں خریدی ہیں ،لہذا میرا حق محنت بنتا ہے، مجھے حق محنت دیا جائے،حالانکہ میں نے تو ان پر احسان کیا، 33 سال بغیر کسی رقم لیے اپنے ساتھ رکھا ،بلکہ ان کو دیتا رہا ۔اس احسان کا تو وہ بدلہ نہ دے سکے، الٹا مجھ پراور میری جگہ پردعوی دائر کر کے مجھ سے وہ جگہ خالی کرانا چاہتاہے۔ واضح رہے کہ جنید اختر 1992 سے مئی 2024 تک میرے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔
تنقیح : سائل نے زبانی بتایا کہ ہمارے نام پرپہلے سے دکانیں موجود تھیں ، اس لیے ٹیکس سے بچنے کےلیے کارخانہ جنیداختر کے نام رجسٹر کروایا ، مالکانہ اختیار ات پہلےسائل سمیت چھ بھائیوں کے پاس اور ا ن سے خریدنے کے بعد سائل کےپاس تھے ۔مزید یہ کہ میراث تقسیم کرنے کے بعد سائل نے صرف میراث کا اپنا حصہ اس میں لگا یا تھا،مشترکہ میراث اس میں نہیں لگایا ۔ سیف الاسلام کی قسطیں سائل کے بقول مشترکہ کاروبار سے ادا کی گئ ہیں ،جبکہ جنید کے مطابق اس کے ذاتی پیسوں سے ادا کی گئی ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر یہ بات درست ہو کہ سیف الاسلام اور محمد ثاقب کی قسطیں ادا کرنے کےلیے آپ نے جنید اختر سے بطور قرض رقم لی تھی ، بطور انویسٹمنٹ نہیں اور اس کے علاوہ کوئی رقم جنید اختر نے کاروبار میں نہیں لگائی تھی تو جنید اختر کا کاروبار میں ملکیت کا دعوی درست نہیں، کیونکہ شریعت میں صرف کسی کے نام کرنے سے کارخانہ اس کی ملکیت میں نہیں آتا جب تک کہ اس کو مالکانہ اختیارات نہ دیئے جائیں، اس طرح قرض کے طور پر دی گئی رقم سے بھی ملکیت ثابت نہیں ہوتی ، ملکیت کے ثبوت کےلیے بطور انویسٹمنٹ پیسہ لگا نا شرط ہے ۔
جنید اخترصرف اجرتِ مثل کا مستحق ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو کام جنیداختر کرتا تھا اگر جنید اخترکے علاوہ کسی دوسرے آدمی سے آپ وہ کام لیتے تھے تو وہ کتنا لیتا ، اگر جنید اخترکو ماہانہ اور سالانہ دی جانے والی رقم اس کے بقدر ہے تو اس کو حق محنت کے مطالبے کا بھی حق نہیں ، لیکن اگر ماہانہ اور سالانہ ملنی والی رقم اس سے کم تھی تو جنیداختر کوصرف اس کمی کے بقدر رقم کے مطالبے کاحق ہے۔
حوالہ جات
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 17):
(سئل) في ابن كبير له عيال وكسب مات أبوه عنه وعن ورثة يدعون أن ما حصله من كسبه مخلف عن أبيهم ويريدون إدخاله في التركة فهل حيث كان له كسب مستقل يختص بما أنشأه من كسب وليس للورثة مقاسمته في ذلك ولا إدخاله في التركة؟
(الجواب) : نعم.
(سئل) في رجل ساكن في بيت أبيه في جملة عياله وصنعتهما متحدة يعينه بتعاطي أموره ولا يعرف للابن مال سابق فاجتمع مال بكسبه ويريد أن يختص به بدون وجه شرعي فهل جميع ما حصله بكسبه ملك لأبيه ولا شيء له فيه؟
(الجواب) : نعم جميع ما حصله بكسبه ملك لأبيه لا شيء له فيه حيث كان من جملة عياله والمعين له في أموره وأحواله وصنعتهما متحدة ولا يعرف للابن مال سابق؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يصنع كما صرح بذلك في الخلاصة والبزازية ومجمع الفتاوى وأفتى بذلك الخير الرملي إذا تنازع الرجل مع بنيه الخمسة وهم في دار أبيهم كلهم في عياله فقال البنون المتاع متاعنا والأب يدعيه لنفسه فإن المتاع يكون للأب وللبنين الثياب التي عليهم لا غير إلخ من القول لمن في كتاب الدعوى.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 285):
يقع كثيرا ذكره في التتارخانية وغيرها: مات رجل وترك أولادا صغارا وكبارا وامرأة والكبار منها أو من امرأة غيرها فحرث الكبار وزرعوا في أرض الغير كما هو المعتاد والأولاد كلهم في عيال المرأة تتعاهدهم وهم يزرعون ويجمعون الغلات في بيت واحد وينفقون من ذلك جملة صارت هذه واقعة الفتوى: واتفقت الأجوبة أنهم إن زرعوا من بذر مشترك بينهم بإذن الباقين لو كبارا أو إذن الوصي لو صغارا فالغلة مشتركة، وإن من بذر أنفسهم أو بذر مشترك بلا إذن فالغلة للزارعين.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 42):
وفي الأشباه: استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
29 /محرم/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


