| 84590 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص محمد حمزہ نے اپنی زمین پلاٹنگ کی اصلاح کےلیے محمد طیب کوٹھیکہ پر دی ،اور کام کے حوالے سے ہدایات دیں اور دوسری زمین دکھا کر اس کے ٹھیکہ کو اس کے کام پر موقوف کیا کہ اگر آپ کا کام ٹھیک ہوتو دوسری زمین کا معاہدہ بھی آپ کے ساتھ کریں گے،لیکن ٹھیکیدار نے دی گئی ہدایات کے برعکس کام کیا، اور مالی معاملات میں خیانت اور دھوکہ سے کام لیا،کیا اب مالک کو شرعا یہ اختیار ہے کہ وہ معاہدہ کو فسخ کرے ؟نیز دوسری زمین کا معاہدہ صرف دکھانے سے مکمل ہوا ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر اس نے ایسی خیانت کا ارتکاب کیاہے کہ زمین کے مالک کا نقصان ہورہاہو تو ایسی صورت میں مالک کےلیے معاہدہ ختم کرنا جائزہے،نیز دوسری زمین کا معاملہ بھی چونکہ مکمل نہیں ہوا ہے ،اس لیے وہ دوسری زمین اس معاہدہ میں شامل نہیں ہوگی،اور نہ اس شخص کو دوسری زمین میں کام کرنے کا اختیار ہوگا۔
حوالہ جات
البناية شرح الهداية (10/ 347) :
قال: وتفسخ الإجارة بالأعذار عندنا. ۔۔۔ولنا أن المنافع غير مقبوضة وهي المعقود عليها، فصار العذر في الإجارة كالعيب قبل القبض في البيع فتفسخ به، إذ المعنى يجمعهما وهو عجز العاقد عن المضي في موجبه إلا بتحمل ضرر زائد لم يستحق به، وهذا هو معنى العذر عندنا.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
29/محرم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


